83.3 F
Pakistan
Tuesday, August 4, 2026
HomePoliticsمذاکرات جاری، ایران کے پاس ’خاتمے‘ سے پہلے ’آخری موقع‘: ٹرمپ

مذاکرات جاری، ایران کے پاس ’خاتمے‘ سے پہلے ’آخری موقع‘: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا ہے کہ ایران کی تردید کے باوجود اس کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور وہ ’خاتمے سے پہلے‘ تہران کو ’آخری موقع‘ دینا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر ممالک کی درخواست پر ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ ایران کی وزارت خارجہ نے پیر کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات جاری ہونے کی تردید کی تھی، تاہم ٹرمپ نے اصرار کیا کہ بات چیت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا: ’ہم اس وقت بات کر رہے ہیں۔‘ امریکی صدر نے مزید کہا: ’یہ ان کے لیے ایک اچھے معاہدے پر دستخط کرنے کا آخری موقع ہے۔ میں انہیں خاتمے سے پہلے ہر آخری موقع دینا چاہتا ہوں۔‘ یہ مذاکرات آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر مرکوز ہیں، جس کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ ’کل ہی‘ ممکن ہو سکتا ہے، جبکہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا عمل ان کے بقول، ’کچھ وقت لے سکتا ہے۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) واشنگٹن اور تہران کے درمیان 28 فروری سے جنگ جاری ہے، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر اچانک حملے کیے تھے، اگرچہ کئی ماہ تک وقفے وقفے سے جاری سفارت کاری کے نتیجے میں نسبتاً سکون کے ادوار بھی آئے۔ پانچ ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ایران اب بھی خطے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اہداف پر میزائل اور ڈرون داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے پاس افزودہ یورینیم کے ذخائر بھی موجود ہیں۔ منگل کی صبح برطانیہ کی بحری سلامتی کی ایجنسی یو کے ایم ٹی او نے کہا کہ عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار جہاز کو ’نامعلوم نوعیت کے ایک گولے‘ کا نشانہ بنایا گیا۔ ایجنسی کے مطابق جہاز جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، نے حملے کی اطلاع دی ہے اور حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں، تاہم نقصان یا زخمیوں سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ آبنائے ہرمز جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں ایک بڑا تنازع رہی ہے۔ جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ایران نے دوبارہ اس آبی گزرگاہ کی ناکہ بندی کر دی، جو اس نے جنگ کے آغاز میں نافذ کی تھی اور گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو روکنے اور تجارتی جہازوں پر فائرنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا۔ ٹرمپ نے ایران کو ’دوغلا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ’کھلے عام اور فخر سے‘ یہ کہہ رہا ہے کہ وہ مذاکرات نہیں کر رہا۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا: ’ایران مانے یا نہ مانے، حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک ایسے مسئلے کے حل پر بات کر رہے ہیں جو انہوں نے کئی دہائیوں سے پیدا کر رکھا ہے۔‘ View this post on Instagram A post shared by Independent Urdu (@indyurdu) انہوں نے ایرانی بندرگاہوں کی امریکی جوابی ناکہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا: ’ایران تک کچھ نہیں پہنچتا، جب تک ہم نہ چاہیں، اور کچھ بھی نہیں پہنچے گا جب تک کوئی معاہدہ یا مکمل ہتھیار ڈالنے کی صورت نہ بن جائے۔‘ جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے آزادانہ آمدورفت ممکن تھی، لیکن اب ایران اس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے اور گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے پر اصرار کر رہا ہے، جسے امریکہ مسترد کرتا ہے۔ تہران نے جہازوں کو ایرانی ساحل کے ساتھ ساتھ گزرنے والے راستے کے علاوہ کسی اور راستے سے سفر کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اتوار کو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایک معاہدہ قریب ہے کیونکہ عمان اس تنگ آبی گزرگاہ کے دوسرے کنارے پر واقع ہے۔ انہوں نے کہا: ’ہم اب ایسے راستے پر اتفاق رائے کے قریب ہیں جو دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔ نہ شمالی راستہ، نہ جنوبی راستہ، بلکہ ایسا راستہ جو دونوں فریقوں کے خودمختار حقوق کا احترام کرے اور ہمارے قومی مفادات اور سلامتی کا تحفظ کرے۔‘ تاہم انہوں نے اصرار کیا کہ اس طرح کے معاہدے کا مطلب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا نہیں ہوگا۔ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنا ’لازمی‘ امریکی صدر نے تنازعے کے آغاز پر کہا تھا کہ جنگ ایران کے جوہری پروگرام سے نمٹنے کے لیے ضروری تھی۔ پیر کو انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ’ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنا لازمی ہے۔‘ مغربی ممالک ایران پر جوہری بم بنانے کی کوشش کا الزام لگاتے ہیں، تاہم تہران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن شہری مقاصد کے لیے ہے۔ ہفتے کے اختتام پر صدارتی طیارے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک نے ان سے مزید حملے روکنے کی درخواست کی تھی۔ ان کے بقول اگر حملے کیے جاتے تو وہ ’دوسری عالمی جنگ کے بعد کا سب سے بڑا حملہ‘ ہوتے۔ تاہم ایرانی ذرائع ابلاغ نے اس دعوے کی تردید کی کہ تہران نے ٹرمپ سے حملہ نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ ماہ ہونے والا جنگ بندی کا ایک سابقہ معاہدہ ناکام ہو گیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت خلیجی ممالک سے عالمی معیشت کے لیے اہم توانائی کی برآمدات لے جانے والے جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولی جانی تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایران ایران جنگ آبنائے ہرمز امریکی صدر نے اصرار کیا: ’یہ ان کے لیے ایک اچھے معاہدے پر دستخط کرنے کا آخری موقع ہے۔ میں انہیں خاتمے سے پہلے ہر آخری موقع دینا چاہتا ہوں۔‘ اے ایف پی منگل, اگست 4, 2026 – 07: 30 Main image:

واشنگٹن میں تین اگست 2026 کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں (جم واٹسن/ اے ایف پی)

دنیا type: news related nodes: امن معاہدے کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات پیر سے شروع ہوں گے: ٹرمپ پاکستان امریکہ کے ساتھ رابطوں میں بدستور مرکزی ثالث: ایران امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی طرف لانے کی ’بھرپور‘ کوشش کر رہے ہیں: پاکستان ٹرمپ کا ایران کو انتباہ، اختتام ہفتہ پر بڑے حملوں پر غور SEO Title: مذاکرات جاری، ایران کے پاس ’خاتمے‘ سے پہلے ’آخری موقع‘: ٹرمپ copyright: show related homepage: Show on Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments