سوشل میڈیا پر شہرت پانے کے لیے بعض اوقات لوگ اس قدر غیر ذمہ دارانہ حرکتیں کر بیٹھتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ عمان کے ساحلی علاقے میں ایک سمندری کچھوے کے ساتھ بنائی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد یوکرینی فٹنس انفلوئنسر وادیم اولینک کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ویڈیو میں انہیں انڈے دینے والے سمندری کچھوے کی پشت پر بیٹھنے اور ایک ننھے کچھوے کے بچے کو ہاتھ میں پکڑنے کی کوشش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ 28 ستمبر کو عمان کے مشہور محفوظ ساحل راس الجنز پر پیش آیا جہاں نایاب سمندری کچھوے افزائشِ نسل کے لیے آتے ہیں۔ سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انفلوئنسر نے اس وقت ایک بڑے سمندری کچھوے کو پریشان کیا جب وہ ریت پر رینگ رہا تھا۔ اس نے زبردستی کچھوے کے خول پر بیٹھنے کی کوشش کی اور ہنستے ہوئے اس کے چھوٹے سے بچے کو بھی اپنے ہاتھوں میں دبوچ لیا، جبکہ کچھوٹا بچہ خود کو چھڑانے کے لیے اپنے پر پھڑپھڑا رہا تھا۔ اس غیر انسانی فعل میں انفلونسر کی ساتھی خاتون نے بھی ساتھ دیا اور کچھوے کی پیٹھ پر بیٹھ کر تصاویر بنوائیں۔ جب یہ ویڈیوز اور تصاویر انٹرنیٹ پر وائرل ہوئیں تو صارفین اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اٹلی کے ایک سائنسی و تحفظاتی ادارے نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس کی شکایت متعلقہ حکام سے کر دی ہے۔ اس ادارے کا کہنا ہے کہ سمندری کچھوے جنگلی حیات کا حساس حصہ ہیں جنہیں اس طرح محض تصاویر اور شہرت کے لیے استعمال کرنا یا ان پر بیٹھنا کھلی زیادتی، بدسلوکی اور ناقابل برداشت جرم ہے۔ شدید عوامی تنقید اور دباؤ کے بعد وادیم اولینک نے سوشل میڈیا پر معذرت بھی کی۔ انہوں نے عمان کی ماحولیاتی اتھارٹی اور سبز سمندری کچھووں کے تحفظ سے وابستہ ایک تنظیم سے بھی اپنی پوسٹ میں مخاطب ہو کر افسوس کا اظہار کیا۔
فٹنس انفلوئنسر کی کچھوے کی سواری پر سوشل میڈیا صارفین برہم
RELATED ARTICLES



