وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے نجی دورے کے لیے سرکاری لگژری جہاز کے استعمال پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِاعظم یا وزیرِاعلیٰ کا کوئی دورہ نجی نہیں ہوتا بلکہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں عوام کی خدمت میں مصروف ہوتی ہیں۔ ملتان میں الیکٹرک بس سروس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ آج کل میرے جہاز کے سفر پر بڑی تنقید کی جا رہی ہے اور تنقید کرنے والوں کو 9 ارب کے جہاز سے بڑی تکلیف ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جہاز میرا نہیں بلکہ وزیرِاعلیٰ پنجاب کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے زیراستمال وسائل میں سب سے قیمتی وقت ہے، جہاز کا سفر وقت بچاتا ہے اور میرے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں ہے، اسی لیے عوام کی خوش حالی کے لیے جہاں جانا ہوا جہاز پر ہی جاؤں گی۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے دوران متاثرین تک پہنچنے کے لیے کشتیوں پر بھی سفر کیا لیکن کسی دوسرے پر ملک پر سفر موٹر بائیک یا چنگ چی پر نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں نے جہاز کے استعمال پر آنے والے پونے 3 کروڑ روپے کے اخراجات اپنی جیب سےادا کیے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر تنقید اس لیے ہو رہی ہے کیوں کہ میں کام کرر ہی ہوں، یہ تنقید مجھ پر نہیں بلکہ پنجاب کی ترقی پر ہورہی ہے۔ مریم نواز نے رواں ماہ کے آغاز میں اپنی بیٹی ماہ نور صفدر کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے لندن کا دورہ کیا تھا۔ اس نجی سفر کے لیے انہوں نے پنجاب حکومت کا ’گلف اسٹریم جی 500‘ نامی طیارہ استعمال کیا تھا۔ یہ وہی لگژری طیارہ ہے جس کی خریداری پر پنجاب حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ نجی دورے کے لیے سرکاری طیارے کے استعمال پر تنقید کے بعد جمعرات کے روز وزیراعلیٰ پنجاب نے عمر عباس نامی شخص کے ذریعے قومی خزانے میں 2 کروڑ 71 لاکھ 94 ہزار 4 روپے کی رقم جمع کرا دی ہے۔ یہ رقم بینک آف پنجاب کے چیک سے نیشنل بینک آف پاکستان کی ویلنشیا برانچ لاہور میں جمع کروائی گئی ہے۔



