چوپال میں سکوت کا عالم تھا۔ چپ سائیں ،نتھو ، پھتو اور دیگر سب خاموش تھے۔ چاچا رفیق ہمت کر کے بولے۔۔۔ سائیں جی خیر تو ہے۔۔ اس پر سکوت ٹوٹا۔۔۔ چپ سائیں نے گہری سانس لی اور توقف کے بعدبولے۔۔ بھائیو! ۔۔ میں دراصل حضرت انسان کی ترقی اور ترقی کے سفر میں پیچھے رہتی ہوئی انسانیت سے خوف زدہ سا ہو گیا ہوں۔ مجھے یہ ترقی اور مادیت پرستی اکثر ڈرا دیتی ہے کیونکہ ہم ترقی کے سفر میں انسان اور انسانیت سے دور ہو کر، ہوس، لالچ، فرعونیت کے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔۔ چپ سائیں دوبارہ خاموش ہو گئے اور چوپال میں پھر سکوت طاری ہو گیا۔۔۔چپ سائیں توقف کے بعد گویا ہوئے۔۔۔ بھائیو! ہم نے چاند سے لے کر مریخ تک کا سفر طے کر لیا ہے، پل بھر میں ہمارا پیغام حتیٰ کہ تصویر بھی دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اس تیز رفتاری اور ترقی کی دوڑ میں احساس، صبر اور ایک دوسرے کو جوڑنے والا دھاگہ کہیں کمزور تو کہیں ٹوٹ سا گیا ہے۔ بھائیو! ہم سکرینوں کے تو قریب ہیں، لیکن اپنے پاس بیٹھے انسانوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ جب رشتے، ناتے اور تعلقات بھی نفع نقصان کی بنیاد پر دیکھے جانے لگیں، تو وہاں سے دردمندی رخصت ہونے لگتی ہے۔ دوستو! زندگی اتنی تیز ہو چکی ہے کہ کسی کے پاس دوسرے کا دکھ سننے، رکنے یا کسی کی مدد کے لیے دو لمحے کا وقت ہی نہیں بچا اور سب ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے چکر میں ہیں۔پھتو نے ہمت کی اور کہا ۔۔۔ سائیں جی۔۔۔ دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اس دور میں بھی کچھ لوگوں میں احساس نام کی چیز ابھی باقی ہے۔۔ اس کی مثال یہ دوں گا کہ اگر ایک گھر میں ساری آسائشیں اور سہولیات ہیں تو اس گھر میں کوئی نہ کوئی فرد ایسا ہوتا ہے جو یہ احساس اور درد دل رکھتا ہے کہ ساتھ والے گھر۔۔ یا اپنے محلے کے ایسے گھروں جہاں پر دو وقت کی بھی روٹی میسر نہیں ہوتی۔۔۔ ان کا خیال رکھتا ہے اور ضرورت سے زیادہ۔۔ خاموشی سے تقسیم کر دیتا ہے۔۔۔ اس پر چپ سائیں بولے۔۔۔ حق ہو! ۔۔۔ اللہ ہو! ۔۔۔ سچ ہے! ۔۔ بھئی حق ہے۔۔ دوسرے لمحے چپ سائیں بولے۔۔ دوستو! اس دور میں واقعی کچھ لوگ جو انسان اور انسانیت کی مدد کر رہے ہیں، ان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ واقعی حضرت انسان کی زندگی کا مقصد کچھ اور ہی ہے۔ رفیق بھائی جب تک دنیا میں آپ جیسے حساس دل والے لوگ موجود ہیں جو اس کمی کو محسوس کر سکتے ہیں، تب تک یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ انسان واپس اپنے اصل یعنی ”دردمندی“ کی طرف لوٹ سکتا ہے۔چوپا ل کے بچوں، بھائیو اور دوستو انسان نے غار کی تاریکیوں سے سفر شروع کیا تھا، جہاں اس کا سب سے بڑا ہدف محض زندہ رہنا اور پیٹ بھرنا تھا۔ اس ابتدائی اور وحشت زدہ دور سے نکل کر آج کی سائنسی اور ڈیجیٹل دنیا تک پہنچنے کا سفر بظاہر معجزات سے کم نہیں ہے۔ ہم نے خلا کی وسعتوں سے لے کر، سمندر کی گہرائی کو تسخیر کیا۔ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ مادی طور پر، زمین کی تاریخ میں انسان آج جتنا طاقتور، بااختیار اور آسائش پسند ہے وہ پہلے کبھی نہیں تھا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس دوڑ میںہم نے اپنی روح، دردمندی اور انسانیت کو راستے میں ہی کہیں کھو دیا ہے اورانسان کھوکھلا ہو گیا ہے اور صرف بڑی بڑی باتیں ہی رہ گئی ہیں۔ حضرت انسان کے اس ترقی یافتہ دور کو گلوبل ولیج کہا جاتا ہے لیکن یہ وہ گلوبل ولیج ہے جہاں اس کے باسی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں اور احساس تو دور بہت دور ہو گیا ہے۔صاحبو! قابل ذکر بات یہ ہے کہ ترقی کا موجودہ ماڈل سراسر مادی ہے۔ اس کا پورا زور اس بات پر ہے کہ انسان کو کتنی جسمانی آسائشیں فراہم کی جا سکتی ہیں ہم تو تعلق بھی اس بنیاد پر بناتے ہیں کہ آنے والے دور میں کون کس کی کتنی مدد کر سکے گا، تو عرض گزارش یہ ہے کہ جناب جس کی جیب بھاری ہو گی یا جو صاحب اقتدار ہو گا وہی کسی دوسرے کی مدد کر سکے گا۔۔ شریف اور پارسا لوگ تو بس ہاتھ اٹھا کر دعا ہی کر سکتے ہیں جو وہ کرتے رہیں گے لیکن ان سے تعلق تو صاحب اقتدار لوگ کہاں قائم کرتے ہیں؟۔۔ باقی بس باتیں ہیں اور باتوں کا کیا۔۔۔خیر چپ سائیں چپ کر گئے۔۔۔کچھ دیر بعد گویا ہوئے۔۔نتھو، پھتو میرے بچوں ماضی میں جب وسائل کم تھے، تو انسانوں کے درمیان روابط گہرے تھے۔ پڑوس میں کسی کے ہاں فاقہ ہوتا تو پورے محلے کو نیند نہیں آتی تھی۔ آج ہماری بلند و بالا سوسائٹیوں میں، ایک ہی منزل پر رہنے والے دو پڑوسی ایک دوسرے کے نام تک سے واقف نہیں ہوتے۔ ایک پڑوسی کے گھر میں خوشی اور عید قربان ہوتی ہے تواس کے ساتھ دوسرے کے ہاں اندھیرے ، ویرانی اور خاموشی۔۔۔۔بھائی رفیق ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا دعویٰ یہ تھا کہ یہ انسانوں کو قریب لائے گی ہواتو ایسا ہی لیکن دل دور ہو گئے۔۔۔۔ افسوس۔۔۔ اس نے جغرافیائی فاصلے تو مٹا دیے، لیکن جذباتی فاصلوں کو بڑھادیا ہے، آج ایک ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا ہوا پورا خاندان اپنے اپنے سمارٹ فونز کی سکرینوں میں گم ہے۔ ہم ہزاروں میل دور بیٹھے کسی انجان شخص کی پوسٹ پر©©”واہ واہ“ کررہے ہوتے ہیں لیکن قرب کی اداسی اور حالات سے لاعلم ہوتے ہیں۔صاحبو! جب معاشرہ کسی انسان کو اس کے اخلاق، اس کے علم، اس کی شرافت یا اس کی دردمندی کے بجائے اس کے برانڈڈ کپڑوں، اس کی گاڑی کے ماڈل اور اس کے بینک بیلنس سے تولنا شروع کر دیتا ہے، تو وہاں ایک ایسی نسل پروان چڑھتی ہے جو ہر قیمت پر دولت کمانا چاہتی ہے۔ اس دوڑ میں رشتہ داریاں، دوستیاں اور انسانی تعلقات ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ آج زندگی کی رفتار اتنی تیز ہو چکی ہے کہ انسان ایک مشین بن چکا ہے جسے صبح اٹھ کر ایک خاص روٹین کے مطابق بھاگنا اور رات کو تھک کر سو جانا ہے۔اس کا سب سے ہولناک مظہر ہمیں سڑکوں پر نظر آتا ہے۔ اگر کسی سڑک پر کوئی حادثہ ہو جائے اور کوئی زخمی تڑپ رہا ہو، تو اکثریت وہاں سے یہ سوچ کر گزر جاتی ہے کہ ”ہمیں دیر ہو جائے گی“ یا ”ہم اس چکر میں کیوں پڑیں“۔ اور جو لوگ رکتے بھی ہیں، ان میں سے ایک بڑی تعداد زخمی کی مدد کرنے کے بجائے اپنے موبائل نکال کر ویڈیو بنانا شروع کر دیتی ہے۔ انسانیت مکمل طور پر فنا ہو چکی ہے۔۔۔ یہ غلط ہے۔۔۔ اس بھری دنیا میں کوئی انجان ضرورت پڑنے پر کام آجاتا ہے اورجانے مانے لوگ۔۔۔”پہچانے“ جاتے ہیں۔خیر۔۔ دوستو! خرابی وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں ہم مادی ترقی کو تو گلے سے لگا لیتے ہیں لیکن اخلاقی اور روحانی ترقی کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں۔صاحبو! ہمیں اب یہ اعتراف کرنا ہو گا کہ ہم غلط سمت میں بہت آگے نکل آئے ہیں۔ ہمیں بچوں کو سکھانا ہے کہ ایک اچھا اور دردمند انسان کیسے بننا ہے۔ اس بیداری کو مایوسی میں بدلنے کے بجائے ایک تحریک بنائے۔۔۔ رہے نام اللہ کا! ۔
عصر حاضر، مادی عروج اور انسانیت!
RELATED ARTICLES



