میٹروپولیٹن پولیس نے کہا ہے کہ ایک 14 سالہ لڑکے پر دہشت گردی سے متعلق ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے، جو مبینہ طور پر جنوبی لندن کے علاقے سٹن میں واقع دو مساجد کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی سے متعلق ہے۔ لڑکا جس کا نام قانونی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کیا جا سکتا، پر 9 جولائی 2026 تک یا اس سے قبل دہشت گردی کی کارروائیوں کے ارادے پر عمل درآمد کی تیاری کے لیے اقدامات کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ اس نے کسی قانونی جواز کے بغیر دوسرے کی ملکیت کو نقصان پہنچایا یا نقصان پہنچانے کی نیت سے ایک گاڑی کے شیشے کو نقصان پہنچایا۔ پولیس کے مطابق یہ جرم نسلی تعصب پر مبنی تھا۔ میٹروپولیٹن پولیس نے بتایا کہ ابتدائی طور پر لڑکے کو ایک گاڑی کو نقصان پہنچانے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم جب افسران نے متعلقہ مقام کی تلاشی لی تو وہاں سے ’تشویش کا باعث بننے والی متعدد دستاویزات‘ برآمد ہوئیں۔ لڑکے کو 9 جولائی کو جنوبی لندن سے تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا، جس کی قیادت کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ لندن کر رہی ہے۔ اسے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے اور وہ جمعرات کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں پیش ہوگا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ لندن کی سربراہ کمانڈر ہیلن فلاناگن نے کہا: ’اتنی کم عمر کے ایک لڑکے پر دہشت گردی کا یہ الزام انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اور یقیناً عوام اور مقامی برادری کے لیے شدید تشویش کا باعث ہوگا۔ ’ہم جانتے ہیں کہ یہ معاملہ خاص طور پر مسلم برادری کے لیے باعثِ تشویش ہوگا اور ہم متاثرہ مقامات کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ انہیں مسلسل صورت حال سے آگاہ رکھا جا سکے اور مشورہ، معاونت اور اطمینان فراہم کیا جا سکے اور یہ عمل جاری رہے گا۔‘ ہیلن فلاناگن نے مزید کہا: ’ہم پولیس، تعلیمی اداروں، مقامی حکام اور بچوں کے تحفظ سے متعلق اداروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ نوجوانوں کو انتہا پسندانہ نظریات اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے روکا جا سکے۔ ’تاہم والدین، سرپرست، اساتذہ اور نوجوانوں کے ساتھ کام کرنے والے دیگر افراد کا بھی ایک اہم کردار ہے۔‘ انہوں نے والدین سے کہا: ’اگر آپ کو تشویش ہے کہ کوئی بچہ یا نوجوان انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے کے خطرے سے دوچار ہے تو ہم آپ سے اپیل کرتے ہیں کہ مدد حاصل کریں اور ACT Early سے رابطہ کریں۔ ’ابتدائی مرحلے پر مداخلت نمایاں فرق ڈال سکتی ہے اور افراد کو نقصان پہنچنے یا مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔‘ ڈیٹیکٹو چیف سپرنٹنڈنٹ نک بلیک برن نے کہا: ’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ معاملہ مقامی مسلم برادری کے لیے باعثِ تشویش ہوگا اور ہم اپنے مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر یقین دہانی اور معاونت فراہم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ میں اس عمل میں شامل تمام افراد کے تعاون اور سمجھ بوجھ پر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ ’ہمیں اس نوعیت کے واقعات کے مسلم برادری پر مجموعی اثرات کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔‘ بلیک برن کے مطابق: ’یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صرف چند روز قبل سفوک میں ایک اسلامی تہوار کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی دھمکی کے شبہے میں 12 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ لیٹن میں ایک مسجد کے باہر مبینہ حملے کے الزام میں ایک شخص کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’ہم نے اس تحقیقات کے دوران کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ لندن کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ قریبی تعاون کیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں گشت میں اضافہ کر دیا ہے، جسے آئندہ چند دنوں تک جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح اگر کسی کو کوئی تشویش ہو تو وہ ہم سے یا اپنی مقامی پولیس نیبرہڈ ٹیم سے رابطہ کر سکتا ہے۔‘ لندن مساجد میٹروپولیٹن پولیس نے بتایا کہ ابتدائی طور پر لڑکے کو ایک گاڑی کو نقصان پہنچانے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم جب افسران نے متعلقہ مقام کی تلاشی لی تو وہاں سے ’تشویش کا باعث بننے والی متعدد دستاویزات‘ برآمد ہوئیں۔ پال ایلنگہم جمعرات, جولائی 16, 2026 – 09: 45 Main image:
ایک پولیس وین 11 ستمبر، 2023 کو لندن میں ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ عدالت سے نکل رہی ہے (اے ایف پی/ڈینیل لیل)
دنیا type: news related nodes: مسلمان شخص پر چاقو کے وار کرنے والا ملزم گرفتار: امریکی پولیس مانچسٹر: مسجد میں کلہاڑی اور چاقو لانے کے الزام میں شخص گرفتار کیلی فورنیا: مسجد حملے میں جان سے جانے والے سکیورٹی گارڈ کے بیٹوں کو والد پر فخر سان ڈیاگو: مسجد پر فائرنگ میں حملہ آوروں سمیت پانچ افراد کی موت SEO Title: لندن: مساجد کو نشانہ بنانے کی مبینہ منصوبہ بندی پر 14 سالہ لڑکے پر مقدمہ copyright: show related homepage: Show on Homepage



