81.2 F
Pakistan
Sunday, August 2, 2026
HomeCrimeعمران خان، بلوچستان اور کشمیر: ریاست ایک نئے موڑ پر

عمران خان، بلوچستان اور کشمیر: ریاست ایک نئے موڑ پر

عمران خان کو قیدِ ناحق میں 3 سال ہو چکے ہیں۔ اس دوران ماتحت عدالتوں سے ان کو جن مقدمات میں سزا سنائی گئی، ماہرینِ قانون کے مطابق اعلیٰ غیر جانبدار عدالت میں چند سماعتوں کے بعد ہی کالعدم قرار دی جا سکتی ہے۔ عمران خان کی رہائی قانونی نہیں، سیاسی فیصلے کے ذریعے ہی عمل میں آ سکتی ہے۔ 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اعلیٰ عدلیہ بھی غیر فعال ہو چکی ہے۔ تمام ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ طاقتوروں کی جنبشِ ابرو کے تابع ہو چکے ہیں۔ ایسے میں کبھی بھی قانونی فیصلے سے خان کو رہا نہیں کریں گے، رہائی صرف سیاسی فیصلے سے ہوگی، اور شرائط بھی ان کی ہوں گی جن کے ہاتھ میں لاٹھی ہے۔ مگر عمران خان اپنی بیماری کے باوجود کسی بھی ڈیل پر آمادہ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ کئی جانکاروں کے مطابق آخری ڈیل جو خان کو پیش کی گئی ہے، وہ پہلے ہسپتال، پھر بنی گالہ منتقلی اور دو سال خاموشی کی ہے، جسے خان نے مسترد کر دیا ہے۔ اس رجیم اور اس کے سب سے طاقتور سپہ سالار نے 3 سال تک خان کو پابندِ سلاسل رکھ کر دیکھ لیا، وہ پاکستان کے مسائل حل نہیں کر سکا۔ اپنی معاونت کے لیے جن کٹھ پتلیوں کو وزیرِ اعظم اور صدر بنایا، انہوں نے مسائل کیا حل کرنے تھے، وہ تو عوامی پذیرائی سے بھی کوسوں دور ہو چکے ہیں۔ سندھ اور پنجاب کو رجواڑوں کی طرح چلانے والے دو سال سے ناکام چلے آ رہے ہیں اور ہیئتِ مقتدرہ پر بوجھ بن چکے ہیں۔ آج بھی شفاف انتخابات ہوں، فارم 47 کے یہ جمہورے جمہور کے سامنے نامراد ہی رہیں گے۔ اس لیے سپہ سالار نے اپنے سب سے خاص کارندے کو اس نظام کی ناکامی کی منادی کرانے کا کہا، جس نے اعترافِ جرم کر لیا۔ اس میں کوئی شک نہیں، نئے صوبوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔ کراچی، سرائیکی صوبہ، ہزارہ، پوٹھوہار صوبہ ہونا چاہیے، مگر ان سب سے بڑھ کر جو چیز ضروری ہے، وہ سیاسی استحکام ہے۔ پاکستانی کشمیر لہو لہو ہے، بلوچستان میں بدامنی کی آگ لگی ہوئی ہے، ریاست سے بغاوت سلگ رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے ناراض ہی نہیں، وفاق سے بدگمان بھی ہو چکے ہیں۔ سپہ سالار کا کارِ خاص کہتا ہے، تمام سیاسی جماعتیں مل کر بیٹھیں، چاہے ایک دن، ایک ماہ یا ایک سال تک، مسائل حل کریں۔ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا جناب، جن سیاست کاروں کی عوامی ساکھ ہی داؤ پر لگ چکی ہو، ان سے کیا امیدیں؟ سیاسی استحکام لانا ہے تو مقبول ترین قیادت سے بات کرنی ہوگی۔ عمران آج بھی سب سے بڑی سیاسی طاقت ہے۔ اسے رہا کریں، بات کریں۔ ماہ رنگ بلوچ کو رہا کریں، علی وزیر کو رہا کریں، منظور پشتین سے بات کریں، کشمیری عوامی ایکشن کمیٹی سے بات کریں۔ ان سب کو اعتماد میں لیں۔ ایمان مزاری، ہادی چٹھہ، سہراب برکت، احمد فرہاد، شوکت میر، شاہ محمود قریشی، عمر سرفراز چیمہ، ڈاکٹر یاسمین راشد، محمود الرشید، اعجاز چوہدری، صنم جاوید، اس کی بہن، اور 9 مئی کے دیگر اسیران کو رہا کریں۔ تمام لاپتا افراد کو گھروں کو واپس آنا چاہیے۔ یاد رکھیں، جب تک اپنا اہنکار پسِ پشت رکھ کر بات نہیں کریں گے، یہ نظام یونہی نامراد رہے گا۔ اہنکار اس قدر خوفناک بلا ہے کہ راون جیسا طاقتور بھی اسی کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ ریاست اور عوام کو نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔

Read full story on Naya Daur Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments