شروع دن سے فتح ٹیکنالوجی کی ہوئی ہے ۔ نہتے پر صاحب شمشیر نے فتح حاصل کی ۔ پیدل گھڑ سوار سے مات کھا گیا ۔ تلوار والے کو نیزے والے نے شکست دی اور نیزے والوں کو تیر اندازوں نے مغلوب کر دیا ۔ یہ میری رائے نہیں ہے بلکہ تاریخ کا فیصلہ ہے جس نے اس ابدی حقیقت کے سامنے سر خم تسلیم کر لیا وہ فاتح بن گیا اور جس نے تاریخ کے اس فیصلے کو جھٹلا دیا اسے مفتوح بن کر فاتح کے سامنے رسوائی کی زندگی گزارنا پڑی ۔ وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے انڈس راس ربوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹم ایکسپو کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی خود مختاری اور دفاع کو مضبوط بنانے کےلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کریں گے ۔ انہوں نے ربوٹکس اور خود کار نظام کی ترقی کےلئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور دو کروڑ ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اس تقریب میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزراءاور دیگر نے بھی شرکت کی۔ میاں صاحب نے جو بات کہی وہ ایک آفاقی سچائی کا درجہ رکھتی ہے جسے سمجھنے کےلئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں لیکن کاش یہ ابدی حقیقت اور آفاقی سچائی تین چار سو سال پہلے کے مسلم حکمرانوں کو سمجھ آ جاتی تو آج امت مسلمہ جس ذلت اور پستی کی دلدل میں زندگی گذار رہی ہے حالات اس کے بالکل بر عکس ہوتے۔ ہم فاتح عالم تھے ہندوستان کے وسیع و عریض رقبہ پر مغلوں کی مضبوط سلطنت تھی اور سلطنت عثمانیہ کی شکل میں بائیس ولایتوں پر مشتمل تین بر اعظموں پر پھیلی ایک وسیع سلطنت تھی۔ ان کے پاس نہ وسائل کی کمی تھی نہ ہی ذہین افراد کی اور نہ ہی سرمایہ کی کمی تھی لیکن حالت یہ تھی کہ ہمارے اس وقت کے حکمران سائنس اور جدید دور کے تقاضوں کو کہ جس کی بنیاد یورپ میں رکھی جا چکی تھی اس سے با خبر ہوتے ہوئے بھی بے خبر ہونے کے نا قابلِ معافی جرم کا ارتکاب کرتے رہے اور سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی مسلم معاشروں میں سائنس دوست ماحول نہ بنا سکے بلکہ اس کے بر عکس باقاعدہ سازش کے تحت مسلم معاشروں کوسائنس دشمن بنایا گیا اور ٹیلی فون سے لے کر ٹیلی وژن تک ہر چیز کو حرام قرار دینے کی دوڑ لگی رہی۔ پرنٹنگ پریس کی ایجاد سے پہلے کتابوں کی چھپائی کا کام کاتب کے مرہون منت تھا جس کی وجہ سے کتابوں کی چھپائی محدود تھی لیکن پرنٹنگ مشین کی ایجاد کے بعد ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں کتابیں مارکیٹ میں آنی شروع ہو گئیں اور یورپ میں اس وجہ سے علم کی دولت بڑی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگی لیکن اس پریس کو مسلم معاشروں تک پہنچنے میں ڈھائی تین سو سال لگ گئے اور اس عرصہ میں یورپ نے جس قدر ترقی کر لی تھی وہ فرق آج تک ختم نہیں ہو سکا بلکہ آج بھی ہمارے سائنس دشمن رویئے اس فرق کو مزید بڑھا نے کا باعث بن رہے ہیں۔ یورپ کی مائیں کوئی آسمان سے نہیں اتری ہوئیں کہ وہاں پر اعلیٰ پائے کے سائنسدان پیدا ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہی ہے کہ وہاں کے حکمرانوں نے مغربی معاشروں کو سائنس دوست بنایا ہے اور خاص طور پر وہاں کے مذہبی طبقہ نے سائنس کی ہر نئی ایجاد کو حرام قرار دے کر دشمن ماحول پیدا نہیں کیا۔ اندازہ کریں کہ ڈی این اے جیسی موجودہ دور کی اہم ترین دریافت کا اعلان ایک ہی وقت میں برطانیہ میں اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور امریکن صدر بل کلنٹن نے کیا تھا لیکن ہمیں اس کا احساس تک نہیں۔ مغل بادشاہ جہانگیر کا بیٹا بیمار ہو گیا اور شاہی طبیبوں سے لے کر مغل سلطنت میں جو بھی نامی گرامی حکیم تھے سب نے کوشش کر ڈالی لیکن شہزادے کو آرام نہ آیا تو اس زمانے میں ہندوستان میں آئی نئی نئی ایسٹ انڈیا کمپنی کے نمائندے نے بادشاہ سلامت سے برطانیہ سے آئے ڈاکٹر سے علاج کرانے کی اجازت طلب کی جو حالات کے مد نظر دے دی گئی اور ڈاکٹری ایلو پیتھک علاج سے چند دنوں میں شہزادے کی بیماری ختم ہو گئی۔ کہتے ہیں جہانگیر نے اس ڈاکٹر کو سونے میں تول کر اس کے وزن کے برابر سونا اسے انعام میں دینے کا اعلان کیا لیکن اس ڈاکٹر نے کہا کہ اسے سونا نہیں چاہئے بلکہ اس کے بدلے انگریزوںکو ہندوستان میں تجارت کی اجازت دے دی جائے تو جہانگیر نے یہ درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں ہندوستان میں تجارت کرنے کی اجازت دے دی اس اجازت کا بعد میں کیا نتیجہ نکلا یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن اس واقعہ کو بیان کرنے کا ہمارا مقصد یہ تھا کہ کسی عام آدمی کے بیٹے کی بیماری ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ وقت کے بادشاہ کے بیٹے کو صحت ملی تھی تو کسی اور شعبے میں نہیں تو کم از کم میڈیکل کے شعبہ میں تو ہندوستان کے ہر شہر میں تعلیم کے مراکز قائم ہو جانے چاہئے تھے لیکن شومئی قسمت کہ ایسا نہیں ہو سکا ۔آج سے بیس پچیس سال پہلے کی بات ہو گی کہ ایک دن ایسے ہی کیلکولیٹر لے کر ہم نے F-16کے وزن کو کلو گرام اور پھر گرام کی سطح تک لے لگے اور پھر اس کی قیمت کو جب ضرب تقسیم کے بعد حساب لگایا تو حیرت کا شدید جھٹکا لگا کہ ایف سولہ کی قیمت کم و بیش سونے کے برابر تھی تو پھر سمجھ آئی کہ امریکہ اگر سپر پاور ہے تو فقط اور فقط جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ہے ۔ ہمیں اگر اس دنیا میں فاتح اور با عزت مقام حاصل کرنا ہے تو ہر حالت میں جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنا ہو گا اور یاد رکھیں کہ جو زمانے کے ساتھ چلتا ہے وہی فاتح ہوتا ہے ۔ورنہ تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں



