فیصل آباد کو پاکستان کا مانچسٹر کہا جاتا ہے۔ یہ صنعتی ترقی کا مرکز تو ہے ہی لیکن بڑی آبادی کے ساتھ ساتھ انڈسٹریل سٹی ہونے کی وجہ سے بھی اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ان حالات میں اس کاروباری مرکز میں جرائم کی شرح کو کنٹرول کرنا ہمیشہ سے چیلنج رہا ہے۔ گزشتہ دنوں اسی ریجن سے ایک ایسی خبر ملی جس نے چونکا دیا۔ کرائم آبزرور کی حیثیت سے میں نے اس ایک خبر کی بنیاد پر کام کیا تو مزید ڈیٹا سامنے آ گیا۔ ان دنوں فیصل آباد کے ریجنل پولیس آفیسر سہیل اختر سکھیرا ہیں۔ یہ آفیسر اس سے پہلے لاہور جیسے مشکل شہر میں بھی سروس کر چکے ہیں اور پنجاب کی سطح پر بھی آپریشنز کی کمانڈ کرتے رہے ہیں۔ اب انہوں نے فیصل آباد ریجن میں کرائم کے خلاف کریک ڈاو¿ن شروع کر رکھا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ اہم بات نہیں ہے کیونکہ ہر ڈی پی او اور آر پی او جرائم کے خلاف کریک ڈاو¿ن کرتا ہے۔ میرے لیے اہم چیز قتل کے اشتہاری ملزمان کا وہ ڈیٹا ہے جو اس سے پہلے دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔ کرائم رپورٹر جانتے ہیں کہ قتل کا ملزم اشتہاری ہو جائے تو وہ کتنا خطرناک ہو جاتا ہے۔ وہ معاشرے میں آزاد نہیں رہ سکتا ، کوئی کاروبار یا ملازمت نہیں کر سکتا۔ اسے ہر وقت مخالفین اور پولیس دونوں سے خطرہ لاحق رہتا ہے۔ اس لیے عموماً ایسے ملزمان اپنے گینگ بنا کر سنگین جرائم کے راستے پر چل نکلتے ہیں جن میں ڈکیتی ، راہزنی اور قتل کے ساتھ ساتھ پولیس مقابلے بھی شامل ہوتے ہیں۔ مجھے جو مستند ڈیٹا ملا اس کے مطابق آر پی او سہیل اختر سکھیرا کی کمانڈ میں انتہائی مختصر مدت میں قتل کے 167 اور اقدامِ قتل کے 202 سنگین مقدمات کے اشتہاریوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جا چکا ہے۔ پولیس کی کارکردگی رپورٹ میں یہ بڑی کامیابی ہے جس کا کریڈیٹ فیصل آباد پولیس کمانڈ کو جاتا ہے۔اس میں دو رائے نہیں کہ یہ سہیل اختر سکھیرا کی اس “سٹرٹیجک کمانڈ” کا نتیجہ ہے جس نے پولیس فورس کو ایک فعال اور تعاقب کرنے والی “مشین” میں تبدیل کر دیا ہے۔ قتل کے اشتہاریوں کو پکڑنا پولیس کے لیے سب سے کٹھن کام ہوتا ہے اور اتنی بڑی تعداد میں ان کی گرفتاری ثابت کرتی ہے کہ فیصل آباد ریجن اب کسی بھی مجرم کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں رہا۔ میں نے اس کے بعد مزید ڈیٹا اکٹھا کیا تو معلوم ہوا کہ سہیل اختر سکھیرا کی تعیناتی کے بعد سے اب تک فیصل آباد پولیس کیٹگری اے کے 1586 اور کیٹگری بی کے 3998 اشتہاریوں کو گرفتار کر چکی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اسی عرصہ میں 256 خطرناک گینگز کا خاتمہ ہوا اور ان میں ملوث 675 ملزمان گرفتار کر لیے گئے۔ یہ وہ عناصر تھے جو شہر کے امن کو دیمک کی طرح کھا رہے تھے۔ برآمدگیوں کی بات کی جائے تو 11 کروڑ 81 لاکھ روپے سے زائد کی نقدی، طلائی زیورات، مویشی اور دیگر مسروقہ سامان مجرموں سے بازیاب کر کے شہریوں کو لوٹایا گیا۔منشیات کے خلاف جنگ بھی اس دور کی ایک خاص پہچان ہے۔ منشیات فروشوں کے خلاف 4339 مقدمات کا اندراج ہوا اور 4496 منشیات فروشوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے بھاری مقدار میں چرس، ہیروئن، آئس کے ساتھ ساتھ 52 ہزار لیٹر سے زائد شراب برآمد کر کے منشیات فروشوں کے نیٹ ورکس کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ سہیل سکھیرا کا یہ نقطہ نظر انتہائی اہم ہے کہ جب تک منشیات فروشوں اور جوئے کے اڈوں کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا تب تک معاشرتی برائیوں کا سدِ باب ممکن نہیں۔ ان کی کمانڈ میں ہونے والے کریک ڈاو¿ن نے شہر کی گلیوں اور محلوں کو ان ناسوروں سے پاک کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ جدید دور میں پولیسنگ کا مطلب صرف ڈنڈا چلانا نہیں بلکہ عوامی سہولت بھی ہے۔ اس حوالے سے دیکھا تو خوشگوار حیرت ہوئی کہ سہیل اختر سکھیرا نے “اوپن ڈور پالیسی” کے تحت کھلی کچہریاں لگا کر 5367 شہریوں کے مسائل براہِ راست سنے اور حل کیے۔ 1787 آن لائن شکایات کا ازالہ اور خدمت مراکز کے ذریعے 2 لاکھ 34 ہزار سے زائد شہریوں کو سہولت فراہم کی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیصل آباد پولیس اب “عوام دوست” فورس بن چکی ہے۔ تحفظ و میثاق سینٹرز کے ذریعے ہزاروں شکایات کا ازالہ بتا رہا ہے کہ مظلوم اور کمزور طبقے کے تحفظ کو اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھا گیا ہے۔ ایک بہترین کمانڈر وہی ہوتا ہے جو اپنے ماتحتوں کی فلاح کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتا ہے جتنی کہ اپنے فرائض کو دیتا ہے۔ فیصل آباد میں مجرموں کے خلاف اتنی بڑی کاروائیاں اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پولیس فورس اپنے کمانڈر کے ساتھ کھڑی نہ ہو۔ کمانڈر کی سٹریٹیجی اس وقت ہی کامیاب ہوتی ہے جب فورس اپنے کمانڈر کے وقار کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لے۔ اس بارے میں جاننے کے لیے میں نے آر پی او فیصل آباد کے پی آر او ڈاکٹر رضوان سے بات کی تو یہ جان کر خوشی ہوئی کہ وہ پی ایچ ڈی ڈگری کے حامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آر پی او سہیل اختر سکھیرا نے نہ صرف شہدائ کے بچوں کے لیے 100 فیصد تعلیمی رعایت اور میڈیکل سہولیات کے لیے نجی اداروں کے ساتھ ایم او یوز سائن کیے بلکہ حاضر سروس افسران کے بچوں کے لیے بھی خصوصی ڈسکاو¿نٹ پیکجز متعارف کروائے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دوران سروس کسی بیماری سے وفات پا جانے والے پولیس ملازمین کے بچوں کو بھی شہدا کے بچوں کی طرح مالی سپورٹ مہیا کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فورس اپنے کمانڈر کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔بلاشبہ جب ایک سپاہی کا خاندان محفوظ اور خوشحال ہوتا ہے تو وہ خود میدانِ عمل میں زیادہ جذبے کے ساتھ لڑتا ہے۔ فیصل آباد کی تاریخ میں ان کی یہ کارکردگی ایک ایسی مثال بن گئی ہے کہ ان کی ترتیب دی گئی سٹریٹیجی دیگر پولیس افسران کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔ سہیل اختر سکھیرا ماڈل دیگر ریجنز کو بھی اپنانا چاہیے۔ جب پولیس خانہ پری اور چھوٹے چھوٹے ملزمان کی گرفتاریوں سے نمبر گیم پوری کرنے کی بجائے خطرناک گینگز اور قتل کے اشتہاریوں کے گرد گھیرا تنگ کرتی ہے تو مجرموں کا نیٹ ورک حقیقی معنوں میں ٹوٹ جاتا ہے۔ یہی فارمولا فیصل آباد پولیس نے اپنایا۔ دیگر اضلاع جو بھی چاہیے کہ عوام کو نمبر گیم کی بجائے بڑے مجرموں کی گرفتاری سے قائم ہونے والا حقیقی امن مہیا کریں۔
سہیل سکھیرا ماڈل : خطرناک مجرم خطرے میں !
RELATED ARTICLES



