72.8 F
Pakistan
Sunday, July 26, 2026
HomeLifestyleسو سالہ مسئلہ سلجھانے پر دو چینی محققین کے لیے ریاضی کا...

سو سالہ مسئلہ سلجھانے پر دو چینی محققین کے لیے ریاضی کا ’نوبیل‘

امریکہ میں مقیم دو چینی ریاضی دانوں نے فیلڈز میڈل جیت لیا۔ یوں وہ ریاضی کے نوبیل انعام کے برابر سمجھے جانے والے اعزاز کو حاصل کرنے والے اپنے ملک کے پہلے نمائندے بن گئے ہیں۔ 35 سالہ ہونگ وانگ اور 37 سالہ یو ڈینگ ان چار ریاضی دانوں میں شامل ہیں جنہیں جمعرات کو فیلڈز میڈل کا فاتح قرار دیا گیا۔ یہ باوقار اعزاز ہر چار سال بعد ریاضی کے شعبے کے بہترین نوجوان محققین کو دیا جاتا ہے۔ دیگر دو فاتحین میں امریکہ کے جان پارڈن اور کینیڈا کے جیکب زمرمین شامل ہیں۔ اس اعزاز کے ساتھ 15 ہزار کینیڈین ڈالر (آٹھ ہزار پاؤنڈ) اور سونے کا ایک سکہ دیا جاتا ہے جس پر قدیم یونانی ریاضی دان ارشمیدس کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ ہونگ وانگ اور یو ڈینگ، دونوں نے چین کی پیکنگ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ انہیں 100 سال سے زیادہ عرصے تک ریاضی دانوں کے لیے چیلنج بنے رہنے والے ریاضی کے مسائل حل کرنے پر یہ اعزاز دیا گیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مین لینڈ چین میں تعلیم حاصل کرنے والے دو ریاضی دانوں نے ایک ہی سال فیلڈز میڈل حاصل کیا ہے۔ اس کامیابی کے بعد چین امریکہ، فرانس، برطانیہ اور روس کے بعد پانچواں ملک بن گیا ہے جس کے دو ریاضی دانوں نے ایک ہی تقریب میں فیلڈز میڈل حاصل کیے۔ چین یہ اعزاز حاصل کرنے والا ایشیا کا پہلا ملک بھی ہے۔ ہونگ وانگ اور یو ڈینگ سے پہلے چینی نژاد صرف دو ریاضی دانوں نے فیلڈز میڈل حاصل کیا۔ ریاضی میں 2026 کا فیلڈز میڈل حاصل کرنے والی چینی ریاضی دان ہونگ وانگ کی 23 جولائی کو لی گئی تصویر (اے ایف پی) 1982 میں شِنگ تُنگ یاؤ اور 2006 میں ٹیرنس تاؤ نے یہ میڈل حاصل کیا۔ اعزاز جیتنے کے وقت ان دونوں میں سے کوئی بھی چین کا شہری نہیں تھا۔ اس سنگ میل کو طویل عرصے سے چین کی ریاضی کی برادری کے لیے ایک تاریخی کامیابی سمجھا جاتا رہا ہے۔ ہونگ وانگ نیویارک یونیورسٹی اور فرانس کے اعلیٰ سائنسی تعلیم کے ادارے میں پروفیسر ہیں۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی صرف تیسری خاتون ہیں۔ انہیں تھری ڈی کاکیا مسئلہ حل کرنے پر یہ اعزاز دیا گیا۔ یہ جیومیٹری کا کئی دہائیوں پرانا مسئلہ ہے جو اس معمے پر مبنی ہے جسے جاپانی ریاضی دان سوئیچی کاکیا نے پہلی بار 1917 میں پیش کیا تھا۔ ریاضی کے مذکورہ مسئلے کے مطابق وہ کم سے کم جگہ کتنی ہو سکتی ہے جس میں ایک سوئی کو ہر سمت گھمایا جا سکے؟ روسی ریاضی دان ابرام بیسیکووچ نے 1919 میں اصل مسئلہ حل کر لیا تھا جب کہ ہونگ وانگ نے تھری ڈی کاکیا مسئلہ حل کیا، جو کاکیا کے تصور کی جدید اور وسیع شکل ہے۔ یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے ریاضی دان جوناتھن ہک مین نے اس مسئلے کے بارے میں پہلے کہا تھا ’یہ محض اس بات کا مسئلہ ہے کہ سیدھی لکیریں ایک دوسرے کو کس طرح کاٹ سکتی ہیں۔ ’لیکن اس کے اندر حیرت انگیز طور پر وسیع مفہوم پوشیدہ ہے اور دوسرے مسائل کے ساتھ اس کے بے شمار حیرت انگیز تعلقات ہیں۔‘ تھری ڈی کاکیا مسئلے میں یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ جب آپ پنسل کی موٹائی بدلتے ہیں تو اس سے پنسل کے حرکت کے دوران گھیرے جانے والی جگہ کے حجم پر کیا اثر پڑتا ہے؟ ہونگ وانگ کو ہارمونک تجزیے اور جیومیٹریائی پیمائش کے نظریے میں نمایاں پیش رفت پر بھی یہ اعزاز دیا گیا۔ ہونگ وانگ نے کہا یہ اعزاز ان کے اور ان کے ساتھ کام کرنے والے محققین، دونوں کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا انہیں فیلڈز میڈل کے بارے میں پہلی بار اس وقت پتہ چلا جب وہ سکول کی طالبہ تھیں اور ریاضی کے ایک رسالے میں ٹیرنس تاؤ کی 2006 کی کامیابی کے بارے میں پڑھا تھا۔ انہوں نے کہا ’میں اس وقت بہت پرجوش تھی۔ اس لیے آج بھی بہت پرجوش ہوں۔‘ یونیورسٹی کے مطابق شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر یو ڈینگ کو جرمن ریاضی دان ڈیوڈ ہل برٹ کے 1900 میں پیش کیے گئے 23 تاریخی مسائل میں سے ایک پر کام کرنے کے اعتراف میں یہ اعزاز دیا گیا۔ ایک صدی سے زیادہ پرانے اس مسئلے کو جدید ریاضی میں پیش رفت جانچنے کا ایک اہم معیار سمجھا جاتا ہے۔ ہل برٹ کا یہ سوال بعد میں ’ہل برٹ کا چھٹا مسئلہ‘ کہلایا۔ ریاضی میں 2026 کا فیلڈز میڈل حاصل کرنے والی چینی ریاضی دان یو ڈینگ (اے ایف پی) اس میں پوچھا گیا تھا کہ کیا گیس یا مائع جیسے کسی بڑے نظام کے رویے کا حساب اس کے انفرادی ذرات کی حرکت کی بنیاد پر لگایا جا سکتا ہے؟ یو ڈینگ نے کہا ’میرے لیے یہ واقعی بہت بڑا اعزاز ہے کہ میرا نام ان تمام عظیم ریاضی دانوں کے بعد درج ہوا ہے جن کی میں ہمیشہ تعریف کرتا آیا ہوں۔‘ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق یو ڈینگ اور ان کے ساتھ کام کرنے والے محققین نے اس وسیع تر کوشش کے ایک اہم مسئلے کو حل کیا جس کا مقصد ریاضی کے ذریعے گیسوں کے رویے کو بیان کرنے والی مساوات کو ذرات کی انتہائی چھوٹی سطح سے لے کر بڑے اور قابل مشاہدہ پیمانے تک باہم جوڑنا ہے۔ وہ قدیم تختی کے کھیل ’گو‘ کے شوقین کھلاڑی ہیں۔ انہیں ایسی تحقیق پر یہ اعزاز دیا گیا جس نے اس اہم کامیابی کی بنیاد رکھی۔ اس سال کے فاتحین کے اعلان میں ایک غیرمتوقع موڑ بھی آیا۔ اگرچہ انعام حاصل کرنے والوں کو کئی ماہ پہلے ان کے اعزاز کے بارے میں بتا دیا گیا تھا اور یہ خبر خفیہ رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی، لیکن گذشتہ ہفتے ان کے نام آن لائن افشا ہو گئے۔ ہیکروں نے ریاضی دانوں کی بین الاقوامی کانگریس کی کانفرنس ویب سائٹ پر چھپائے گئے نام تلاش کر لیے تھے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ہونگ وانگ نے کہا ’میرے بعض دوستوں نے مجھے مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اندازہ ہے شاید یہ خبر درست ہے، اس لیے وہ مجھے مبارک باد دینا چاہتے ہیں۔ ’لیکن میں نے انہیں کسی قسم کی تصدیق نہیں دی۔‘ چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے یو ڈینگ اور ہونگ وانگ کی تاریخی کامیابیوں کو سراہا اور ان کی کامیابیوں کی وسیع پیمانے پر خبریں نشر اور شائع کیں۔ ان کی جیت کا جشن منانے کے لیے مضامین میں ان کے تعلیمی پس منظر، ذاتی دلچسپیوں اور دیگر کامیابیوں کی تفصیل بھی بیان کی گئی۔ سرکاری اخبار چائنا ڈیلی نے ایک تقریب میں چین کے دو ریاضی دانوں کے فیلڈز میڈل حاصل کرنے کی تاریخی اہمیت اجاگر کی۔ پیکنگ یونیورسٹی نے، جہاں ان دونوں نے 2007 میں اپنی گریجویشن مکمل کی تھی، کہا کہ یہ اعزاز چینی ریاضی کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ چینی نژاد پہلے فیلڈز میڈل یافتہ ریاضی دان شِنگ تُنگ یاؤ نے کہا ’چین کی ریاضی کی برادری کے لیے یہ ایک ایسا خواب ہے جس کی تعبیر کی امید ہم کئی دہائیوں سے لگائے ہوئے تھے۔‘ شِنگ تُنگ یاؤ نے کہا ’میں بہت خوش ہوں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ طویل عرصے سے یہ امید رکھتے تھے کہ کم از کم ایک چینی ریاضی دان یہ انعام ضرور جیتے گا۔ جمعرات کو ہونگ وانگ کو فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں کی فون کال موصول ہوئی، جنہوں نے فیلڈز میڈل ملنے پر انہیں مبارک باد دی۔ ایمانویل میکروں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا ’وہ ہماری تحقیق اور ہماری تعلیمی تربیت کی اعلی ترین خوبیوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ’سائنس کے لیے فرانس کا انتخاب کریں۔‘ ریاضی سائنس معمہ امریکہ چین امریکہ میں مقیم دو چینی ریاضی دانوں ہونگ وانگ اور یو ڈینگ نے پنسل کی حرکت سے منسلک ریاضی کا مسئلہ کر کے فیلڈز میڈل جیت لیا۔ شویتا شرما اتوار, جولائی 26, 2026 – 08: 45 Main image:

2026 کا فیلڈز میڈل جیتنے والے چینی ریاضی دان یو ڈینگ، ہونگ وانگ، امریکی جان پارڈن اور کینیڈین جیکب زمرمین 23 جولائی کو فلاڈیلفیا میں سٹیج پر بیٹھے ہیں (اے ایف پی)

سائنس type: news related nodes: کیمبرج نتائج جاری، فزکس، ریاضی، بزنس، کمپیوٹر سائنس مقبول مضامین پاکستان کے 90 فیصد سے زیادہ طلبہ ریاضی اور سائنس میں کمزور: تحقیق جدید ریاضی کے باپ ریاضی کا اعلی ترین ایوارڈ جیتنے والی پہلی خاتون SEO Title: سو سالہ مسئلہ سلجھانے پر دو چینی محققین کے لیے ریاضی کا ’نوبیل‘ انعام copyright: IndependentEnglish origin url: https: //www. independent. co. uk/asia/china/china-fields-medal-maths-problem-b3020905. html show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments