83.4 F
Pakistan
Monday, April 27, 2026
HomeEntertainmentمجھ سے سروس میں جونیئر، لیکن اگر سینگ کہیں باہمی مناظرے میں...

مجھ سے سروس میں جونیئر، لیکن اگر سینگ کہیں باہمی مناظرے میں پھنس جائیں تو دلائل کی بھرمار کردیں گے، ہار ماننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 129لڑکے پھر کینیڈا کی شہریت لے کر کینیڈا شفٹ ہوگئے تو پھر چوہدری صاحب کی بھی کینیڈا آمد جاری و ساری ہوگئی۔ 2 اگست 2018ء میں جب میں بھی اپنی بیگم کے ہمراہ کینیڈا میں اپنے بیٹے احمد ندیم کے ہاں گیا ہوا تھا تو الطاف میاں، احمد ندیم کے دوست کی دعوت پر “Royal Jasmine Grill” مسّی ساگا کینیڈا میں اُن سے ملاقات ہوئی۔ جسمانی طور پر اب چوہدری صاحب اِنحطاط پذیری کا شکار تھے اور کچھ سہارے سے چلتے تھے۔ اُن کی حسِ ظرافت بھی زمانے کی نذر ہوئی۔ بس کیا کہیے تغیرات زمانہ میں ان کے آگے ہے کوئی جو بند باندھے؟ لاہور چوہدری غلام حسین صاحب طویل علالت کے بعد 93 سال کی عمر میں اپنی رہائش گاہ لاہور میں راہِ ملک عدم ہوئے۔ ان للہ و انا الیہ راجعونمحمد احسن خان درمیانے قد کاٹھ، سادہ لباس، عقل و دانش میں گُندھا ہوا محمد احسن خان مجھ سے سروس میں جونیئر، اپنے کام سے کام۔ لیکن اگر سینگ کہیں باہمی مناظرے میں پھنس جائیں تو پورے زور سے دلائل کی بھرمار کردیں گے اور ہار ماننے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بہتر ہے آپ ہی ہار مان جائیں۔ پوری سروس پوری تندہی سے کام کیا، شاید ہی کبھی شکایت کا موقع دیا ہوگا۔ دفتری اوقات کے بعد علمی و ادبی حلقوں سے رُوشناسی بھی کیا کرتے اور اُس سے کافی فیضاب بھی ہوئے اور آپ کا مطالہ کافی تنقیدی ہوتا ہے۔ بعد میں کافی مضامین آپ کے قلم سے نکل کر اچھے اچھے رسالوں میں چھپے۔ سب سے بڑا کارنامہ اُردو / پنجابی لُغات کی تکمیل میں جو آپ نے حصّہ ڈالا وہ آپ کے قلمی قد میں اضافے کا باعث بنا۔ آپ اولاد کی نعمت سے محروم ہی رہے لیکن دوسری شادی کا کبھی نہ سوچا۔ اُن کی اپنی صحت تو اِس وقت گذارہ کر رہی ہے لیکن اُن کی بیگم البتہ بڑھاپے کی سختیاں جھیل رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کو صحت دے۔ ساری عمر سادگی میں ہی گذاری۔ بڑا مکان، موٹر کار یہ اُن کے ذہن میں جگہ نہ پاسکے۔ ساری عمر زیادہ تر پیدل سفر کیا۔ ڈر کے مارے میں اُن کے سارے پیدل کے اعداد و شمار پیش کرنے سے مصلحتاً پرہیز کر رہا ہوں کہ اگر وہ آپ کو بتادوں کہ وہ لاہور کی سڑکوں پر کتنا پیدل سفر کر چکے ہیں تو شاید آپ کے ذہن کو کوئی دھچکا نہ لگ جائے کہ احسن خان اتنے پڑھے لکھے آفیسر ساری عمر پیدل سفر کو ہی ترجیح دیتے رہے۔ یاد رہے کہ یہ پیدل چلنے کی عادت اُن کی صحت کی برقراری میں معاون رہی اور اِس لیے وہ اپنے قلمی رجحانات کی آبیاری کرتے نظر آتے رہے۔آخر میں ایک بات نہ بھول جاؤں کہ اُن کو سبھی چھوٹے بڑے سابقہ دفتری ساتھیوں کی موجودہ صورتِ حال سے ہمیشہ باخبر پایا اور اچھّے / بُرے سب حالات کی خبر بذریعہ فون دوستوں کو مہیّا کرتے رہتے ہیں۔ یہ خود قبول کردہ ڈیوٹی قابلِ ستائش ہے۔ اِس طرح ہر اچھّے /بُرے وقت پر سب دوست اکٹھے ہوجاتے ہیں اور دوسروں کی خوشی/ غمی میں حصّہ ڈال دیتے ہیں۔ چونکہ آپ اَسراف پسند نہیں ہیں لہٰذا اپنی بات ٹیلیفون پر دُوسروں کو بتانے کے بعد خود ہی فون اکثر بند کر دیتے ہیں۔ خواہ دوسرے سرے پر بیٹھا ساتھی ابھی کچھ تفصیل میں جانے کا متمنّی ہو۔ اللہ اللہ خیر صلّا۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ کتاب کی تکمیل کبھی بھی ایک آدمی کی تحریری تگ و دو سے مکمل نہیں ہوتی، تحریر سے طباعت تک ایک مکمل ٹیم چاہیے، اس لحاظ سے میں خوش نصیب ہوں

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments