87.4 F
Pakistan
Wednesday, July 8, 2026
HomePoliticsشناخت کا بحران — ایک عام کشمیری کا کرب

شناخت کا بحران — ایک عام کشمیری کا کرب

میں ایک عام کشمیری ہوں۔ میں نہ سیاست دان ہوں، نہ کسی جماعت کا کارکن، نہ کسی ریاست کا ترجمان۔ میں صرف ایک ایسا انسان ہوں جو آج کل اپنے ہی لوگوں کے درمیان اپنی شناخت ثابت کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ گذشتہ کئی ہفتوں سے میں جموں و کشمیر میں جاری عوامی احتجاج کو بطور صحافی اور مبصر دیکھ بھی رہا ہوں اور رپورٹ بھی کر رہا ہوں۔ لیکن اس دوران ایک ایسی چیز نے مجھے سب سے زیادہ زخمی کیا ہے جس کا تعلق نہ سڑکوں سے ہے، نہ جلسوں سے، نہ مذاکرات سے۔ اس کا تعلق دل سے ہے۔ سوشل میڈیا پر بار بار پڑھنے کو ملتا ہے: “تم غدار ہو۔”، “تم انڈین ایجنٹ ہو۔”، “کشمیریوں کی حقیقت اب سامنے آ گئی ہے۔” یہ الفاظ شاید لکھنے والے کے لیے چند سیکنڈز کے غصے کا اظہار ہوں، مگر ایک کشمیری کے لیے یہ برسوں کی محبت، وابستگی اور قربانی پر سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔ شاید پاکستان کے کسی شہر میں بیٹھا ایک عام آدمی یہ محسوس نہ کر سکے کہ شناخت کا بحران کیا ہوتا ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں پیدا ہونے والا پاکستانی بچہ اپنی شناخت کے بارے میں کبھی نہیں سوچتا۔ وہ پیدا ہی پاکستانی ہوتا ہے۔ اس کی شہریت، اس کی شناخت اور اس کا تعلق کبھی بحث کا موضوع نہیں بنتا۔ لیکن ہم کشمیری مختلف ہیں۔ ہمارے پاس پاکستان کے شناختی کارڈ ہیں، پاکستانی پاسپورٹ ہیں۔ ہماری زندگی پاکستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، لیکن ہماری سرزمین آج بھی ایک بین الاقوامی تنازع کا حصہ ہے۔ دنیا ہمیں متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کے باشندے کہتی ہے۔ ہندوستان آج بھی ہمیں اپنا وہ حصہ قرار دیتا ہے جسے واپس لینا اس کا مقصد ہے۔ اسی لیے وہ ہمیں “پی او کے” یعنی “پاکستانی مقبوضہ کشمیر” کہہ کر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ ہم ایک ایسی سرزمین کے باسی ہیں جس کی شناخت آج بھی عالمی سیاست کے درمیان معلق ہے۔ شاید اسی لیے ہماری پاکستان سے محبت کا جذباتی رشتہ بھی ایک قانونی تنازع کہلاتا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں۔ انہوں نے جنگیں لڑیں۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ وابستگی کو اپنے مستقبل کا راستہ سمجھا۔ یہی تاریخ ہمیں ورثے میں ملی۔ میں نے اپنا بچپن کشمیر کی وادیوں میں گزارا۔ میری جوانی لاہور میں گزری۔ لاہور نے مجھے تعلیم دی، مخلص دوست دیے، خوبصورت یادیں دیں اور محبت دی۔ آج بھی جب لاہور کا نام آتا ہے تو دل میں ایک عجیب سی اپنائیت جاگ اٹھتی ہے۔ آج بھی میری زندگی کا بڑا حصہ اسلام آباد میں گزرتا ہے۔ پاکستان کے اس دارالحکومت میں میرے خواب بھی ہیں اور میری محنت بھی۔ میں پاکستان کو کسی نقشے پر نہیں جانتا، میں اسے اپنے تعلقات، اپنی یادوں اور اپنی زندگی کے ذریعے جانتا ہوں۔ شاید اسی لیے جب کوئی مجھے “غدار” کہتا ہے تو دکھ صرف اس لفظ کا نہیں ہوتا، دکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ میری پوری زندگی کو ایک لمحے میں جھٹلا دیا جاتا ہے۔ جموں و کشمیر میں آج جو تحریک چل رہی ہے، اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، اس کے مطالبات پر بحث ہو سکتی ہے اور اس کی قیادت پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں۔ یہ سب جمہوری حق ہے۔ لیکن پورے کشمیر کے لوگوں کی حب الوطنی پر سوال اٹھا دینا، انہیں ہندوستان کا ایجنٹ قرار دینا اور ان کی نیت پر حملہ کرنا شاید انصاف نہیں۔ کسی بھی معاشرے میں اختلاف غداری نہیں ہوتا۔ ریاست سے مطالبات کرنا دشمنی نہیں ہوتی۔ اپنے حقوق کی بات کرنا کسی دوسرے ملک کی وفاداری کا ثبوت نہیں ہوتا۔ ایک کشمیری ہونے کے ناطے مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب مجھے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ شاید ہماری ساری قربانیاں، ہماری ساری محبت اور ہماری ساری وابستگی چند سوشل میڈیا پوسٹوں کے سامنے بے معنی ہو گئی ہیں۔ میں آج بھی پاکستان سے محبت کرتا ہوں۔ میں آج بھی چاہتا ہوں کہ پاکستان ہمیں سمجھے، ہمارے دکھ کو سنے اور ہمارے سوالوں کو دشمنی نہ سمجھے۔ ہمیں غدار کہنے سے پہلے شاید ایک لمحے کے لیے یہ سوچ لینا چاہیے کہ ایک کشمیری روز کس قسم کی کشمکش میں جیتا ہے۔ ایک طرف ہندوستان اسے اپنا شہری کہتا ہے، دوسری طرف اگر پاکستان میں کوئی اسے غدار کہہ دے تو وہ آخر خود کو کس کا سمجھے؟ شاید یہی شناخت کا بحران ہے۔ اور یقین مانیے، شناخت کا بحران صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں ہوتا، یہ انسان کے اندر خاموشی سے ٹوٹنے کا عمل ہوتا ہے۔ میری صرف ایک خواہش ہے۔ اگر آپ ہماری رائے سے اختلاف کرتے ہیں تو ضرور کیجیے۔ اگر ہمارے مطالبات غلط لگتے ہیں تو دلیل دیجیے۔ لیکن خدارا، ہماری محبت پر شک نہ کیجیے۔ کیونکہ محبت پر لگنے والا الزام شاید ہر الزام سے زیادہ تکلیف دیتا ہے۔

Read full story on Naya Daur Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments