72.6 F
Pakistan
Wednesday, April 22, 2026
HomePoliticsصبر کا امتحان

صبر کا امتحان

یہ شطرنج کی بساط ہے، جہاں پاکستان محض ایک کھلاڑی نہیں بلکہ ثالث ہے اور دونوں فریق ہی اس کردار کو تسلیم کرتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو کھیل شروع ہی نہیں ہوتا۔ عالمی سیاست میں بعض کردار بظاہر سادہ دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں نہایت پیچیدہ ہوتے ہیں۔ ثالثی بھی ایسا ہی ایک کردار ہے۔ یہ صرف پیغام رسانی یا ملاقاتوں کا بندوبست نہیں، بلکہ اعتماد کی ایک نازک ڈور کو تھامنے کا نام ہے۔ اور جب یہی اعتماد کمزور پڑ جائے تو بہترین نیت بھی بے اثر ہو جاتی ہے۔ جب ہفتوں سے جاری جنگ کے بادل گہرے ہو رہے تھے تو پاکستان کی کوششوں سے پہلے امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ اس کے بعد اسلام آباد میں دونوں کے درمیان براہ راست مذاکرات بھی ہوئے، جو نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ تاہم پاکستان کی کوششیں رکیں نہیں بلکہ ان میں تیزی آئی۔ فریقین کو کسی معاہدے تک لانے کی کوشش میں فیلڈ مارشل عاصم منیر خود ایران گئے اور پھر اطلاعات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیلی فون پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ اس کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کے ایک نئے دور کی تیاری شروع ہوئی، جسے تقریباً حتمی شکل بھی دے دی گئی اور پھر مہمانوں کی آمد کا انتظار ہونے گا۔ نظریں پھر اسلام آباد پر جم گئیں، مختلف حلقوں سے تبصرے ہونے لگے، وفود کی آمد کی قیاس آرائیاں بڑھنے لگیں اور انتظار طول پکڑتا گیا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) دو ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کی صبح، 22 اپریل، ختم ہونا تھی، مگر چند گھنٹے پہلے ہی صدر ٹرمپ نے اس میں توسیع کا اعلان کیا اور کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ پاکستانی قیادت کے کہنے پر کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ثالثی میں پاکستان کا کردار بدستور فعال ہے، لیکن اصل سوال ابھی بھی وہیں ہے: فریقین اسلام آباد کب آئیں گے؟ انتظار بڑھ رہا ہے اور صبر کا امتحان سخت ہوتا جا رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بیچ پاکستان کو ایک ایسے ثالث کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جسے بظاہر دونوں ممالک کا اعتماد حاصل ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ اصرار کہ اسلام آباد ہی واحد ذریعہ ہے، محض سفارتی بیان بھی ہو سکتا ہے اور ایک مجبوری بھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ کردار پاکستان کی طاقت بن رہا ہے یا اس کی ساکھ کے لیے ایک امتحان؟ بظاہر یہ ایک سادہ فیصلہ تھا کہ امریکہ نے پاکستان کو دوسرے مرحلے کے مذاکرات کے لیے واحد ثالث چنا۔ اصولی طور پر اس پر بحث کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے تھی۔ مگر جب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کو اس فیصلے کا بار بار دفاع کرنا پڑے تو سوال اٹھنا فطری ہو جاتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک کی جانب سے ثالثی کی پیش کش کی گئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ، ایران کشیدگی نے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کو متاثر کر کے ایک بڑا بحران پیدا کر دیا ہے۔ ایسے میں مختلف ممالک کا ثالثی کے لیے آگے آنا غیر معمولی نہیں بلکہ ایک فطری ردِعمل ہے۔ پاکستان کو یہ کریڈٹ ضرور دیا جا سکتا ہے کہ اس نے تہران کو مذاکرات کی میز تک لانے میں کردار ادا کیا۔ لیکن برملا یہ کہنا کہ ثالثی کے اس پورے عمل میں پاکستان ہی واحد ذریعہ ہے تو اس سے ذمہ داری بھی بڑھتی ہے اور دباؤ بھی۔ ان سفارتی کوششوں کے دوران پاکستان نے عمومی طور پر خاموشی اختیار کیے رکھی اور کھل کر بیانات دینے سے گریز کیا۔ یہ حکمتِ عملی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اسلام آباد نے امریکہ اور ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو رازداری میں رکھا، تاکہ دونوں ممالک کا اعتماد برقرار رہے اور کسی بھی ممکنہ پیش رفت کو غیر ضروری میڈیا توجہ یا سیاسی دباؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس محتاط رویے کے ذریعے پاکستان نے ایک ذمہ دار ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ثالث کا بنیادی کام یہی ہوتا ہے کہ وہ فریقین کو ایک میز پر لے آئے لیکن دونوں فریق جو دہائیوں دیرنا مخاصمت رکھتے ہیں اور ان کے درمیان عدم اعتماد کی ایک گہری خلیج ہے، ایسے میں پاکستان کے لیے یہ کام آسان نہیں۔ اس تمام صورت حال میں پاکستان کے لیے راستہ بند نہیں ہوا، مگر مشکل ضرور ہو گیا ہے۔ ان حالات میں دروازے کھلے رکھنے ہوں گے، رابطے برقرار رکھنے ہوں گے، اور سب سے بڑھ کر اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ کیونکہ آخرکار، اس شطرنج کی بساط پر جیت کسی ایک فریق کی نہیں بلکہ اس پل کی ہوتی ہے جو دونوں کناروں کو جوڑنے میں کامیاب ہو جائے۔ امریکہ ایران سفارت کاری اسلام آباد مذاکرات فیلڈ مارشل عاصم منیر شہباز شریف پاکستان کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان صرف مذاکرات کے لیے صرف پیغام رسانی کا بندوبست کرنا نہیں، بلکہ اعتماد کی ایک نازک ڈور کو تھامنے رکھنا بھی ہے۔ محمد اشتیاق بدھ, اپریل 22, 2026 – 13: 45 Main image:

اسلام آباد میں ایک شہری 22 اپریل 2026 کو اخبار پڑھ رہا ہے جس کی سرخ ہے ’امریکہ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کر دی‘ (اے ایف پی)

نقطۂ نظر type: news related nodes: خاموش سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی جب ٹرمپ گھنٹوں چیختے اور سچویشن روم سے باہر رہے امید ہے امریکہ اور ایران جنگ بندی جاری رکھیں گے: پاکستان پاکستان کے فیلڈ مارشل اچھا کام کر رہے ہیں: ٹرمپ SEO Title: صبر کا امتحان copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments