مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 130امین جانمجھ سے تھوڑا جونیئر تھا۔ نام تو پٹھانوں کا سا لیکن تھے پنجابی۔ اُن کے والد پہلے ملازمت کے دوران اُدھر ”صوابی“ صوبہ خیبر پختونخوا وغیرہ میں رہائش پذیر تھے۔ اس وجہ سے غالباًوہاں کے اثرات کے طفیل یہ نام رکھّا گیا ورنہ پنجاب میں یہ نام رائج نہیں تھا۔ پٹھان قوم کی کرختی تو دُور کی بات پنجابیوں کی سختی بھی اُس بھلے مانس میں نہ تھی۔ بس اللہ میاں کی گائے تھا۔ ساری سروس نرمی اور تابعداری میں گذری۔ نہ کبھی کسی کو شکایت کا موقع دیا۔ نہ کسی نے کبھی اُس کے کام میں کوئی کمی بیشی دیکھی۔تین چار دوستوں کا جمگھٹا اُس کے گرد ایک مستقل / دائمی صورتِ حال اختیار کر چکا تھا۔ اُس کی ایک سادہ سی مثال درج کیے دیتا ہوں۔ سبھی دوست لاہور کی کسی شاہراہ پر پیدل چلتے جا رہے ہیں۔ ”رُکو رُکو“۔ یہ پھل سے لدی ریڑھی، ”یہ گول گپّوں والا“ یہ ”چاٹ مصالحے والا“، سبھی رُک گئے۔ آرڈر دیا، سب نے پیٹ پوجا کی اور سوائے امین جان کے سبھی دوست قدم آگے بڑھا گئے. .. .. . کیونکہ یہ ایک سادگی سے بھرے امین جان کی ہی ہمیشہ ڈیوٹی ہوتی تھی کہ وہ پیمنٹ کریں۔ اللہ اللہ خیر صلاّ۔اُن کا گھر مغل پورہ گنج لاہور میں،تو وہاں دوستوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ جیسے یہ اُن کی ماسی، پھوپھی، خالہ کا گھر ہو۔ کھانا کھائیں گے، چائے پئیں گے۔ گپ شپ لگائیں اور دل کرے تو ایک دو گھنٹے سو بھی جائیں تو امین جان کو کیا اعتراض ہوگا۔ 1965ء کی جنگ میں، میں اپنی بیوی اور بچّوں کو فوراً گاؤں چھوڑ آیا اور اپنے گھر کی بجائے امین جان کے گھر کی راہ لی۔ مغل پورہ گنج کی ملحقہ آبادی کی سٹیل مل کے پاس اُدھر بڑی بڑی توپیں نصب تھیں۔ اُن میں ایک بڑی توپ کا نام تھا ”رانی“ وہ جب بھی چلتی تو دل ہلا دینے والی آواز اور آنکھیں چندھیا دینے والی روشنی آگھیرتی۔ ایک رات کئی دوست وہاں مہمان نوازی کا مزہ اُٹھا رہے تھے کہ سونے کا وقت ہوگیا۔ چارپائیاں تھوڑی تھیں اور دوست زیادہ، لہٰذا ہر چارپائی پر دو دونے سونا تھا۔ میرا قرعہ امین جان کے ساتھ نکلا۔ میں جب چارپائی پر مغربی سمت کی طرف جھکا تو امین جان رونی آواز بنائے فوراً اسرار کرنے لگا کہ میں مشرق میں واہگہ بارڈر کی طرف نہیں لیٹوں گا کہ اُدھر سے زیادہ خطرہ ہے۔ یہ تھا ہم سب کا پیارا امین جان۔ امین جان سے زندگی نے زیادہ وفا نہ کی اور وہ ریٹائرمنٹ کے بعد جلد ہی فالج زدہ ہو کر راہ ملک عدم ہوئے۔ ان للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ مغفرت کرے، کیا دھیما، رحمدل، فیاض، دوستوں کا دوست، مہمان نواز. .. .. . کیا کیا گنتا جاؤں۔ اللہ اُس کی اِس سادگی کا اجر دے اور اُسے اَجر عظیم سے نوازے۔ آمین۔ خواجہ عبد القیوم لمبے قد، خوش شکل، بھربھرے جسم والی شخصّیت، واجبی سی داڑھی چہرے پر سجائے ایک مفکّر، بذلہ سنج، روزمرّہ کے فکر و فاقہ کو پاؤں تلے روندے ایک شخص کو اگر آپ دیکھنا چاہیں گے تو وہ خواجہ عبد القیوم تھے۔ ساری زندگی ریسرچ کے شعبہ میں بھی اپنا بھرپور حصّہ ڈالا۔ اور نئی نئی راہیں تلاش کیں اور محکمانہ ترقیوں نے قدم چُومے۔ لیکن کیا مجال جو کسی مصروفیّت، کسی پھنسے ہوئے لا ینجل مسئلے سے شکستہ پا ہوئے ہوں۔ چہرے پر کبھی تفکرّات نے ڈیرہ ڈالا ہو۔ آپ کو مژمردہ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ ہمیشہ ہر رکاوٹ ناکام ہوئی اور خواجہ عبدالقیوم اُسی طرح ترو تازہ ایک دائمی مسکراہٹ سجائے نظر آئے۔ خدا مغرفت کرے عجب آزاد مرد تھا۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ گندم کے خوشے سنہری ہوچکے تھے اور آج کل میں گندم کے کھیتوں کو ہاتھ لگنے ہی والا تھا اسی لئے وہ دس پندرہ دنوں سے درانتیاں ہی تیار کرنے میں جُتا ہوا تھا
نام تھا ”رانی“ وہ جب بھی چلتی تو دل ہلا دینے والی آواز اور آنکھیں چندھیا دینے والی روشنی آگھیرتی،دوستوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا، بس اللہ میاں کی گائے
RELATED ARTICLES



