لاہور کے رنگ روڈ پر ایک گاڑی سے شہری کی لاش برآمد ہونے کے واقعے نے شہر میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ پولیس کے مطابق سفید رنگ کی ایک گاڑی مشکوک حالت میں کھڑی پائی گئی جس کی تلاشی کے دوران اندر سے ایک شخص کی لاش ملی، جس کی شناخت عادل کے نام سے ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق عادل کو گاڑی کے اندر گولیاں ماری گئیں اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ جب پولیس نے گاڑی کو چیک کیا تو لاش ڈرائیونگ سیٹ پر موجود تھی ۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی رنگ روڈ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور مزید شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کیا۔ پولیس کے مطابق موقع سے فرانزک ٹیموں نے اہم شواہد حاصل کیے ہیں جبکہ ایس پی کینٹ نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑی سے ایک سب انسپکٹر کی وردی بھی برآمد ہوئی جس کی شناخت سب انسپکٹر طاہر کی وردی کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ طاہر تھانہ جنوبی چھاؤنی میں تعینات ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ متوفی عادل اور سب انسپکٹر طاہر آپس میں دوست تھے۔ پولیس کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ابتدائی شواہد اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ معاملہ قتل کے بجائے خودکشی کا بھی ہو سکتا ہے، تاہم حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ اہلخانہ سے حاصل ہونے والے بیانات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عادل گزشتہ کچھ عرصے سے ذہنی دباؤ اور خاندانی تنازعات کا شکار تھا۔ اہلخانہ کے مطابق اس کے خلاف مختلف اداروں میں درخواستیں بھی دائر تھیں جس کی وجہ سے وہ پریشانی میں مبتلا تھا۔ پولیس نے کہا ہے کہ تمام زاویوں سے تفتیش جاری ہے اور واقعے کی اصل نوعیت پوسٹ مارٹم رپورٹ اور مزید فرانزک نتائج کے بعد واضح ہوگی۔



