یورپی فٹ بال کی گورننگ باڈی یوئیفا (UEFA) نے اعلان کیا ہے کہ اگر جیانی انفانٹینو کے فیفا کے ٹورنامنٹس، بشمول ورلڈ کپ، میں نجی سرمایہ کاروں کو ملکیتی حصص فروخت کرنے کے متنازع منصوبوں کی منظوری دے دی گئی تو وہ فیفا کے مقابلوں کا بائیکاٹ کرے گی۔ یہ سخت اقدام، جو جمعرات کو ہونے والے ہنگامی اجلاس کے بعد سامنے آیا، یوئیفا کی تمام 55 رکن ایسوسی ایشنز نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ ایک بیان میں تصدیق کی گئی کہ ’جب تک یہ تجاویز برقرار رہیں گی، یوئیفا کی کوئی بھی قومی ٹیم فیفا کے کسی بھی مقابلے میں حصہ نہیں لے گی۔‘ یوئیفا کے پاس خاصا اثر و رسوخ ہے کیونکہ اگر عالمی چیمپئن اسپین، فرانس، انگلینڈ اور جرمنی جیسی بڑی ٹیمیں ورلڈ کپ میں شریک نہ ہوں تو انفانٹینو کے اس منصوبے کو شدید دھچکا پہنچے گا، جس کا مقصد دنیا کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ سے زیادہ سے زیادہ آمدنی حاصل کرنا ہے۔ اس ورلڈ کپ کے آٹھ کوارٹر فائنلسٹ میں سے چھ یورپی ٹیمیں تھیں۔ اس کا اثر اگلے سال برازیل میں ہونے والے ویمنز ورلڈ کپ پر بھی پڑے گا، جہاں موجودہ عالمی چیمپیئن سپین اور یورپی چیمپیئن انگلینڈ ٹورنامنٹ کی تجارتی اہمیت میں نمایاں کردار رکھتے ہیں۔ انگلینڈ، جو 2023 کے ویمنز ورلڈ کپ میں رنر اپ رہا تھا، اکتوبر میں دو مرحلوں پر مشتمل کوالیفائنگ پلے آف کھیلے گا، جبکہ سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ بھی یہی مرحلہ کھیلیں گے۔ انگلش فٹبال ایسوسی ایشن کی ترجمان نے بھی یوئیفا کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اپنے یورپی ساتھیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کے اجتماعی مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ ہم فیفا کے منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ فیفا ورلڈ کپ فٹبال کا ہے اور ہمیشہ فٹبال ہی کا رہے گا۔‘ دوسری جانب، 2030 ورلڈ کپ کا زیادہ تر حصہ یورپ میں کھیلا جائے گا، جہاں اسپین اور پرتگال، مراکش کے ساتھ مشترکہ میزبان ہوں گے، جبکہ ٹورنامنٹ کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں ارجنٹینا، یوراگوئے اور پیراگوئے میں بھی چند میچز منعقد کیے جائیں گے۔ منگل کو فیفا نے اعلان کیا تھا کہ وہ 20 ارب ڈالر مالیت کی ایک نئی ذیلی کمپنی قائم کرنا چاہتا ہے، جس میں 20 فیصد ملکیت نجی سرمایہ کاروں کی ہوگی۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) یہ کمپنی ورلڈ کپ اور دیگر بڑے ٹورنامنٹس کے تجارتی حقوق اور انعقاد کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ اس نئی سرمایہ کاری کی قیادت تھرائیو ایٹرنل کرے گی، جس کی سربراہی جوشوا کشنر کر رہے ہیں، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے بھائی ہیں۔ یوئیفا نے اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ صرف قیادت کی سنگین ناکامی نہیں بلکہ عالمی فٹبال کے محافظ کی حیثیت سے فیفا کی ذمہ داری سے دستبرداری ہے۔ جس لمحے بیرونی سرمایہ کار فیفا کے مقابلوں میں ملکیتی مفاد حاصل کریں گے، فٹبال ہمیشہ کے لیے بدل جائے گا۔ تجارتی منافع ایک مستقل ذمہ داری بن جائے گا۔ سرمایہ کاروں کی توقعات روزانہ کی بنیاد پر دباؤ بن جائیں گی۔‘ رکن ایسوسی ایشنز کو بھیجے گئے ایک خط میں انفانٹینو نے وعدہ کیا کہ اگر نئی FFE ذیلی کمپنی قائم ہو گئی تو 2027 سے 2031 کے آئندہ چار سالہ دورانیے میں فیفا فارورڈ پروگرام کے تحت قومی فیڈریشنز کو ملنے والی فنڈنگ تقریباً 80 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 2 کروڑ ڈالر کر دی جائے گی۔ یوئیفا کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’نیا بھر کی قومی ایسوسی ایشنز کے سامنے اب ایک الٹی میٹم رکھا جا رہا ہے: یا تو فٹبال کے عظیم ترین مقابلوں پر ناقابلِ واپسی قبضے کو قبول کریں یا اس کے نتائج بھگتیں۔ یہ کوئی ’جمہوری فیصلہ‘ نہیں بلکہ دھونس کے ذریعے حکمرانی ہے ایسا جبر جو عالمی کھیل کی نگرانی کی ذمہ داری رکھنے والے ادارے کو زیب نہیں دیتا۔‘ دنیا کے بہت سے چھوٹے ممالک، خصوصاً یورپ سے باہر، اپنی قومی ٹیموں کو چلانے، طویل المدتی گراس روٹ منصوبوں کو فروغ دینے اور میدانوں، اکیڈمیوں اور سٹیڈیمز جیسے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے لیے فیفا کی مالی معاونت پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس سال کے ورلڈ کپ سے قبل انفانٹینو نے دعویٰ کیا تھا کہ ’اگر فیفا نہ ہو تو دنیا کے 150 ممالک میں فٹبال ہی نہ ہو۔‘ یوئیفا کی جانب سے بائیکاٹ کی تصدیق 19 ستمبر کو ہونے والی ووٹنگ سے پہلے سامنے آئی ہے، جس میں فیفا کی 211 رکن ایسوسی ایشنز اس منصوبے پر ووٹ دیں گی۔ انفانٹینو کی تجاویز کی منظوری کے لیے 50 فیصد سے زیادہ ووٹ اور فیفا کونسل کی حمایت درکار ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر یوئیفا اس منصوبے کو روکنا چاہتی ہے اور بائیکاٹ سے بچنا چاہتی ہے تو اسے کسی اور کنفیڈریشن، مثلاً شمالی امریکہ یا ایشیا، کی حمایت بھی حاصل کرنا ہوگی۔ یوئیفا کا مکمل بیان ’یوئیفا اور اس کی تمام 55 رکن ایسوسی ایشنز ایک ہیں۔ ہم متفقہ اور دوٹوک انداز میں فیفا کی اس تجویز کو مسترد کرتے ہیں جس کے تحت ورلڈ کپ اور دیگر فیفا مقابلوں میں ملکیتی حصص نجی سرمایہ کاروں کو منتقل کیے جائیں گے۔ ورلڈ کپ کو سرمایہ کاری کی مصنوعات کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ فٹبال کی عظیم ترین کھیلوں کی میراث میں سے ایک ہے۔ اسے نسلوں تک کھلاڑیوں، قومی ٹیموں اور ہر براعظم کے شائقین نے مل کر بنایا ہے۔ اس کا کوئی بھی حصہ کبھی نجی سرمایہ کاروں کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے۔ ورلڈ کپ فروخت کے لیے نہیں ہے۔ یہ نہایت غیر ذمہ دارانہ اور ناقابلِ دفاع ہے کہ فٹبال کے لیے اتنی اہم تجویز خفیہ طور پر تیار کی گئی اور کھیل کے اصل ذمہ داران سے کسی بامعنی مشاورت کے بغیر منظوری کے قریب پہنچا دی گئی۔ یہ صرف قیادت کی سنگین ناکامی نہیں بلکہ عالمی فٹبال کے محافظ کی حیثیت سے فیفا کی ذمہ داری سے دستبرداری ہے۔ دنیا بھر کی قومی ایسوسی ایشنز کو اب ایک الٹی میٹم دیا جا رہا ہے: یا تو فٹبال کے عظیم ترین مقابلوں پر ناقابلِ واپسی قبضہ قبول کریں یا نتائج بھگتیں۔ یہ کوئی ‘جمہوری فیصلہ’ نہیں بلکہ دھونس کے ذریعے حکمرانی ہے، جو عالمی کھیل کے نگہبان ادارے کے شایانِ شان نہیں۔ لیکن ہماری مخالفت صرف طریقۂ کار تک محدود نہیں۔ جس لمحے بیرونی سرمایہ کار فیفا کے مقابلوں میں ملکیتی مفاد حاصل کریں گے، فٹبال ہمیشہ کے لیے بدل جائے گا۔ تجارتی منافع مستقل ترجیح بن جائے گا۔ سرمایہ کاروں کی توقعات روزانہ کا دباؤ بن جائیں گی۔ اس لمحے سے بین الاقوامی کیلنڈر، مقابلوں کے فارمیٹ اور فٹبال کے مستقبل سے متعلق ہر فیصلہ کھیل کے مفاد کے بجائے شیئر ہولڈرز کے مفاد کے مطابق کیا جائے گا۔ عالمی فٹبال میں اس ماڈل کی کوئی جگہ نہیں۔ فٹبال کا مستقبل ان لوگوں کی توقعات کے مطابق طے نہیں ہو سکتا جن کی پہلی ذمہ داری مالی منافع کو زیادہ سے زیادہ کرنا ہے۔ قومی ایسوسی ایشنز، لیگز، کلبوں، کھلاڑیوں اور شائقین کے مفادات سرمایہ کاروں کے منافع کے تابع نہیں بن سکتے۔ فٹبال اپنے مستقبل کو مالی فائدے کے لیے گروی نہیں رکھ سکتا۔ یورپ کا مؤقف واضح ہے۔ ہم اس ماڈل کو کبھی اپنی قانونی یا اخلاقی حمایت فراہم نہیں کریں گے۔ کسی کو بھی یہ اخلاقی اختیار حاصل نہیں کہ وہ ایسی چیز فروخت کرے جو اسے صرف آئندہ نسلوں کے لیے امانت کے طور پر سونپی گئی ہے۔ آج کی بحث کے نتیجے میں، جب تک یہ تجاویز مکمل طور پر واپس نہیں لی جاتیں اور فیفا یہ پابند ضمانت نہیں دیتا کہ آئندہ کبھی اپنی گورننس یا مقابلوں میں نجی ملکیت کی اجازت نہیں دے گا، یوئیفا کی کوئی بھی قومی ٹیم فیفا کے کسی مقابلے میں حصہ نہیں لے گی۔ کسی کو بھی اس بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے: یوئیفا اور اس کی قومی ایسوسی ایشنز ان منصوبوں کی پوری قوت کے ساتھ مخالفت کریں گی۔ کچھ مواقع ایسے ہوتے ہیں جب اداروں کا فیصلہ اس بنیاد پر نہیں ہوتا کہ وہ کیا قبول کرتے ہیں، بلکہ اس بنیاد پر ہوتا ہے کہ وہ کس چیز پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ یہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو فروخت نہیں کی جا سکتیں۔ فیفا ورلڈ کپ فٹبال کا ہے، ہمیشہ فٹبال ہی کا رہے گا، اور جب تک یورپ کی آواز موجود ہے، اسے کبھی فروخت نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘ فیفا فٹ بال ورلڈ کپ یوئیفا یہ سخت اقدام، جو جمعرات کو ہونے والے ہنگامی اجلاس کے بعد سامنے آیا، یوئیفا کی تمام 55 رکن ایسوسی ایشنز نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ جیمی بریڈ ووڈ جمعہ, جولائی 31, 2026 – 12: 30 Main image:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 19 جولائی 2026 کو فٹ بال ورلڈ کپ فائنل میں فیفا صدر جیانی انفانٹینو کے ہمراہ ٹرافی اٹھائے (اے ایف پی)
فٹ بال type: news related nodes: فیفا ورلڈ کپ کے ’یک طرفہ‘ فائنل میں ارجنٹائن کو شکست، سپین دوسری بار فاتح فیفا ورلڈ کپ فاتحین کو پہلی بار خصوصی انگوٹھیاں ملیں گی ٹرمپ کی ’کال‘ پر فیفا کا یوٹرن، امریکی کھلاڑی کو کھیلنے کی اجازت فیفا نے خاموشی سے ورلڈ کپ سٹیڈیمز کے لوگو مٹا دیے SEO Title: ’فٹبال برائے فروخت نہیں‘: یوئیفا نے فیفا مقابلوں کے بائیکاٹ کا کیوں کہا؟ copyright: IndependentEnglish origin url: https: //www. independent. co. uk/sport/football/world-cup-boycott-uefa-statement-fifa-b3024773. html show related homepage: Hide from Homepage



