وطن عزیز کے سیاسی حالات، بیوروکریسی کی ریشہ دوانیاں، اداروں کی ایک دوسرے میں حصول اقتدار کے لیے گھس جانے، مسلسل اور ان تھک جد و جہد، سیاسی کردار اور انسانیت کے ”علمبردار“ حکمران طبقوں کے متعلق دل نہیں چاہتا کہ ایک لفظ بھی لکھوں مگر اخبار کی وہ سپیس جو میرے کالم کے لیے ہے میری نہیں اخبار کے قارئین کی ہے لہٰذا سوچا کہ کم از کم آج کا. .. ۔



