83.7 F
Pakistan
Friday, August 28, 2026
HomePoliticsلکی مروت: پولیس اہلکار آپریشن کے دوران وردی کیوں نہیں پہننا چاہتے؟

لکی مروت: پولیس اہلکار آپریشن کے دوران وردی کیوں نہیں پہننا چاہتے؟

خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع لکی مروت اور بنوں میں پولیس کی جانب سے بنائی گئی امن کمیٹی کے اہلکاروں نے آپریشن کے دوران پولیس وردی پہننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی صورت وردی نہیں پہنیں گے۔ لکی مروت امن کمیٹی کے ایک سرکردہ رہنما اور سب انسپکٹر حیدر علی خان نے پولیس امن کمیٹی کے اہلکاروں کے نام ایک مبینہ آڈیو پیغام میں واضح کیا ہے کہ اعلیٰ حکام کی جانب سے انہیں پولیس وردی پہننے کو کہا جا رہا ہے لیکن ایسا نہیں ہوگا۔ اس آڈیو پیغام کی لکی مروت پولیس کے ایک اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی ہے کہ یہ لکی مروت پولیس امن کمیٹی کے رہنما کا ہے۔ آڈیو پیغام میں کہا گیا: ’پہلے بھی آپریشن ہم نے وردی میں کیے لیکن کامیابی نہیں ملی، لیکن اب سول کپڑوں میں کامیابیاں ملی ہیں اور ہم کسی صورت وردی نہیں پہنیں گے۔ ‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’افسرانِ بالا ہم سے کام کا مطالبہ کریں، چاہے ہم وردی میں کریں یا بغیر وردی کے کریں لیکن وردی پہننے کا مطالبہ درست نہیں۔‘ آڈیو پیغام کے مطابق: ’پولیس کے اعلیٰ افسران کی ہم قدر کریں گے۔ جہاں وردی کی ضرورت ہوگی تو ہم وردی پہنیں گے اور جہاں ضرورت نہ ہو تو نہیں پہنیں گے۔ ہم کسی صورت ہم امن کمیٹی کے اہلکار کی حیثیت سے وردی نہیں پہنیں گے۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) دوسری جانب لکی مروت پولیس امن کمیٹی کے صدر خالد خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے وردی پہننے سے کبھی انکار نہیں کیا ہے لیکن بعض اوقات اہلکار گھر میں ہوتے ہیں اور کارروائی کا کہا جاتا ہے تو اس دوران وردی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خالد خان نے بتایا: ’جب بھی پولیس لائن سے آپریشن کے لیے جاتے ہیں تو ہم ہمیشہ وردی پہنتے ہیں لیکن گھر سے اگر کوئی اہلکار آپریشن میں شامل ہوتا ہے تو وہ باوردی نہیں ہوتا۔ یہ ہمارے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ہم نے وردی پہننے سے انکار کیا ہے۔ ‘ لکی مروت اور بنوں پولیس امن کمیٹیوں کی جانب سے جمعرات کو لکی مروت میں پولیس امن کمیٹی کے ایک اہلکار کے پشاور میں ’لاپتہ ہونے‘ پر احتجاجی دھرنا بھی دیا گیا ہے۔ خالد خان نے بتایا کہ پشاور پولیس کے اعلیٰ حکام، ہمارے پولیس اہلکار کو پشتخرہ تھانے کی حدود سے ’اغوا‘ کیا گیا ہے لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں ہے کہ وہ کہاں ہے۔ اس حوالے سے لکی مروت پولیس نے 28 اگست سے تمام دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور تمام پولیس امن کمیٹی کے اہلکاروں سے کہا گیا ہے کہ اگر کسی رکن صوبائی یا قومی اسمبلی کے ساتھ کسی اہلکار کی ڈیوٹی ہے تو وہ بھی پولیس لائن احتجاج کے لیے پہنچ جائے۔ پولیس امن کمیٹیاں کیا ہیں؟ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع بنوں اور لکی مروت میں جب امن و امان کے حالات مخدوش ہو گئے تو دونوں اضلاع کے بعض پولیس اہلکاروں نے امن کمیٹی کے نام سے کمیٹیوں کا اعلان کیا۔ پولیس امن کمیٹی کے اہلکار سرکاری اسلحے کے ساتھ بغیر وردی کے مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں، تاہم پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے سرکاری سطح پر ان امن کمیٹیوں کی حمایت کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ لکی مروت میں 27 اگست 2026 کو لکی مروت پولیس امن کمیٹی کے صدر خالد خان کی سربراہی میں اجلاس جاری ہے (لکی مروت پولیس امن کمیٹی) رسول داوڑ پشاور میں جیو نیوز سے وابستہ صحافی ہیں اور گذشتہ دنوں بنوں اور لکی مروت کی پولیس امن کمیٹیوں کے عہدیداران سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بنوں اور لکی مروت میں پولیس کی امن کمیٹیاں بہت زیادہ فعال ہیں اور باقاعدہ طور پر وہاں ان کا انتظامی ڈھانچہ بھی موجود ہے۔ رسول داوڑ کے مطابق: ’پولیس امن کمیٹیوں کا ٹرینڈ بنوں میں تب شروع ہوا تھا جب وہاں ایک پولیس سٹیشن پر حملہ ہوا تھا اور اس میں 14 پولیس اہلکار جان سے گئے تھے۔ ‘ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں پولیس کے اعلیٰ حکام نے امن کمیٹیوں کو نہ روکا تھا اور نہ سرکاری سطح پر ان کی حمایت گئی تھی اور اس کا مقصد ڈیوٹی اوقات سے باہر بھی بغیر وردی کے آپریشن میں حصہ لینا تھا۔ رسول داوڑ نے بتایا: ’پولیس امن کمیٹیوں نے باقاعدہ حلف لیے ہیں اور یہی بتایا کہ چونکہ پولیس زیادہ تر عسکریت پسندوں کا ٹارگٹ ہے تو ہم خود ہی ان کے خلاف لڑیں گے لیکن اب ان امن کمیٹیوں کے اہلکاروں کے تبادلے وغیرہ شروع ہو گئے ہیں۔ ‘ اس ساری صورت حال پر انڈپینڈنٹ اردو نے لکی مروت پولیس کے ضلعی پولیس سربراہ (ڈی پی او) سجاد حمید سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ لکی مروت بنوں خیبر پختونخوا پولیس امن کمیٹی کے ایک رہنما اور سب انسپکٹر حیدر علی خان نے ایک مبینہ آڈیو پیغام میں واضح کیا ہے کہ اعلیٰ حکام کی جانب سے انہیں پولیس وردی پہننے کو کہا جا رہا ہے لیکن ایسا نہیں ہوگا۔ اظہار اللہ جمعہ, اگست 28, 2026 – 08: 15 Main image:

لکی مروت میں 27 اگست 2026 کو لکی مروت پولیس امن کمیٹی کے صدر خالد خان کی سربراہی میں اجلاس جاری ہے (لکی مروت پولیس امن کمیٹی)

پاکستان type: news related nodes: بنوں میں امن کمیٹی کے دفتر پر عسکریت پسندوں کا حملہ، 7 اموات لکی مروت: مذاکرات کامیاب، پولیس نے دھرنا ختم کر دیا بنوں: فتح خیل پولیس چوکی کو بار بار حملوں کا نشانہ کیوں بنایا گیا؟ بنوں میں امن کمیٹی کے دفتر پر عسکریت پسندوں کا حملہ، 7 اموات SEO Title: لکی مروت: پولیس امن کمیٹیوں کے اہلکار آپریشن کے دوران وردی کیوں نہیں پہننا چاہتے؟ copyright: show related homepage: Show on Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments