78.5 F
Pakistan
Sunday, July 26, 2026
HomeEntertainmentفلم کو احتیاط سے لیبارٹری بھیجا جاتا کیونکہ اس کے اندر پوری...

فلم کو احتیاط سے لیبارٹری بھیجا جاتا کیونکہ اس کے اندر پوری شوٹنگ ٹیم کی محنت بند ہوتی، اگر فلم ضائع ہو جائے تو شوٹنگ نئے سرے سے کرنا پڑتی

مصنف: محمد سعید جاویدقسط: 2216 ملی میٹر۔ یہ فلم درمیانے سائز میں بنتی ہے اور اس میں ہر فریم پر ایک طرف دو پرفوریشن ہوتی ہیں۔ یہ چھوٹے پیمانے پر فیچر یا دستاویزی فلمیں بنانے کے کام آتی ہے۔ بعض اوقات 35 ایم ایم کی فیچر فلموں کو بھی اس سائز میں منتقل کر دیا جاتا ہے تاکہ لوگ سینما کے بجائے اس کو کسی محفل میں یا گھروں میں بھی دیکھ سکیں۔35 ملی میٹر۔ اس سائز کو 1909 ء میں فلم بندی کے لیے ایک بین الاقوامی معیار قرار دیا گیا تھا۔ اس میں فلم کی پٹی کے دونوں اطراف ہر فریم کے سامنے چار چار پرفوریشن ہوتی ہیں۔ اور یہ ایک مکمل سائز کی فلم ہوتی ہے جو کئی دہائیوں تک سینما گھروں میں چلائی جاتی رہی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ وہ سائز تھا جو ایڈیسن نے کائنیٹو اسکوپ کے لیے بنائی جانے والی اپنی فلموں کے لیے استعمال کیا تھا اور بعد میں وہ اپنے اثر و رسوخ کی بنا پر اس کو بین الاقوامی معیار تسلیم کروانے میں کامیاب ہو گیا تھا اور پھر اگلے سو سال سے بھی زیادہ عرصے تک زیادہ تر فیچر فلمیں 35 ایم ایم پر ہی بنتی رہیں۔50 ملی میٹر۔ اس سائز کی فلم بیچ میں کچھ عرصے کے لیے بنائی گئی تھی پھر مقبول نہ ہونے کی وجہ سے جلد ہی بند ہو گئی تھی۔65 ملی میٹر۔ یہ نسبتاً ایک بڑے سائز کی فلم ہے جس میں تصویری فریم کے دونوں اطراف پانچ پانچ پرفوریشن ہوتی ہیں۔ یہ فلمیں بڑے بجٹ کی فلم سازی کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔70 ملی میٹر ریگولر۔یہ 65 ملی میٹر کی فلم کو لینس کی مدد سے بڑا کر کے تھو ڑے بڑے فیتے پر بنائی جاتی ہے اور اس پر بھی دونوں طرف پانچ پانچ پرفوریشن ہوتی ہیں۔ یہ بھی عام فلموں کی طرح پروجیکٹر میں عمودی چلتی ہے یعنی اوپر کے اسپول سے اتر کرعدسے اور شٹر کے سامنے سے گزر کر نیچے لگے ہوئے دوسرے اسپول پر لپیٹی جاتی ہیں۔70 ملی میٹر آئی میکس۔یہ فلم چونکہ افقی چلتی ہے یعنی دائیں بائیں، اس لیے اس فلم کا فریم کافی بڑا ہوتا ہے۔ دوسرا اس میں چونکہ آواز کو ریکارڈ کرنے کا نظام بھی نہیں ہوتا اس لیے اس کے ایک فریم میں بنی ہوئی ایک تصویر کا سائز عام 35 ایم ایم کی فلم سے 8 گنا سے بھی زیادہ بڑا ہوتاہے۔ اس کے دونوں اطراف میں پندرہ پندرہ پرفوریشن ہوتی ہیں۔ اس لیے اکثر اوقات فلمی دنیا میں اس کو پیار سے 15/70 فلم بھی کہا جاتا ہے۔یعنی 70 ایم ایم کی 15 پرفوریشن کے ساتھ بنی ہوئی فلم۔ تیار شدہ یہ خام فلمیں چھوٹے چھوٹے کارٹرج میں ڈال کر فلم کیمرے میں استعمال کے لیے بھیجی جاتی ہیں اور وہاں فلم بندی سے پہلے اس کارٹرج کو بہت احتیاط سے اور کسی بھی قسم کی روشنی سے بچا کر کیمرہ میں نصب کیا جاتا ہے۔ یہ فلم روشنی کے معاملے میں بہت حساس ہوتی ہے۔ اس پر کسی طرف سے روشنی پڑجائے تو فلم فوراً ضائع ہوجاتی ہے۔ فلم کی عکس بندی مکمل ہونے کے بعد اس خام فلم کو بہت زیاد ہ احتیاط اور ذمہ داری سے کیمرے میں سے نکال کر لیبارٹری میں بھیجا جاتا ہے، جہاں اس کو مختلف کیمیکل سے دھونے کے بعد اس کے نیگٹو تیار ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ فلم بندی کے بعد تو اس کو اور بھی زیادہ احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ لیبارٹری میں بھیجا جاتا ہے کیونکہ اب یہ محض خام فلم ہی نہیں بلکہ اس کے اندر ڈائریکٹر، فوٹوگرافر اور پوری شوٹنگ ٹیم کی محنت بند ہوتی ہے۔ ذرا سی بے احتیاطی کے سبب اگر یہ فلم ضائع ہو جائے تو ساری شوٹنگ نئے سرے سے کرنا پڑتی ہے۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ حسرت ہی رہی پرائمری سکول میں میرا کوئی ہم نام ہوتا، ہم جماعت اپنے اپنے انداز میں اِس موضوع کو چھیڑتے اور مختلف زاویوں سے رد عمل دیتے

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments