سبک دوشی بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جو زندگی میں کبھی نہ کبھی سبک دوشی کے مرحلے سے گزرا ہو اور دو روز قبل راقم کو بھی اس وقت یہ “سعادت” نصیب ہو گئی جب عصر حاضر کے ممتاز شاعر، افسانہ نگار اور نقاد پروفیسر غلام حسین ساجد نے حلقہ اربابِ ذوق کے سالانہ جلسے کی صدارت کرتے ہوئے ہمارے کندھوں سے ذمہ داریوں کا بوجھ اتار کر نئی انتظامیہ کے سپرد کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی اردو ادب کی یہ توانا روایت اپنے ستاسی ویں سال میں داخل ہو گئی۔ یہاں ہم سے مراد ہے سیکریٹری شازیہ مفتی اور راقم الحروف جو ان کے ساتھ سال بھر بطور جوائنٹ سیکریٹری ذمہ داریاں سرانجام دیتا رہا۔حلقہ ارباب ذوق لاہور کا سالانہ جلسہ گورنمنٹ کالج لاہور کے بخاری آڈیٹوریم میں منعقد کیا گیا تھا۔ جلسے میں دو سو سے زائد معزز ارکان نے شرکت کی۔ مرکزی سٹیج پر صاحب صدارت، موجودہ سیکرٹری، جوائنٹ سیکرٹری، مجلس عاملہ کے ارکان اور نئے سیکریٹری اور جوائنٹ سیکریٹری کو بٹھایا گیا تھا۔ تلاوت، نعت اور قومی ترانے سے جلسے کے آغاز کے بعد سیکریٹری شازیہ مفتی نے اپنی سالانہ کارکردگی کی جائزہ رپورٹ پیش کی جسے شرکا نے بے حد سراہا اور ہر ہر جملے پر ہال تالیوں سے گونجتا رہا۔ اس رپورٹ میں انھوں نے اپنے اجلاسوں کی تفصیل، خود کو درپیش مشکلات اور اپنی کامیابیوں کا مختصر جائزہ پیش کیا اور ان تمام ارکان کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے پورا سال انھیں ہر طرح کا تعاون فراہم کیا۔ ڈی جی پبلک لائبریریز پنجاب جناب کاشف منظور سے بطور خاص اس بات پر اظہار تشکر کیا کہ انھوں نے حلقے کے تابناک ماضی، چمکتے دمکتے حال اور روشن مستقبل کے پیش نظر قائد اعظم لائبریری کا ایک گوشہ اس مقصد کے لیے مختص کر دیا ہے کہ وہاں اردو ادب پر تحقیق کرنے والوں کے لیے حلقے کا ریکارڈ رکھا جا سکے اور ایک دیوار پر سابق سیکرٹریز اور جوائنٹ سیکریٹریز کی تصاویر آویزاں کی جا سکیں جن میں بڑے بڑے مشاہیر کے نام بھی شامل ہیں۔شازیہ مفتی کے وہ الفاظ تو کسی موسیقی سے کم نہیں تھے جو انھوں نے راقم کے شکریے کے لیے کہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”آخر میں ایک ایسے شخص کا شکریہ ادا کرنا بہت ضروری ہے جو اس سارے عرصے کے دوران میرے ساتھ دست و بازو بن کر رہا۔ میں نے جب حلقے کی سیکرٹری بننے کا ارادہ کیا تو اپنے پینل میں جوائنٹ سیکرٹری کے لیے سلمان رسول اشرف صاحب کا اس لیے انتخاب کیا تھا کہ مجھے ان کے مزاج میں اخلاص اور سنجیدگی نظر آئی تھی۔ خدا کا شکر ہے کہ میں نے ان سے جو توقعات وابستہ کی تھیں یہ ان سے کہیں بڑھ کر نکلے۔ انہوں نے ہر قدم پر میرا بھرپور ساتھ دیا۔ نہ صرف حلقے کی کارروائیاں اور رپورٹس بہت عمدہ طریقے سے مرتب کی ہیں بلکہ میرے تمام فیصلوں اقدامات اور انتظامات میں برابر کے شریک رہے۔ آج اگر میں کامیاب ہوں تو اس کامیابی میں ان کا برابر کا حصہ ہے۔جب کسی عہدے پر فائز شخص اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے بارے میں اس قسم کے جذبات کا اظہار کرے تو سمجھ لینا چاہیے کہ حق دار کو اس کا حق مل گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے صرف اپنی ذمہ داریاں ادا کی تھیں، مجھ سے کہیں بڑھ کر کام تو خود شازیہ مفتی نے کیا لیکن اگر انھوں نے میری کارکردگی کا اعتراف کیا تو یہ ان کی اعلیٰ ظرفی ہے۔ اسی اعلیٰ ظرفی نے انہیں ایک کامیاب سیشن مکمل کرنے کے قابل بنایا اور ہر شخص کو ان کی تعریف و تحسین پر مجبور کر دیا۔ سیکریٹری کی سالانہ رپورٹ کے بعد غلام حسین ساجد نے اپنے خاص عالمانہ اور نستعلیق انداز میں صدارتی خطبہ پیش کیا۔ ایسے پرلطف اور دلچسپ خطبے بھی حلقے کے ارکان کو کم ہی سننے کو ملے ہوں گے۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو ”ہم اتنے ہی پاؤں پھیلا سکتے ہیں جس قدر پاں پھیلانے کی ہمیں اجازت ہے۔ ہمیں اپنی نعمتوں اور اثاثوں سے متمتع ہونے کی آزادی ہے نہ اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کی۔ ہمیں صرف دائرے میں چلتے چلے جانے کی آزادی ہے کیونکہ دائرے میں چلنے والے کی کوئی منزل نہیں ہوتی مگر حرکت میں رہنے سے اسے یہ گمان رہتا ہے کہ اس کی منزل اب آیا ہی چاہتی ہے۔“ کچھ آگے چل کر کہا ”حلقہ اربابِ ذوق خوف سے آزادی دلانے کے سلسلے کی ایک ورکشاپ ہے۔ یہ حلقہ تخلیقی عمل کو جِلا بھی دیتا ہے اور اسی عمل میں شریک ہونے والی نئی آوازوں کی تربیت بھی کرتا ہے، تربیت کا یہ سلسلہ نامختتم عمل ہے اور مختلف حیثیتوں سے حلقے سے باون برس کی وابستگی کے بعد بھی مجھے ہر بار یہی محسوس ہوتا ہے کہ میں حلقے سے کچھ نہ کچھ سیکھ کر ہی جاتا ہوں۔“نئے سیکریٹری آفتاب جاوید نے بھی جلسے میں خیالات کا اظہار کیا۔ اپنے ارادوں سے آگاہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں قینچی سے کاٹنے والا نہیں، سوئی سے سینے والا بنوں گا۔ لوگوں کو حلقے سے دور کرنے کی بجائے قریب لاؤں گا۔ انھوں نے حلقے کی رجسٹریشن کی بحث پر تبصرہ کرتے ہوئے بہت خوبصورت اور جامع بات کی۔ کہا، جسے حلقے کی رجسٹریشن کرانا ہو وہ پہلے مینار پاکستان کی اپنے نام رجسٹریشن کرائے۔ ان کا یہ جملہ حلقے کی رجسٹریشن کا شور مچانے والوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ حلقہ عوام کی ملکیت ہے، کسی فرد واحد کی ذاتی املاک نہیں۔ہماری سبک دوشی کی اس پروقار تقریب کا اختتام محفل موسیقی کے ساتھ ہوا۔ پروفیسر ناصر بلوچ، نیلم احمد بشیر، انجم شیرازی، اسامہ عباس اور ندیم ریاض ملک نے اپنی آواز کا جادو جگا کر حاضرین کو مسحور کر دیا۔ ہم اب بھی حلقے ہی کا حصہ ہیں لیکن ذمہ داریوں کے بوجھ کے بغیر۔ یہ الگ بات کہ کچھ اور طرح کی ذمہ داریاں ہمارے کندھوں پر سوار ہونے کے لیے پہلے سے تیار کھڑی ہیں۔ بقول منیر نیازی: اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کومیں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا



