اگر کوئی ملک اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوائے، مذہبی آزادی اور تکثیریت کا علمبردار بننے کا دعویٰ کرے، لیکن اسی سرزمین پر نفرت کو دھن، تعصب کو شاعری اور تشدد کو موسیقی کے قالب میں ڈھال کر لاکھوں لوگوں تک پہنچایا جائے تو سوال صرف اس ملک کی سیاست پر نہیں، اس کے اجتماعی ضمیر پر بھی اٹھتا ہے۔
نفرت کے ترانے، جمہوریت کا ماتم
RELATED ARTICLES



