ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ انقرہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سرگرم ہے۔ پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ رکاوٹوں کے باوجود ترکیہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے پرامید ہے، تاہم بند مٹھیوں کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں۔ اردوان نے خبردار کیا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے امن کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، لہٰذا جنگ بندی سے ملنے والے موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ ترکیہ اس سلسلے میں امریکہ، ایران اور ثالث پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ جلد دوبارہ مذاکرات اور کسی معاہدے تک پہنچنے کی امید ظاہر کی ہے۔ اسی تناظر میں رواں ہفتے انطالیہ میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات متوقع ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف بھی شریک ہوں گے۔



