صوبہ خیبرپختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن اور قبائلی اضلاع کو مختلف ٹیکسوں سے حاصل استثنیٰ 30 جون، 2026 کو (آج) ختم ہو رہا ہے۔ اگر وفاقی حکومت نے اس رعایت میں مزید توسیع نہ کی تو یکم جولائی سے ان علاقوں میں بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح ٹیکس نظام نافذ ہو سکتا ہے۔ 2018 میں 25ویں آئینی ترمیم کے بعد ان علاقوں کو ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا تھا۔ تاہم مختلف حکومتی فیصلوں اور عدالتی احکامات کے تحت اس میں ہر سال توسیع ہوتی رہی۔ موجودہ حکومت کے مالی سال 27-2026 کے فنانس بل میں اس استثنیٰ میں توسیع کا کوئی ذکر نہیں۔ البتہ گذشتہ روز خیبرپختونخوا اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی، جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور قبائلی اضلاع کو حاصل ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع دی جائے۔ ملاکنڈ ڈویژن ماضی میں نیم قبائلی علاقہ تھا، جس میں سوات، چترال اور دیر کی سابقہ ریاستیں شامل تھیں، جنھوں نے تقسیم ہند کے بعد پاکستان سے الحاق کر لیا۔ یہ علاقے سابق فاٹا سے اس لحاظ سے مختلف تھے کہ فاٹا وفاق کے زیر انتظام تھا جبکہ ملاکنڈ ڈویژن صوبائی حکومت کے زیر انتظام تھا اور اب بھی ہے۔ قبائلی حیثیت کی بنیاد پر ملاکنڈ ڈویژن اور قبائلی اضلاع کو مختلف ٹیکسوں سے استثنیٰ حاصل تھا، جن میں نان کسٹم پیڈ (کابلی) گاڑیاں، جائیداد، صنعتوں، انکم ٹیکس اور دیگر محصولات شامل ہیں۔ سپریم کورٹ کے وکیل اسحاق علی قاضی کے مطابق 25ویں آئینی ترمیم کے بعد 2018 میں قبائلی اضلاع کے ساتھ ملاکنڈ ڈویژن کی نیم قبائلی حیثیت بھی ختم کر دی گئی تھی۔ تاہم حکومت نے اس وقت ان علاقوں کو جون 2023 تک ٹیکس سے استثنیٰ دیا، جس میں بعد ازاں توسیع کر دی گئی۔ اب تک وفاقی حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس قوانین کے نفاذ سے متعلق کوئی باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا، تاہم مقامی تاجر تنظیموں کا خیال ہے کہ حکومت اس حوالے سے فیصلہ کر چکی ہے۔ دوسری جانب محکمہ ایکسائز سمیت مختلف ٹیکس اداروں نے ملاکنڈ ڈویژن میں اپنے دفاتر قائم کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ بعض محکموں کے دفاتر پہلے ہی موجود ہیں۔ ٹیکس نفاذ سے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ اسحاق علی قاضی کے مطابق ٹیکس کے نفاذ کا سب سے زیادہ اثر صنعتوں پر پڑے گا کیونکہ انہیں انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا چونکہ یہ علاقے ٹیکس سے مستثنیٰ تھے، اس لیے کراچی، لاہور اور دیگر بڑے شہروں کے سرمایہ کاروں نے یہاں کارخانے قائم کیے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ان کے بقول ’اگر ٹیکس نافذ ہوتا ہے تو سرمایہ کاروں کو حاصل مراعات ختم ہو جائیں گی، جس کے بعد امکان ہے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری دوسرے علاقوں میں منتقل کر دیں کیونکہ مراعات کے بغیر ان نسبتاً دشوار علاقوں میں سرمایہ کاری ان کے لیے پرکشش نہیں رہے گی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان علاقوں کے افراد کو بھی انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ سیلز ٹیکس کے حوالے سے اسحاق علی قاضی نے بتایا کہ گذشتہ مالی سال میں ان علاقوں میں سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد تھی، جو یکم جولائی 2026 سے بڑھ کر 12 فیصد ہو جائے گی، جبکہ مرحلہ وار 2028 تک اسے ملک کے دیگر حصوں کی طرح 18 فیصد تک لے جایا جائے گا۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس ایکٹ 1926 سے ان علاقوں میں نافذ ہے، تاہم اس پر عملی طور پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تھا۔ ’اب دیکھنا ہوگا کہ حکومت اس قانون پر کس طرح عمل درآمد کراتی ہے۔‘ تاجر تنظیموں کا احتجاج کا عندیہ ملاکنڈ ڈویژن ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم نے کہا کہ وہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کی مخالفت کریں گے۔ ان کے مطابق ٹیکس چھوٹ بلاوجہ نہیں دی گئی تھی بلکہ یہ علاقے دہشت گردی سے شدید متاثر ہوئے، جس کے باعث یہاں کی معیشت اب بھی مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا ’پہلے عوام کی مشاورت کے بغیر ان علاقوں کو ضم کیا گیا، پھر دہشت گردی نے معیشت کو شدید نقصان پہنچایا۔ ایسے حالات میں ٹیکسوں کا نفاذ سمجھ سے بالاتر ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ تاجر تنظیموں نے ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف بھرپور احتجاجی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پانچ جولائی کو احتجاج بھی کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت نے تاحال اس معاملے پر کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔ تاہم گذشتہ روز وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے پاکستان تحریک انصاف کے وفد سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ اگر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے اجازت ملی تو ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع کی جا سکتی ہے۔ مالاکنڈ قبائلی ضلعے ٹیکس ملاکنڈ اور قبائلی اضلاع کو مختلف ٹیکسوں سے حاصل استثنیٰ ختم ہونے کے بعد یکم جولائی سے ان علاقوں میں بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح ٹیکس لگ سکتے ہیں۔ اظہار اللہ منگل, جون 30, 2026 – 07: 45 Main image:
ایک شخص چار جولائی، 2024 کو فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے دفتر سے باہر نکل رہا ہے(اے ایف پی)
معیشت jw id: Xuz4e7if type: video related nodes: مالاکنڈ ڈویژن میں شٹر ڈاؤن ہڑتال: ’پہلے ترقی دو، پھر ٹیکس لگاؤ‘ بجٹ 2026 میں کس کو کتنا ریلیف ملا؟ مالاکنڈ ڈویژن کی چوری شدہ اور سپیئر پارٹس سے بنی ’کٹ گاڑیاں‘ بجٹ میں برآمدات اور ٹیکس کے نظام پر کام کیا گیا: وزیر خزانہ SEO Title: ملاکنڈ اور قبائلی اضلاع میں ٹیکس استثنیٰ کا آخری دن، تاجروں کا احتجاج کا عندیہ copyright: show related homepage: Show on Homepage



