مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 133ایڈیلیڈ سٹی کی سیر، ایک رنگا رنگ فیسٹیول،Adelaide Vine Yard Region، Glendy Beach، Hind Marsh، آسٹریلیا میں حکومتی سطح پر اَتھل پتھل،Melbourne Cup (Australia)۔مصنف ع۔غ جانباز کے ناول ”پریتی“ کی آسٹریلیا میں تقریب رُونمائی سینئر سٹیزن کلب ہال ”ریور سٹون کو یکرزہل آسٹریلیا“ جن اہل قلم نے اپنے خیالات عالیہ سے مستفید فرمایا اُن کے اسمائے گرامی اشرف شاد، جاوید نظر، عارف صادق، جاوید اعظم، محمد علی (کینبرا)۔ 50 کے قریب مدعونین کو پھر دعوت طعام دی گئی۔ اس طرح کوئی ساڑھے سات بجے یہ تقریب سعید اختتام پذیر ہوئی۔ تحریک پاکستان، تقریب عطائے گولڈ میڈل قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت کے آگے انگریز اور ہندو کی ایک نہ چلی۔ طلباء سمیت تمام مکاتب فکر کے لوگ ہر قسم کے خوف سے بے نیاز تحریک پاکستان کی سبیلِ تُند کا حصّہ بن گئے۔ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے سے پہلے 1946ء میں تحصیل نواں شہر، ضلع جالندھر، مشرقی پنجاب متحد ہ ہندوستان میرے والد چودھری ہاشم علی، تحصیل لیول پر مسلم لیگ کے سیکرٹری تھے۔ 1946ء کے انتخابات جو آخری مرحلہ میں ہونے پائے، کہ دیکھا جائے کہ کون سے ضلعوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، اُن کو پاکستان کا حصہ قرار دیا جائے۔ لہٰذا والد صاحب کو ”کنوینسنگ“ کے لیے گاؤں گاؤں، قصبوں قصبوں جانا پڑا۔ میں اس وقت 18 سال کا اُبھرتا ہوا نوجوان تھا اور دسویں جماعت میں ”صاحبہ ہائی سکول“ میں پڑھتا تھا۔ میں بھی اِس سبیلِ تُند کا حصہّ بن گیا اور اپنے پندرہ بیس ساتھی نوجوانوں کے ساتھ اُن کے ہمراہ ہوتا۔ تاہم بڑے جوش و خروش سے نعرے لگاتے: مسلم لیگ. .. .. .. .. .. . زندہ باد! بٹ کے رہے گا. .. .. . ہندوستان! لے کے رہیں گے. .. .. . پاکستان! ہندو بنیا. .. .. . ٹھاہ! ”تقریب عطائے گولڈ میڈل“6 فروری 2022ء کی سہانی صبح ”تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ“ مادر ملت پارک، 100 شاہراہ قائداعظم لاہور کی جانب سے ایک مراسلہ بنام خادم ”عبد الغفور جانباز“ موصول ہوا۔ اِرشاد تھا کہ خط میں لف ”پروفارما برائے گولڈ میڈل“ پُر کر کے جلد از جلد ارسال کریں۔ حسب ہدایت پروفارما پُر کیا اور ساتھ ”مطلوبہ“ 2 عدد ساتھیوں کے نام بمعہ شناختی کارڈ نمبر بذریعہ ڈاک ارسال کردئیے۔13 فروری 2022ء کو میں اپنے مجوزّہ ساتھیوں کے ہمراہ ”ایوانِ کارکنان پاکستان“، مادر ملت، 100 شاہراہ قائداعظم چلا گیا۔ وہاں ایک بڑے ہال میں صدر پاکستان ”عارف علوی“ دوسرے معززین کے ساتھ سٹیج پر تشریف فرما تھے۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، جن میں سکول کے بچے بھی شامل جو تقسیم انعامات کے لیے بلائے گئے تھے۔کلام پاک کی تلاوت کے بعد نعتِ رسول مقبول صلى الله عليه وسلم پیش کی گئی۔ اس کے بعد صدر پاکستان ”عارف علوی صاحب“ اور معززین نے تحریک پاکستان کے موضوع پر اپنے خیالاتِ عالیہ سے مستفیض فرمایا۔ پھر ”صدر پاکستان“ سٹیج سے نیچے تشریف لے آئے اور ”مجوزہ گولڈ میڈلسٹ“ کو اپنے دست مبارک سے گولڈ میڈل پہنائے۔ جن میں خادم عبد الغفور جانباز کا نام بھی شامل تھا۔ پھر سکول کے بچوں کو اچھی کارکردگی کی بناء پر انعامات دئیے گئے۔ اس کے بعد تقریب اختتام پذیر ہوئے۔ ”عطائے گولڈ میڈل“ کی 2 عدد تصاویر بھی بعد میں گھر کے پتہ پر موصول ہوئیں، ملاحظہ کیجئے۔ الراقم: عبد الغفور جانباز قلمی نام: ع غ جانباز (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ سندھ میں ہندو طلبہ کیلئے مذہبی تعلیم نصاب کا حصہ، 3 کتابیں شامل ہوں گی
قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت کے آگے انگریز اور ہندو کی ایک نہ چلی، طلباء سمیت تمام مکاتب فکر کے لوگ بے خوف تحریک پاکستان کا حصّہ بن گئے
RELATED ARTICLES



