75.2 F
Pakistan
Wednesday, September 9, 2026
HomeTechnologyمیٹا کی نئی اے آئی ایپلی کیشن: خودبخود ای میلز بھیجے گی،...

میٹا کی نئی اے آئی ایپلی کیشن: خودبخود ای میلز بھیجے گی، آن لائن ادائیگیاں بھی کرے گی

میٹا نے ایک نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرا دیا ہے جو صارف کی اجازت سے مختلف ایپس تک رسائی حاصل کرکے اس کی جانب سے کئی کام خود انجام دے سکتا ہے۔ ان کاموں میں ای میل بھیجنا، سفر بک کرنا، گاڑی فروخت کرنے میں مدد دینا اور ادائیگیاں کرنا شامل ہیں۔ تاہم، اس ٹیکنالوجی کی جانب سے حساس ذاتی معلومات تک رسائی اور بعض حفاظتی پابندیوں کو نظر انداز کرنے کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق میٹا کے اس نئے اے آئی ایجنٹ کا نام ”میوز“ ہے، جسے کمپنی کے اندرونی طور پر ’ہیچ‘ کہا جاتا تھا۔ یہ منصوبہ چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ کے اس بڑے تصور کا حصہ ہے جس کے تحت کمپنی اپنے اربوں صارفین کو ایسی مصنوعی ذہانت فراہم کرنا چاہتی ہے جو روزمرہ کے مختلف کام خود انجام دے سکے۔ یہ اقدام میٹا کی اس کوشش سے بھی جڑا ہوا ہے کہ کمپنی اشتہارات پر انحصار کم کرے اور اے آئی میں کی جانے والی اپنی بھاری سرمایہ کاری سے آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرے۔ کمپنی رواں سال اے آئی چپس اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر 130 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہونے کی پیش گوئی کر چکی ہے۔ صارف ’میوز‘ کو ایک الگ ایپ کے ذریعے یا واٹس ایپ پر استعمال کر سکیں گے۔ میٹا کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں اس ایجنٹ کو اپنی اسمارٹ گلاسز میں بھی شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاہم ابتدائی طور پر یہ صرف امریکا میں دستیاب ہوگا۔ کمپنی کے مطابق ’میوز‘ کا بنیادی ورژن مفت ہوگا، جبکہ زیادہ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ماہانہ 20 ڈالر اور 100 ڈالر کی سبسکرپشن بھی پیش کی جائے گی۔ صارف یہ فیصلہ بھی کر سکیں گے کہ ان کی ’میوز‘ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو میٹا کے اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جائے یا نہیں۔ کمپنی نے رواں سال کے آخر میں ’میوز‘ کا ایک انکرپٹڈ ورژن متعارف کرانے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ ’میوز‘ کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ صارف کی اجازت سے ای میل، کیلنڈر، ادائیگیوں، صحت، خریداری اور اسمارٹ ہوم سے متعلق ایپس تک رسائی حاصل کر سکے۔ صارف کسی بھی وقت دی گئی اجازت واپس لے سکتا ہے۔ اس نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ہر ’میوز‘ ایجنٹ کے لیے الگ ورچوئل مشین استعمال ہوتی ہے۔ آسان الفاظ میں یہ ایک ایسا الگ تھلگ کمپیوٹر ماحول ہے جو کلاؤڈ پر چلتا رہتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صارف ایجنٹ کو کوئی کام سونپنے کے بعد خود ایپ استعمال نہ بھی کر رہا ہو تو ’میوز‘ پس منظر میں وہ کام جاری رکھ سکتا ہے۔ یہ سہولت جہاں اے آئی ایجنٹ کو زیادہ کارآمد بناتی ہے، وہیں اس کے ممکنہ خطرات بھی بڑھا دیتی ہے۔ اگر ایک اے آئی نظام کو کسی شخص کے اصل ای میل، تصاویر، مالی معلومات یا دیگر ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل ہو تو اس کی غلطی کے نتائج عام چیٹ بوٹ کی غلطی سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ میٹا کے نائب صدر برائے اے آئی مصنوعات وشال شاہ نے رائٹرز کو بتایا کہ کمپنی نے اپریل میں اس ٹیکنالوجی کی لانچ مؤخر کردی تھی تاکہ اس کی سکیورٹی بہتر بنائی جا سکے۔ ان کے مطابق اضافی حفاظتی اقدامات کے بعد کمپنی اس نتیجے پر پہنچی کہ ’میوز‘ کو صارفین تک پہنچانے کے لیے مطلوبہ کم از کم حفاظتی معیار حاصل کر لیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ’میوز‘ میں ایک الگ اے آئی ایجنٹ بھی شامل ہے جو ’میوز‘ کی جانب سے کیے جانے والے مجوزہ اقدامات کی نگرانی کرتا ہے۔ بعض حالات میں یہ نظام میوز کو کسی کارروائی سے پہلے صارف سے اجازت لینے کے لیے کہہ سکتا ہے۔ تاہم، میٹا نے خود بھی تسلیم کیا ہے کہ کسی بھی اے آئی نظام سے غلطی کے امکان کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب میٹا کے اندرونی ٹیسٹ سے اس ٹیکنالوجی کی کارکردگی کے ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق کمپنی کے ملازمین نے حالیہ دنوں میں داخلی پیغامات کے ذریعے ’میوز‘ کے تجربات بیان کیے۔ ایک ملازم نے بتایا کہ ’میوز‘ نے چھٹیوں کے انتظامات میں اتنی مدد کی کہ وہ انڈونیشیا میں تین ہفتوں کے ہنی مون کے دوران ایک طرح سے ’’تیسرے پارٹنر‘‘ جیسا بن گیا۔ لیکن بعض ملازمین نے زیادہ سنجیدہ مسائل کی نشاندہی بھی کی۔ ایک تجربے میں اے آئی ایجنٹ نے حفاظتی پابندیوں سے بچنے کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ذاتی آئی کلوڈ تصاویر تک رسائی ظاہر کی۔ یہ تصاویر ایک بچے کی سالگرہ کی تقریب سے متعلق تھیں اور اے آئی کو ان میں نظر آنے والے کھلونوں کی شناخت کرنے کا کہا گیا تھا۔ میٹا کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر اینڈریو بوس ورتھ نے بھی داخلی پوسٹ میں بتایا کہ انہیں ’میوز‘ استعمال کرتے ہوئے بار بار لاگ آؤٹ ہونے اور دوبارہ لاگ اِن کرنے کی ضرورت پیش آ رہی تھی، بعض اوقات ایسا چند منٹ کے اندر کئی مرتبہ کرنا پڑا۔ ایک اور ملازم نے بتایا کہ جب اس نے ’میوز‘ کو تیزی سے ختم ہونے والی ٹکٹوں اور دیگر اشیا کی دستیابی پر نظر رکھنے کا کام دیا تو نظام میں کئی ایسے مسائل سامنے آئے جن کی وجہ سے وہ قابلِ اعتماد انداز میں کام نہیں کر سکا۔ ملازم کے مطابق تقریباً 15 منٹ بعد صفحہ ریفریش ہونا بند ہوگیا، بعض خرابیوں کو نظام نے خاموشی سے نظر انداز کیا اور کبھی کبھار نگرانی کا عمل بظاہر کسی وجہ کے بغیر بند ہوگیا۔ میٹا نے رائٹرز کی جانب سے ان مخصوص واقعات پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ ’میوز‘ کی لانچ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مختلف بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اے آئی ایجنٹس کے حوالے سے بھی غیر متوقع رویوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ ان واقعات نے یہ سوال مزید اہم بنا دیا ہے کہ ایسے اے آئی نظاموں کو کتنی آزادی دی جانی چاہیے، خاص طور پر جب انہیں صارف کے ذاتی ڈیٹا اور مالی معاملات تک رسائی حاصل ہو۔ میٹا کے لیے یہ منصوبہ ایک بڑے کاروباری اور تکنیکی تجربے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ’میوز‘ قابلِ اعتماد ثابت ہوتا ہے تو صارفین کے لیے یہ روزمرہ کے کئی کام خود کرانے کا نیا طریقہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر اے آئی ایجنٹ غلط فیصلے کرتا ہے، حفاظتی پابندیاں توڑتا ہے یا حساس معلومات تک غیر مناسب رسائی حاصل کرتا ہے تو اس کے اثرات بھی عام اے آئی چیٹ بوٹ کی غلطی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments