فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کے لیے سلووینیا کے تجربہ کار ریفری اسلاوکو وینچیچ کی بطور مرکزی ریفری تقرری نے ایک جذباتی منظر پیش کر دیا۔ ارجنٹینا اور اسپین کے درمیان 19 جولائی کو نیویارک میں کھیلے جانے والے فائنل کے لیے ان کے نام کا اعلان ہوتے ہی وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس موقع پر وہاں موجود دیگر ریفریز نے انہیں مبارک باد دی اور ان کے اس یادگار لمحے کو سراہا۔ عام طور پر فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں کھلاڑیوں کے جذبات کو زیادہ توجہ دی جاتی ہے، لیکن اسلاوکو وینچیچ کے آنسوؤں نے یہ ثابت کر دیا کہ اس عالمی مقابلے کا حصہ بننا ریفریز کے لیے بھی کسی خواب کی تعبیر سے کم نہیں ہوتا۔ دنیا کے سب سے بڑے فٹ بال ایونٹ کے فائنل میں ذمہ داریاں سنبھالنا ہر ریفری کے کیریئر کا ایک اہم ترین لمحہ سمجھا جاتا ہے۔ اسلاوکو وینچیچ کے ساتھ ان کے ہم وطن اور پرانے ساتھی توماز کلانچنک اور آندراز کواچک معاون ریفری کے فرائض انجام دیں گے۔ اس کے علاوہ اردن سے تعلق رکھنے والے ادھم مخادمہ کو چوتھا آفیشل مقرر کیا گیا ہے اور محمد الکلاف ریزرو اسسٹنٹ ریفری کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔ اسلاوکو وینچیچ یورپ کے تجربہ کار ریفریز میں شمار ہوتے ہیں اور وہ 2010 سے فیفا کے منظور شدہ بین الاقوامی ریفری ہیں۔ انہوں نے اپنے طویل کیریئر میں کئی اہم بین الاقوامی مقابلوں میں خدمات انجام دی ہیں، جن میں 2024 کے یوئیفا چیمپئنز لیگ فائنل جیسے بڑے میچ بھی شامل ہیں۔ 2022 کے فیفا ورلڈ کپ میں بھی وہ دو میچز میں ریفری کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں جبکہ موجودہ ورلڈ کپ میں اب تک تین میچز میں ان کی خدمات حاصل کی جا چکی ہیں۔ اس ٹورنامنٹ میں ان کا آخری میچ یکم جولائی کو میکسیکو اور ایکواڈور کے درمیان کھیلا گیا تھا، جس میں میکسیکو نے 0-2 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس سنسنی خیز مقابلے میں کئی کھلاڑیوں کو وارننگز دی گئیں اور انہوں نے قانون توڑنے پر ایکواڈور کے کھلاڑی پیئرو ہنکاپی کو ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا تھا۔ معاون ریفریز توماش کلانچنک اور آندراز کواچیچ ایک دہائی سے زائد عرصے سے بین الاقوامی سطح پر ایک ساتھ فرائض انجام دے رہے ہیں اور اس بار بھی وہ اسلاوکو وینچیچ کی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ فائنل جیسے بڑے مقابلے کے لیے ان کی تقرری ان کے وسیع تجربے کا اعتراف سمجھی جا رہی ہے۔ فائنل کے لیے اپنے نام کے اعلان کے بعد اسلاوکو وینچیچ کے جذباتی انداز نے دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ان کی آنکھوں میں آنے والے آنسو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ فیفا ورلڈ کپ کا فائنل صرف کھلاڑیوں ہی نہیں بلکہ آفیشلز کے لیے بھی زندگی کا ایک ناقابلِ فراموش لمحہ ہوتا ہے۔ یہ تقرری ان کے برسوں کی محنت، تجربے اور پیشہ ورانہ خدمات کا اعتراف بھی سمجھی جا رہی ہے۔



