صرف خواتین کا ماں بننا ہی کافی نہیں، بلکہ انہیں یہ کام صحیح طریقے سے (یعنی شوہر کے ساتھ) اور صحیح وقت پر (لیٹ ٹوئنٹیز یا زیادہ سے زیادہ 30 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں) کرنا چاہیے۔ ورنہ انہیں اس بات کا خطرہ رہتا ہے کہ وہ ’فطری‘ نظام کو بگاڑ دیں اور انہیں معاشرے کے لیے ایک مسئلہ سمجھا جائے، جنہیں بالآخر جھکانے کے لیے ان کی زندگیوں میں مداخلت اور ان پر دباؤ ڈالنا ضروری سمجھا جائے۔ بہرحال، میری 30 سال سے بڑی عمر کی غیر شادی شدہ سہیلیوں سے ہونے والی گفتگو کا خلاصہ یہی ہے۔ ان میں سے بہت سی میری طرح بچوں کی خواہش کے بارے میں تذبذب کا شکار ہیں اور اگر ایسا نہ بھی ہوتا تو بھی ہمارے پاس وہ ضروری وسائل اور حالات موجود نہیں جن کی مدد سے ہم چاہنے کے باوجود ایک بچہ پیدا کر سکیں۔ اپنی موجودہ زندگیوں میں ہم اس روایتی سانچے میں فٹ نہیں بیٹھتیں جس میں ایک ماں کو دیکھا جاتا ہے۔ ہمارے پاس نہ اپنا گھر ہے، نہ شریک حیات اور نہ ہی مالی تحفظ۔ ایسے حالات میں بچوں کی خواہش کا اظہار کرنا بھی عجیب طور پر ممنوع محسوس ہوتا ہے۔ گویا ہم جیسی خواتین کو اس بارے میں سوچنے تک کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اور جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی ہے، معاشرے کے طے کردہ اصولوں سے انحراف کرنے کی یہ صورت حال مزید سنگین ہوتی جاتی ہے۔ یہ محض ہمارے وہم یا بے بنیاد خدشات نہیں ہیں، بلکہ ہمارے اردگرد کا ماحول بھی ان کی تصدیق کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 35 سال سے زیادہ عمر میں بچے پیدا کرنے والی خواتین کو اکثر شک اور حیرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، لیکن کوئی یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا کہ شاید وہ اس سے پہلے بچے پیدا کرنے کے قابل ہی نہیں تھیں۔ دوسری طرف، ایسے معاشرے میں جہاں روایتی گھریلو زندگی اور بیوی کے طور پر روایتی کردار ادا کرنے والی خواتین کو مثالی سمجھا جا رہا ہے، وہاں بچے پیدا نہ کرنے والی خواتین کو معاشرے سے کٹی ہوئی اور ناقابل قبول سمجھا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر اور مختلف لوک روایات میں بے اولاد عورتوں کو زیادہ سے زیادہ بدمزاج بڑھیا اور بدترین صورت میں چڑیل سمجھا جاتا تھا۔ کوئی بھی ایسے کردار نہیں چاہتا، لیکن معاشرہ خواتین کو انہی کرداروں میں ڈھال دیتا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب سوشل میڈیا بھی ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ اس کے الگورتھم بڑی عجیب طرح سے ہمیں یہ تصویر دکھانے کے لیے سرگرم رہتے ہیں کہ ہمیں اپنی زندگیاں کیسے گزارنی چاہییں، بجائے اس کے کہ یہ دکھایا جائے کہ ہم حقیقت میں اپنی زندگیاں کیسے گزار رہی ہیں۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ تقریباً 40 فیصد خواتین ماں بننے میں اتنی دیر کر رہی ہیں جتنی دیر وہ خود نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ مارکیٹ ریسرچ کمپنی ’جی ایف کے‘ نے آئی وی آئی انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے یہ تحقیق کی جس میں یہ بھی سامنے آیا کہ خواتین اپنی خواہش سے کم بچے پیدا کر رہی ہیں اور بچوں کی پیدائش میں اوسطاً چھ سال کی تاخیر ہو رہی ہے۔ اس سال کے آغاز میں برطانیہ کے دفتر برائے قومی شماریات کی جانب سے جاری کردہ تحقیق بھی اسی نتیجے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس کے مطابق اب خواتین کے پہلی بار ماں بننے کی اوسط عمر 31 سال ہو چکی ہے، جبکہ 1975 میں یہ عمر 26 سال تھی۔ بہت سے لوگ غلط طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ خواتین بچوں کی پیدائش میں تاخیر اس لیے کرتی ہیں کہ وہ بچوں کے بجائے دوسری چیزوں، یعنی اپنی ذات کو ترجیح دینا چاہتی ہیں۔ اسی سوچ کے تحت انہیں ’خود غرض، کیریئر کو ترجیح دینے والی خواتین‘ جیسے القابات دیے جاتے ہیں لیکن اس تحقیق کے نتائج اور خود خواتین کی باتیں ایک زیادہ پیچیدہ صورت حال پیش کرتی ہیں۔ تاخیر کی سب سے عام وجوہات یہ تھیں کہ خواتین خود کو ابھی بہت کم عمر سمجھتی تھیں، ان کو معاشی مسائل تھے یا انہیں اپنی پسند کا مناسب شریک حیات نہیں ملا تھا۔ لندن کے میڈیکل چیمبرز کینسنگٹن سے وابستہ ڈاکٹر وینکٹیش سبرامنیم کہتے ہیں: ’بہت سی خواتین کے لیے بچوں کی پیدائش میں تاخیر لازماً ان کی اپنی پسند نہیں ہوتی، بلکہ یہ معاشی حالات، سماجی دباؤ اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔‘ وہ مزید کہتے ہیں: ’آئی وی ایف کے ماہر کی حیثیت سے میرے خیال میں سب سے بڑے مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ خواتین کے بچے پیدا کرنے کے لیے تیار ہونے کا وقت اور ان کی فرٹیلیٹی کے حیاتیاتی طور پر بہترین ہونے کا وقت اب ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان دونوں کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔‘ تولیدی طب میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بھی بے شمار غلط فہمیاں اور مفروضے پائے جاتے ہیں۔ ان طریقہ ہائے علاج پر مالی، جسمانی اور جذباتی اعتبار سے بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ گذشتہ ہفتے ہی میری ایک 35 سالہ غیر شادی شدہ سہیلی سے بات ہوئی، جو اپنے ایگ (بیضے) فریز کروا رہی ہے تاکہ مستقبل میں بچے پیدا کرنے کے لیے انہیں استعمال کر سکے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ اسے اس علاج پر ہزاروں پاؤنڈ خرچ کرنا پڑ رہے ہیں اور ہارمونز کے باعث اس کی ذہنی صحت بھی کئی ہفتوں سے متاثر ہے۔ ایک موقع پر وہ کئی دن تک بستر سے اٹھ بھی نہیں سکی۔ اس کی زندگی میں ہر چیز توقع سے زیادہ وقت لے رہی ہے۔ ایک مثالی صورت حال میں وہ اب تک بچوں کی ماں بن چکی ہوتی، لیکن ہم میں سے بہت سی خواتین کی طرح اس کی زندگی میں بھی ایک اہم تعلق کے ٹوٹنے اور پیشہ ورانہ مستقبل کے غیر یقینی ہونے نے اس کے منصوبے بدل دیے۔ ڈاکٹر سبرامنیم کہتے ہیں: ’عمر بڑھنے کے ساتھ خواتین کی بچے پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی آتی ہے، خصوصاً 35 سال کی عمر کے درمیانی اور آخری برسوں کے بعد، کیونکہ بیضوں کی تعداد اور معیار دونوں کم ہونے لگتے ہیں۔ اس سے حمل ٹھہرنے کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں، اسقاط حمل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور خاتون کے اپنے بیضوں کے ذریعے آئی وی ایف کے کامیاب ہونے کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔ مردوں میں بھی عمر کے ساتھ سپرم کا معیار گرتا ہے اور دونوں شریک حیات کی عمر بڑھنے سے اسقاط حمل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔‘ یہ بات بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ جب ہم اس بارے میں بات کرتے ہیں کہ لوگ بچے پیدا کرنے میں تاخیر کیوں کر رہے ہیں تو ہماری گفتگو کا تقریباً سارا مرکز خواتین ہی ہوتی ہیں۔ حالانکہ حیاتیاتی طور پر حمل ٹھہرنے کے لیے مردوں کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور افزائش نسل کے معاملے میں ان کی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی خواتین کی۔ مردوں کی فرٹیلیٹی کے شعبے سے وابستہ ادارے میل باکس کی کلینیکل سروسز کی سربراہ اور رجسٹرڈ فرٹیلیٹی نرس فرانسسکا سٹین کہتی ہیں: ’تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً 40 سال کی عمر کے بعد بعض مردوں میں سپرم کی حرکت کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، حمل ٹھہرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے اور اسقاط حمل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔‘ ان کے مطابق: ’یہاں مسائل اکثر سماجی نوعیت کے بھی ہوتے ہیں۔ بہت سے مردوں کے لیے فرٹیلیٹی کے مسائل ان کی مردانگی کے احساس کو متاثر کر سکتے ہیں۔ انہیں کسی ممکنہ مسئلے کا سامنا اپنی صحت سے متعلق معاملے کے بجائے اپنی شخصیت اور مرد ہونے پر سوال سمجھ میں آتا ہے۔ اس کے علاوہ، بہت سے مردوں کو کلینک یا طبی ماحول میں سپرم کا نمونہ دینے میں شدید جھجک محسوس ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ اس معاملے کو ٹالتے رہتے ہیں یا کبھی اس بارے میں بات ہی نہیں کرتے۔‘ یقیناً مرد فرٹیلیٹی کے بارے میں اس طرح بات نہیں کرتے جس طرح خواتین کرتی ہیں۔ میں نے اپنے کسی غیر شادی شدہ مرد دوست کے ساتھ کبھی اس موضوع پر گفتگو نہیں کی۔ اس کے برعکس، خواتین کے درمیان یہ موضوع تقریباً ہمیشہ گفتگو کے اہم ترین موضوعات میں شامل ہوتا ہے۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہیں گے کہ فرٹیلیٹی کا یہ نام نہاد بحران دراصل مردوں کی وجہ سے ہے۔ ان کے مطابق مرد بالغ ہونے اور کسی رشتے کو مستقل شکل دینے کا فیصلہ کرنے میں زیادہ وقت لگاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے ایسے دور میں، جہاں مرد اور عورت کے روایتی تعلقات کے مستقبل کے بارے میں مایوسی بڑھ رہی ہے، بہت سی خواتین مناسب شریک حیات کی تلاش میں پریشان رہ جاتی ہیں۔ 47 سالہ الانا ولیمز ایک ثقافتی آبادیاتی ماہر اور مصنفہ ہیں جن کے بچے نہیں ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’اگر 30 سال کی عمر میں میری ملاقات ایسے درست شخص سے ہو جاتی جو بچے پیدا کرنا چاہتا، تو میں گذشتہ 17 سال ایک بالکل مختلف زندگی گزار رہی ہوتی۔ میری ملاقات کسی ایسے شخص سے نہیں ہوئی اور میں اکیلے بچے پیدا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ میں نے باقی تمام معاملات درست طریقے سے سنبھالے۔ اپنے کیریئر پر کام کیا اور مالی معاملات بہتر بنائے، لیکن میں اپنی پسند کے درست شخص سے ملاقات کو یقینی نہیں بنا سکتی تھی۔‘ آج کے دور میں کسی سے ڈیٹنگ کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل محسوس ہوتا ہے۔ اس بارے میں اپنے کسی بھی غیر شادی شدہ دوست سے پوچھ لیں۔ ڈیٹنگ ایپس سے اکتاہٹ، مردوں اور خواتین کے درمیان تعلقات میں بڑھتی تلخی اور ٹیکنالوجی کے باعث پھیلتی تنہائی نے کسی کے ساتھ بامعنی تعلق قائم کرنا تقریباً ناممکن سا بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ہم اس وقت ڈیٹنگ کے بحران سے گزر رہے ہیں۔ اس صورت حال میں ایک عجیب تضاد ہے۔ ماں بننے اور صحت مند تعلقات قائم کرنے کی خواہش رکھنے والی خواتین سے توقعات مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں، لیکن جیسا کہ فرٹیلیٹی کا ہر ماہر بتائے گا، حیاتیاتی حقائق کو اپنی مرضی سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ یقیناً خواتین 35 سال سے زیادہ عمر میں بھی بچے پیدا کر سکتی ہیں اور کرتی بھی ہیں، لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ایسا ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ولیمز مزید کہتی ہیں: ’میرے خیال میں ہم نے ان کاموں کی ایک نہ ختم ہونے والی فہرست بنا دی ہے جو خواتین کو گھر بسانے اور بچے پیدا کرنے کے لیے تیار ہونے سے پہلے کرنے چاہییں۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ تعلیم حاصل کریں، کیریئر بنائیں اور مالی طور پر خود مختار ہوں۔ پھر ہمیں سفر کرنا چاہیے، اپنی شخصیت کو بہتر بنانا چاہیے، ہر طرح کی نفسیاتی مشاورت سے گزرنا چاہیے، اکیلے خوش رہنا سیکھنا چاہیے اور یہ جاننا چاہیے کہ ہم کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں۔ آخر ہم کب ان تمام مراحل سے گزر کر فارغ ہوں گی؟‘ خواتین ایک عجیب مخمصے میں پھنسی ہوئی ہیں۔ اگر وہ بچے پیدا کریں تو بھی تنقید کا نشانہ بنتی ہیں، نہ کریں تو بھی، اور اگر فیصلہ نہ کر سکیں تو بھی انہیں قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے۔ سچ کہوں تو میری خواہش ہے کہ ہمیں سکول ہی میں فرٹیلیٹی سے متعلق مسائل کے بارے میں پڑھایا جاتا۔ مردوں اور خواتین دونوں کو کم عمری ہی سے اس بارے میں آگاہی ملنی چاہیے تاکہ اس معاملے میں موجود کچھ ناہمواریوں کو کم کیا جا سکے۔ مجھے خود اس وقت تک اندازہ نہیں تھا کہ بیضے محفوظ کروانے کا عمل کتنا مشکل اور تکلیف دہ ہو سکتا ہے، جب تک میری سہیلی نے مجھے اپنا تجربہ نہیں بتایا۔ جیسا کہ ڈاکٹر سبرامنیم کہتے ہیں: ’ہر خاتون اس بات کی حق دار ہے کہ اسے فرٹیلیٹی کے بارے میں درست معلومات اتنی جلد فراہم کی جائیں کہ وہ اپنی تولیدی زندگی کے مستقبل کے بارے میں باخبر ہو کر حقیقی معنوں میں اپنے فیصلے کر سکے۔ خواتین کو اپنی تولیدی زندگی کے بارے میں بااختیار بنانے کے لیے فرٹیلیٹی سے متعلق تعلیم اور معلومات کی بنیاد پر فیصلہ سازی ضروری ہے، اور یہ عمل کم عمری ہی سے شروع ہونا چاہیے۔‘ خواتین ماں بچے فرٹیلیٹی مالی مشکلات، مناسب شریک حیات کی عدم دستیابی اور سماجی دباؤ کے باعث تقریباً 40 فیصد خواتین اپنی خواہش سے دیر سے ماں بن رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس تاخیر سے فرٹیلیٹی کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ اولیویا پیٹر سوموار, اکتوبر 19, 2026 – 08: 45 Main image: type: news related nodes: خاندانی منصوبہ بندی: بچے دو ہی اچھے یا سولہ؟ کم عمر میں بہت پرجوش قسم کے بچے مجھے کیوں نہیں پسند؟ چین پر اویغور مسلمان خواتین کو بانجھ بنانے کا الزام انڈیا میں خواتین بائیکرز کے لیے سڑکیں غیر محفوظ کیوں؟ SEO Title: ملینیئل خواتین ماں بننے میں تاخیر کیوں کر رہی ہیں؟ copyright: IndependentEnglish Display mode: meta header middle origin url: https: //www. independent. co. uk/life-style/women-children-later-babies-study-b3065943. html show related homepage: Hide from Homepage



