بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ ان کی تعلیم، صحت، حفاظت اور بہتر نشوونما ایک ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد سمجھی جاتی ہے اور یہی چار عوامل یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کسی بچے کا مستقبل روشن ہو گا یا تاریک، معاشرہ فروغ پائے گا یا انحطاط کا شکار ہو جائے گا، ملک عالمی برادری کے ساتھ آگے بڑھے گا یا پس ماندگی کی طرف مائل ہو گا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ دنیا کے کچھ حصوں میں بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینے کے بجائے ان کا استحصال کیا جاتا ہے جس میں بچوں پر تشدد بھی شامل ہے۔ بچوں پر تشدد پاکستان میں بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ بچوں پر تشدد کے کئی طریقے ہیں جیسے بچے کی جسمانی، ذہنی، جذباتی یا جنسی صحت کو نقصان پہنچانا یا اس کی بنیادی ضروریات کا نظر انداز کیا جانا۔ درج بالا چار عوامل کے اثرات محض متاثرہ بچے تک محدود نہیں رہتے بلکہ بچے کے متاثر ہونے سے پورا معاشرہ اس کے منفی نتائج بھگتتا ہے۔ اس کے باوجود یہ عمل جاری ہے۔ جسمانی تشدد میں بچے کو مارنا، جلانا، دھکا دینا یا کسی بھی طریقے سے جسمانی نقصان پہنچانا شامل ہے۔ بعض والدین یا سرپرست بچوں کی تربیت کے نام پر سخت مار پیٹ کو جائز سمجھتے ہیں، حالانکہ تشدد بچوں کی شخصیت پر گہرے منفی اثرات چھوڑتا ہے اور بچہ اپنے والدین، اساتذہ اور سماج کا باغی ہو جاتا ہے۔ ذہنی یا جذباتی تشدد اس وقت ہوتا ہے جب بچے کو مسلسل ڈرایا، دھمکایا جائے یا اس کی تذلیل کی جائے۔ ایسے بچے خود اعتمادی کھو دیتے ہیں اور اکثر ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن کا شکار ہو کر جرائم پیشہ بن جاتے ہیں اور پھر ان کے جرائم کو خود معاشرے کو ہی سہنا پڑتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں اگر جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟ فیفا ورلڈ کپ، آخری لمحات میں بیلجیم نے بازی پلٹ دی، سینیگال ایونٹ سے باہر پاکستان میں بچوں پر تشدد کا بڑھتا ہوا رجحان ایک تشویشناک مسئلہ ہے۔ ہر سال اخبارات، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر بچوں کے ساتھ تشدد، جنسی استحصال، گھریلو تشدد، کم عمری کی مزدوری اور دیگر جرائم کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ اگرچہ کئی واقعات رپورٹ نہیں ہوتے، لیکن جو واقعات سامنے آتے ہیں اتنے ہی واقعات اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کر دیتے ہیں۔ یوں تو ہمارے ملک میں کلیوں اور پھولوں کو مسلنے کا سلسلہ کبھی نہیں تھما لیکن گزشتہ دنوں دو ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے میرے سمیت ہر ذی شعور کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہمارے معاشرے میں آخر ہو کیا رہا ہے۔ لاہور کے علاقے برکی کے ایک مدرسے میں ایک قاری کے مبینہ بد ترین تشدد کے نتیجے میں ایک 12 سالہ بچہ علی حیدر جاں بحق ہو گیا۔ قاری کے خلاف درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدرسے کے قاری غلام رسول نے چند روز قبل معصوم بچے کو صرف اس وجہ سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ قاری کے کہنے پر ایک ختم شریف کی محفل میں نہیں گیا تھا۔ تشدد کی وجہ سے بچے کا بازو ٹوٹ گیا اور وہ شدید زخمی ہو گیا۔ ملزم قاری نے زخمی حالت میں ہی بچے کو بہاولنگر کی بس پر بٹھا کر اسکے گھر روانہ کر دیا۔ جب علی حیدر گھر پہنچا تو اسے مقامی ہسپتال داخل کرا دیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا کو ملزم کو فوری گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔ اللہ کرے کہ ایسا ہو جائے۔ فیفا ورلڈکپ: امریکا نے بوسنیا کو 0-2 سے شکست دیکر پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنالی دوسرا سانحہ بھی چند روز قبل ہی پیش آیا جب سرگودھا کے بلاک آٹھ کی رہائشی سات سالہ منتہیٰ زہرہ قریبی دکان سے سامان لینے گئی تھی،جہاں پولیس کے مطابق مرکزی ملزم ارسلان نے مبینہ زیادتی کے بعد اسے قتل کر دیا۔ بعد ازاں پولیس کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں مرکزی ملزم ہلاک ہو گیا، جبکہ کیس کے دیگر چار ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں اور ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جدید فرانزک شواہد، عینی شواہد اور تکنیکی تحقیقات کی مدد سے کیس کے تمام پہلوؤں کو مکمل طور پر واضح کیا جائے گا تاکہ حقیقت واضح ہو سکے اور متاثرہ خاندان کو بروقت اور مکمل انصاف فراہم کیا جا سکے۔ہمارے ملک میں معاشرہ کس قدر تنگ نظر اور پراگندہ ہو چکا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ جب ہم چھوٹے تھے تو اپنے گلی محلوں میں آزادانہ گھومتے پھرتے تھے اور ہمیں یا ہمارے والدین کو کسی قسم کا کوئی ڈر خوف نہیں ہوتا تھا، لیکن اب یہ وقت آ گیا ہے کہ گھر سے محلے کی دکان تک جانے والے اپنے بچوں کا دھیان رکھنا پڑتا ہے۔ یہ خوف ہر وقت لاحق رہتا ہے کہ انہیں کہیں کچھ ہو نہ جائے۔ اب بچوں کو سکول چھوڑ کر آنے اور چھٹی کے وقت واپس لانے کا رواج ہو چکا ہے۔ ہمارے زمانے میں یہ سب کچھ بالکل نہیں ہوتا تھا۔ خود ہی سکول جاتے تھے اوربلاخوف و خطر خود ہی سکول سے چھٹی کے وقت دوستوں کے ساتھ واپس آ جاتے تھے۔ سوچتا ہوں سماج کی یہ تنگی کب ختم ہو گی؟ کب ایک کھلا ڈلا ایک دوسرے پر اعتماد کرنے والا معاشرہ تشکیل پائے گا؟ سٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو بغیر قانونی جواز شہریوں کے اکاؤنٹس بلاک کرنے سے روک دیا ہمارے ہاں مدارس بچوں کو دینی تعلیم دینے کے حوالے سے تو اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن ان میں تعلیم دینے والے اساتذہ بعض اوقات حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں۔



