ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسٹیڈیم میں نفرت انگیز نعرے بازی کی گئی، اشتعال انگیز یا غیر مجاز جھنڈے لہرائے گئے، یا قومی ٹیم کے خلاف نعرے لگائے گئے تو ایران میچ رکوانے کا حق استعمال کر سکتا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق وزیر کھیل احمد دنیامالی نے کہا ہے کہ ایران نے فیفا کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ ورلڈکپ کے دوران ایران کے میچوں میں اگر غیر مجاز پرچم لائے گئے یا قومی ٹیم کے خلاف نعرے لگائے گئے تو ٹیم منیجر میچ رکوانے کے لیے کارروائی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیفا حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مصر کے خلاف میچ کے دوران اسٹیڈیم میں کسی قسم کا ناخوشگوار یا خلل پیدا کرنے والا واقعہ پیش نہیں آئے گا۔ فٹبال ورلڈکپ کا آغاز کل ہو رہا ہے جبکہ ایران اپنے گروپ جی کے پہلے میچ میں 15 جون کو لاس اینجلس میں نیوزی لینڈ کا سامنا کرے گا۔ اس کے بعد ایرانی ٹیم 21 جون کو اسی مقام پر بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے گی، جبکہ 26 جون کو سیئٹل میں مصر سے مقابلہ کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور مصر کی فٹبال فیڈریشنز نے قبل ازیں فیفا سے مطالبہ کیا تھا کہ سیئٹل میں ہونے والے میچ کے دوران ایل جی بی ٹی کیو پلس (LGBTQ+) پرائیڈ سے متعلق سرگرمیوں کی اجازت نہ دی جائے۔ مقامی منتظمین نے اس میچ کو سیئٹل کے ”پرائیڈ ویک اینڈ“ کے موقع پر ”پرائیڈ میچ“ قرار دیا تھا۔ دوسری جانب رواں سال اپریل میں کینیڈا کے شہر وینکوور میں فیفا کانگریس کے باہر مظاہرین نے ایران کو ورلڈکپ سے باہر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ ایرانی ٹیم ملک کے عوام کے بجائے حکومتی اداروں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ورلڈکپ کے آغاز میں صرف ایک دن باقی رہ گیا ہے اور دنیا بھر کے شائقین کی نظریں اس بڑے ایونٹ پر مرکوز ہیں۔



