63.8 F
Pakistan
Wednesday, October 14, 2026
HomeBreaking Newsغریب بھی پریشان ہے اور امیر بھی

غریب بھی پریشان ہے اور امیر بھی

پاکستان کی معیشت ایک اہم مرحلے سے گزر رہی ہے۔ مہنگائی، بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں، توانائی کی بلند قیمتوں اور زرمبادلہ کے دباؤ جیسے مسائل کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے حکومت کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے رواں مالی سال میں چار فیصد سے زائد معاشی ترقی کی توقع، سرکاری اداروں کی نجکاری اور زرمبادلہ استحکام کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مختلف محاذوں پر کام کر رہی ہے۔وزیراعظم میاں شہباز شریف کی معاشی اصلاحات اور ملکی استحکام کے لیے کوششوں کو سراہنا چاہیے۔ اسی طرح فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے قومی سلامتی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے کردار کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان کو ایسی قومی حکمت عملی درکار ہے جس میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر معیشت، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگرام، مالیاتی نظم و ضبط اور محصولات میں اضافے کی کوششوں سے پاکستان کو معاشی استحکام حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔ تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب اس استحکام کے ثمرات عام شہری تک پہنچیں گے۔ مہنگائی میں کمی، روزگار کے مواقع، کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ اور عوام کی قوتِ خرید کا تحفظ معاشی پالیسی کے بنیادی اہداف ہونے چاہییں۔حکومت کو ٹیکس نظام میں اصلاحات کرتے ہوئے ٹیکس نیٹ وسیع کرنا ہوگا تاکہ قومی آمدن میں اضافہ صرف پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے کاروباری اداروں پر مزید بوجھ ڈال کر نہ کیا جائے۔ غیر دستاویزی معیشت، ٹیکس چوری اور غیر ضروری سرکاری اخراجات کی روک تھام سے بھی قومی خزانے کو تقویت مل سکتی ہے۔ کم آمدن والے طبقات کے لیے ہدفی معاونت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی مؤثر نگرانی بھی ضروری ہے۔حکومت کی جانب سے پانچ سے چھ سرکاری اداروں کی نجکاری کا ہدف ایک اہم معاشی قدم ہے۔ خسارے میں چلنے والے ادارے طویل عرصے سے قومی وسائل پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔ اگر نجکاری شفاف انداز میں کی جائے تو حکومتی مالی بوجھ کم ہونے کے ساتھ اداروں کی کارکردگی اور خدمات کا معیار بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔تاہم نجکاری کا مقصد صرف فوری مالی وسائل حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ قومی اثاثوں کی منصفانہ قدر، سرمایہ کاروں کی اہلیت، ملازمین کے جائز حقوق اور صارفین کے مفادات کا تحفظ بھی لازمی ہے۔ حکومت کو مقامی سرمایہ کاروں، کاروباری گروپس اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے چاہییں تاکہ ملکی سرمایہ پیداواری سرگرمیوں میں استعمال ہو اور نئی ملازمتیں پیدا ہوں۔ پاکستان کو قرضوں اور بیرونی مالی معاونت پر انحصار کم کرنے کے لیے برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف بڑھنا ہوگا۔ ٹیکسٹائل، چاول، چمڑے، کھیلوں کے سامان، سرجیکل آلات، آئی ٹی اور انجینئرنگ مصنوعات سمیت کئی شعبوں میں عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔اس مقصد کے لیے برآمد کنندگان کو پالیسیوں کا تسلسل، مسابقتی توانائی نرخ، بروقت ٹیکس ریفنڈز اور آسان مالی سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو جدید ٹیکنالوجی اور عالمی ڈیجیٹل منڈیوں سے منسلک کرکے بھی برآمدی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔زراعت کے شعبے میں جدید آبپاشی، معیاری بیج، زرعی تحقیق اور فوڈ پروسیسنگ پر سرمایہ کاری سے پیداوار بڑھانے کے ساتھ زرعی برآمدات کو بھی فروغ ملے گا۔ پاکستان کو خام پیداوار فروخت کرنے کے بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کرنے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ کسانوں کی آمدن اور ملکی زرمبادلہ دونوں میں اضافہ ہو۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پاکستان کے لیے اقتصادی خطرات بڑھا سکتی ہے، کیونکہ ملکی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی توانائی سے پورا ہوتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف درآمدی بل بلکہ مہنگائی اور صنعتوں کی پیداواری لاگت کو بھی متاثر کرتا ہے۔حکومت کو شمسی توانائی، ہوا سے بجلی کی پیداوار، پن بجلی اور توانائی کی بچت کے منصوبوں پر توجہ دینی چاہیے۔ تیل و گیس کی درآمدات کے لیے بہتر منصوبہ بندی اور توانائی کے متبادل ذرائع کا فروغ طویل مدت میں معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔امریکا کے ساتھ مجوزہ دس ارب ڈالر کی زرمبادلہ استحکام سہولت کے لیے مذاکرات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ سہولت موزوں شرائط پر دستیاب ہوتی ہے تو پاکستان کے مالیاتی تحفظ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم بیرونی معاونت کو مستقل معاشی حل سمجھنے کے بجائے اسے برآمدات، سرمایہ کاری اور ملکی پیداوار بڑھانے کے لیے معاون ذریعہ بنانا چاہیے۔ ترسیلاتِ زر کو باضابطہ ذرائع سے لانے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے بھی عملی اقدامات ضروری ہیں۔ میری رائے میں پاکستان کے پاس معاشی بحالی کے مواقع موجود ہیں، لیکن ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے پالیسیوں میں تسلسل، شفافیت اور نتائج پر مبنی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ حکومت کو اپنے معاشی اہداف کی پیش رفت باقاعدگی سے عوام کے سامنے رکھنی چاہیے تاکہ کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کو واضح سمت دکھائی دے۔وزیراعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں جاری معاشی کوششوں اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے قومی استحکام اور اقتصادی تعاون کے لیے کردار کو مثبت انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ سیاسی قیادت، ریاستی اداروں، تاجر برادری اور صنعت کاروں کو مشترکہ قومی معاشی ایجنڈے پر اتفاق کرنا ہوگا۔پاکستان کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب معاشی استحکام مستقل ترقی، زیادہ برآمدات، نئی سرمایہ کاری اور عوام کے بہتر معیارِ زندگی میں تبدیل ہوگا۔ ہمیں ایسی معیشت تعمیر کرنی ہے جو بیرونی قرضوں کے بجائے اپنی پیداوار، ہنرمند افرادی قوت اور عالمی منڈیوں میں مسابقت کی بنیاد پر آگے بڑھے۔ یہی معاشی خودمختاری اور خوشحال پاکستان کی حقیقی ضمانت ہے۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments