پاکستان میں 105 اہم اور ضروری ادویات کی قیمتوں میں نظرثانی کی منظوری میں دو سال سے زائد کی تاخیر کے باعث ملک میں متعدد جان بچانے والی ادویات کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ فارماسیوٹیکل صنعت کے ذرائع کے مطابق قیمتوں میں نظرثانی کی تجاویز تاحال وفاقی حکومت کی منظوری کی منتظر ہیں، جس کے باعث کمپنیوں کے لیے کئی ضروری ادویات کی پیداوار جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ قیمتوں میں نظرثانی کی سفارشات ان ادویات کے حوالے سے کی گئی تھیں جنہیں ’ہارڈ شپ کیٹیگری‘ میں شامل کیا گیا ہے۔ صنعت سے وابستہ ذرائع کے مطابق طویل تاخیر کے نتیجے میں کینسر، امراض قلب، گلوکوما اور دیگر سنگین بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی کئی اہم ادویات ملک بھر کے اسپتالوں اور میڈیکل اسٹورز پر دستیاب نہیں یا شدید قلت کا شکار ہیں۔ دستیاب نہ ہونے یا شدید قلت کا سامنا کرنے والی ادویات میں شدید کینسر کے درد کے لیے استعمال ہونے والے 10 اور 30 ملی گرام کے اورل مارفین کیپسول، دل کے دورے کے علاج میں استعمال ہونے والے اسٹریپٹو کائنیز انجیکشن، کیموتھراپی کی ادویات سسپلاٹن، کاربوپلاٹن اور ڈوکسی روبیسن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کے لیے ڈائیگوکسن سیرپ، آنکھوں کے لیے پائلوکارپین ڈراپس، یلو فیور ویکسین، فولک ایسڈ گولیاں اور مختلف اقسام کی امیونوگلوبیولن ادویات بھی قلت کا شکار ہیں۔ پاکستان کیمسٹس اینڈ ڈرگسٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی اے) کے چیئرمین عبدالصمد بدانی نے خبردار کیا ہے کہ معیاری اور اصل ادویات کی طویل قلت سے جعلی اور غیر قانونی ادویات فراہم کرنے والوں کے لیے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب اصل ادویات مارکیٹ سے غائب ہوجاتی ہیں تو مریض مجبوری میں غیر معتبر ذرائع سے ادویات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے جعلی اور غیر معیاری ادویات کے سپلائی چین میں شامل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر مہنگی کینسر کی ادویات اور دیگر جان بچانے والی دواؤں کے حوالے سے یہ خطرہ زیادہ ہے۔ عبدالصمد بدانی کے مطابق مختلف حکومتوں کی جانب سے ہارڈ شپ کیٹیگری میں شامل ادویات سے متعلق فیصلوں میں مسلسل تاخیر کی گئی، حالانکہ قیمتوں سے متعلق کمیٹی واضح سفارشات دے چکی ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال نے دوا ساز کمپنیوں کو کئی ضروری ادویات کی پیداوار جاری رکھنے سے بھی حوصلہ شکنی کی ہے۔ پی سی ڈی اے نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 105 ادویات کے حوالے سے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کی سفارشات کی فوری منظوری دی جائے تاکہ دوا ساز کمپنیاں دوبارہ پیداوار شروع کرسکیں اور مارکیٹ میں ادویات کی فراہمی بحال ہو۔ عبدالصمد بدانی نے کہا کہ اگر دوا ساز کمپنیاں ضروری ادویات کی تیاری کی بنیادی لاگت بھی پوری نہ کرسکیں تو پیداوار جاری رکھنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق قیمتوں کی پالیسی کا مقصد ہی یہ یقینی بنانا ہے کہ ضروری ادویات مریضوں کو دستیاب رہیں، اس لیے بروقت فیصلے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ معاملے میں فوری مداخلت کرتے ہوئے ادویات کی قلت کا مسئلہ حل کیا جائے۔



