فیصل آباد کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی نے پاکستان کا پہلا سرٹیفائیڈ ماحول دوست ’لیکوئیڈ ٹری‘ تیار کیا ہے جو ان کے مطابق کاربن کو ختم کر کے آکسیجن پیدا کر سکتا ہے۔ محکمہ ماحولیات پنجاب کی طرف سے جانچ پڑتال کے بعد ٹیرا سپارک نامی کمپنی کو ٹیکنالوجی ویلڈیشن سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ سال 1987 سے اب تک محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب سے تصدیق پانے والی یہ پہلی ٹیکنالوجی ہے جو مصنوعی درخت کی صورت میں CO2 جذب کرے گی۔ ٹیرا سپارک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سرفراز احمد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گذشتہ کئی برسوں سے یہ دیکھ رہے تھے کہ جب بھی سموگ کا سیزن شروع ہوتا ہے تو حکومت کی طرف سے تعلیمی ادارے بند کر دیے جاتے ہیں جبکہ ہسپتال سانس کی مختلف بیماریوں کے مریضوں سے بھر جاتے ہیں۔ ’دراصل پچھلے سو سال کے دوران فضا میں کاربن کی مقدار بہت زیادہ بڑھی ہے جس کا ایک ہی حتمی حل ہے کہ یا تو ہماری آبادی کم ہو جائے یا انڈسٹریلائزیشن کو بند کر دیا جائے، کوئی ایمیشن کسی قسم کی نہ ہو یا پھر اس کو کائی ایسا قدرتی طریقہ ہو کہ جس سے انڈسٹری کا پہیہ بھی چلے اور اکانومی بھی چلے لیکن ائیرکوالٹی یا فضا میں جو یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے جس سے آپ کو گرمی کی شدت بھی محسوس ہو رہی ہے وہ بھی کم ہو جائے۔‘ ڈاکٹر سرفراز احمد کہتے ہیں کہ اس نکتہ نظر کے ساتھ آٹھ سال پہلے ان کی ٹیم نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے تحقیق شروع کی جس کی بنیاد پر انہوں نے ’لیکوئیڈ ٹری‘ تیار کیا جس کو انہوں نے آکسی جینکس ٹری کا نام دیا ہے جو کہ ایک بائیوریکٹر ہے جس میں ایلجی کے ذریعے کاربن کو ختم کرکے آکسیجن پیدا کی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا ہے کہ ’مائیکروالجی، ایلجی، بیکٹریا اس کی مختلف اقسام ہیں یہ منی مائیکروبز ہیں جو مائیکروسکوپ سے نظر آتے ہیں۔ ان کی کاربن کو جذب کرنے کی صلاحیت درختوں کے مقابلے میں 50 گنا زیادہ ہے۔ بنیادی طور پر ہم نے بائیو ریکٹر سسٹم ڈویلپ کیا ہے جو ان کو ایسا ماحول فراہم کرتا ہے کہ یہ انسانوں کی خدمت کر سکیں۔‘ ان کے مطابق یہ ایک خلیہ والے جاندار سمندروں، دریاؤں، نہروں سمیت ہر ایسی جگہ پائے جاتے ہیں جہاں تازہ پانی موجود ہوتا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ’ہم نے مختلف جگہوں سے اس کو اکٹھا کیا، ان کو اپنی لیب میں چیک کیا، ان آٹھ سالوں میں ہم انہیں لیب میں چیک کرتے رہے۔ جس طرح ہر ماحول میں ہر درخت نہیں اگ سکتا اسی طرح ہر ماحول کے لیے ایلجی کی اقسام مختلف ہوتی ہیں۔ ’ابھی ہم فیصل آباد میں بیٹھے ہیں یہاں جو ایلجی لگی ہے یہ کچھ اور ہے، انوائرمنٹ ڈپارٹمنٹ لاہور میں جو بائیوریکٹر لگا ہوا ہے اس میں ایلجی کی قسم اور ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ جہاں بھی یہ بائیوریکٹر لگانا ہوتا ہے وہاں ان کی ٹیم پہلے اس جگہ کا اور ماحول کا معائنہ کرتی ہے کہ اس ماحول کے لیے کون سی ایلجی بہترین کام کرے گی۔ ’ہم نے آکسی جینکس کے ساتھ ٹری کا لفظ لوگوں کو سمجھانے کے لیے لگایا ہے کہ یہ درخت کی طرح کام کرتی ہے۔ جس طرح درخت فضا کو صاف کرتا ہے، ٹھنڈک پیدا کرتا ہے، گرمی کی شدت کو کم کرتا ہے۔ وہی سارے فیچر اس کے اندر موجود ہیں جو ایک درخت کے اندر ہوتے ہیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ آکسی جینکس ٹری خریدنے کے لیے ان کے پاس پاکستان کے علاوہ بیرون ملک بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور یورپی ممالک سے بھی آرڈرز آ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بائیوریکٹر اے آئی انٹیگریٹڈ ہیں جس کی وجہ سے ان کے ڈیٹا کو رئیل ٹائم میں لائیو کہیں سے بھی مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ ماحولیات پنجاب نے 26 اپریل 2026 کو ان کی کمپنی کے آکسی جینکس ٹری کو ویلیڈیشن سرٹیفکیٹ جاری کیا تھا جو کہ پنجاب ہی نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کا اولین ٹیکنالوجی ویلیڈیشن سرٹیفکیٹ ہے۔ انڈسٹریل سطح پر اس کے استعمال سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ ان کی اس ٹیکنالوجی نے انڈسٹری کے لیے انوائرمنٹ کمپلائنس کو ایک اضافی مالی بوجھ کی بجائے منافع حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب کوئی انڈسٹری کاربن کا اخراج نہیں کرے گی تو وہ ماحول دوست صنعت کہلائے گی جس سے اس کا انوائرمنٹ کمپلائنس پر آنے والا خرچ بھی کم ہو گا اور اس کی کسٹمر سوشل رسپانسبلٹی بھی بہتر ہو جائے گی۔ فیصل آباد پنجاب ماحولیات محکمہ ماحولیات پنجاب کی طرف سے جانچ پڑتال کے بعد ٹیرا سپارک نامی کمپنی کو ٹیکنالوجی ویلڈیشن سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ نعیم احمد منگل, جولائی 21, 2026 – 09: 30 Main image: ماحولیات jw id: QVM8JXvB type: video related nodes: میڈیکل آکسیجن کیسے بنتی ہے اور اس کی قلت کا سامنا کیوں ہے؟ چینی کمپنی کا بیٹری ٹیکنالوجی میں نئی پیش رفت کا اعلان پنجاب میں ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ’مائع درختوں‘ کا تجربہ SEO Title: فیصل آباد کی ٹیکنالوجی کمپنی کا بنایا گیا ’لیکوئیڈ ٹری‘ کیسے کام کرتا ہے؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage



