آئی بی اے کے گریجویٹ اور نوجوان تاجر میر رضا علی خان کی پراسرار موت کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تفتیش کاروں نے جائے وقوع کے قریب نصب سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے۔ آئی بی اے کے گریجویٹ اور نوجوان تاجر میر رضا علی خان کے مبینہ اغوا اور قتل کیس کی تحقیقات کے لیے کراچی پولیس نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کے بعد تعینات ہونے والے ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے تین رکنی ٹیم قائم کرتے ہوئے کیس کے ہر پہلو سے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ دوسری جانب سی سی ٹی وی فوٹیج، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں پولیس مختلف زاویوں سے تفتیش کر رہی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کے احکامات پر قائم کی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (SIU) کریں گے، جبکہ ایس ایس پی ایسٹ اور ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ ون بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ پولیس حکام کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کو کیس کے تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے چھان بین کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ٹیم ضرورت پڑنے پر کسی بھی پولیس افسر یا متعلقہ ادارے سے معاونت حاصل کرنے کی مجاز ہوگی، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر کیس کی پیش رفت سے متعلق رپورٹ ایڈیشنل آئی جی کراچی کو پیش کی جائے گی۔ اس سے قبل تفتیش کاروں نے جائے وقوعہ کے قریب نصب اہم سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی، جس میں 29 جولائی کی رات ایک مشکوک موٹرسائیکل ویران مقام پر آ کر تقریباً 22 سیکنڈ تک رکی رہی۔ تحقیقاتی ذرائع کا شبہ ہے کہ اسی مختصر وقفے کے دوران میر رضا علی کی لاش جھاڑیوں میں پھینکی گئی۔ آج نیوز کو لاش ملنے کے فوراً بعد کی ابتدائی ویڈیو بھی موصول ہوئی ہے، جس میں لاش گلنے سڑنے کی حالت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ تاہم پولیس سرجن کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق لاش کو جلائے جانے کے کوئی شواہد نہیں ملے، بلکہ شدید گرمی اور وقت گزرنے کے باعث جسم پر گلنے سڑنے کے آثار پیدا ہوئے۔ تحقیقاتی ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ کے قریب سے پستول کا ہولسٹر بھی برآمد ہوا ہے، جبکہ پوسٹ مارٹم کے بعض شواہد خودکشی کے امکان کو کمزور کرتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں میر رضا علی کو گھر سے نکلتے وقت پستول کے ساتھ اکیلے جاتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم تفتیش کو صرف ایک پہلو تک محدود نہیں رکھا جا رہا۔ پولیس نے مقتول کا موبائل فون بھی برآمد کر لیا ہے اور ابتدائی تحقیقات میں موبائل یا دیگر سامان چھینے جانے کے شواہد نہیں ملے۔ ذرائع کے مطابق میر رضا علی گھر سے نکلنے سے قبل کچھ رقم منتقل کر گئے تھے اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی ڈیلیٹ کر دیے تھے۔ پولیس نے فون ریکارڈ، رابطوں کی تفصیلات، مالی لین دین اور ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری سمیت مختلف پہلوؤں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یاد رہے کہ انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے گریجویٹ، 25 سالہ نوجوان تاجر اور ’وافلکس‘ کے بانی میر رضا علی خان 28 جولائی کی شب اپنے گھر سے یہ کہہ کر نکلے تھے کہ وہ چند منٹ میں واپس آ جائیں گے، تاہم وہ گھر نہ لوٹے۔ ان کے والد میر حسین علی کے مطابق میر رضا اس رات اپنی دکان سے واپس آنے کے بعد والدہ کو یہ کہہ کر گھر سے نکلے تھے کہ وہ صرف دس منٹ میں واپس آ جائیں گے، لیکن اس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ اگلے روز، 29 جولائی کو گلستانِ جوہر بلاک ون میں جھاڑیوں سے ان کی لاش برآمد ہوئی۔ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کی موت سینے میں ایک گولی لگنے اور زیادہ خون بہنے کے باعث ہوئی۔ ابتدا میں لاش کی حالت خراب ہونے کے باعث شناخت میں دشواری پیش آئی، جس کے بعد ان کے والد نے کپڑوں کی مدد سے اپنے بیٹے کی شناخت کی۔ تحقیقات کے دوران پولیس کو جائے وقوعہ سے تقریباً 200 گز کے فاصلے پر مقتول کا موبائل فون اور پستول کا ہولسٹر بھی ملا۔ پولیس نے آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کا بیان بھی ریکارڈ کیا، جس کے مطابق میر رضا نے 28 جولائی کی صبح 4 بج کر 9 منٹ پر پی ای سی ایچ ایس سے ٹیکسی لی تھی اور گلستانِ جوہر میں اترے تھے، تاہم وہ اپنے کاروباری مقام تک نہیں پہنچ سکے۔ میر رضا علی کے والد کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کی کسی سے دشمنی یا مالی تنازع نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میر رضا کا اگست میں نکاح طے تھا اور وہ اپنی نئی زندگی کے آغاز کے لیے بے حد پرجوش تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام دستیاب شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک رپورٹس اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہیں، جبکہ کیس کا حتمی نتیجہ مزید شواہد اور مکمل تفتیش کے بعد ہی سامنے آئے گا۔



