ملک بھر میں مسافر سلیپر بسوں پر پابندی کی افواہوں کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور ٹرانسپورٹرز میں بے چینی اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایک معروف بس کمپنی کے مالک کے علاوہ بعض سوشل میڈیا صارفین نے بکنگ پلیٹ فارمز کی جانب سے سلیپر بس کے ٹکٹ نہ ملنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ حکومتی نوٹیفکیشن اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔ پاکستان میں طویل سفر کرنے والے مسافروں کے لیے سلیپر بسیں مقبول اور آرام دہ انتخاب بن چکی ہیں۔ ان بسوں میں روایتی سیٹوں کے بجائے فلیٹ بیڈز نصب ہوتے ہیں، جو مسافروں خصوصاً بچوں اور بزرگوں کے لیے نہایت آرام دہ ہوتے ہیں۔ مہنگے فضائی سفر اور ٹرینوں کے شیڈول میں تاخیر کی شکایات کے باعث مسافروں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے بیشتر ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے سلیپر بس سروس شروع کر رکھی ہے تاہم گزشتہ چند روز کے دوران سوشل میڈیا پر اِن بسوں پر پابندی کے دعوے سامنے آرہے ہیں جس پر ٹرانسپورٹرز اور عام صارفین تشویش کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سلیپر بسوں پر پابندی کا دعویٰ کرنے والوں میں معروف بس کمپنی ’نیازی ایکسپریس 99‘ کے مالک اور سوشل میڈیا انفلوئنسر بجاش نیازی بھی شامل ہیں۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’فیس بک‘ پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہم سے کہا جارہا ہے یہ پابندی صرف مقامی سطح پر تیار ہونے والی بسوں پر عائد کی گئی ہے البتہ بیرون ملک سے درآمد کی گئی سلیبر بسیں اس پابندی سے مستثیٰ ہیں۔‘ بجاش نیازی نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مقامی سطح پر تیار کی گئی بسوں میں کوئی کمی ہے تو اس کی نشاندہی کی جانی چاہیے تاکہ معیار کو مزید بہتر بنایا جاسکے اور پھر ان معیارات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وہ ٹرانسپورٹرز جنہوں نے مسافروں کو سہولت دینے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے، وہ اب کیا کریں گے؟ بلال ویز نامی اکاؤنٹ سے کی گئی ایک پوسٹ میں بھی اس غیر اعلانیہ پابندی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے پر فوری نظر ثانی کی درخواست کی گئی ہے۔ اس پوسٹ میں بھی یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت اس معاملے پر ٹرانسپورٹرز کو اعتماد میں لے اور مطلوبہ معیار پر پورا اترنے والی بسوں کو چلنے کی اجازت دی جائے۔ ایک اور صارف نے اعتراض اٹھایا کہ متعلقہ اتھارٹیز نے بس کمپنیوں کو مطلوبہ معیار سے آگاہ کیے بغیر ہی پابندی عائد کی ہے۔ اگر واضح کیا جاتا تو بس مالکان اس پر ضرور عمل درآمد کرتے۔ جاوید خان نامی صارف نے اس معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ پابندی صرف اُن سلیپر بسوں پر عائد کی گئی ہے جنہیں پرانی بسوں کے ڈھانچے پر تیار کرکے بنایا گیا تھا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ’چوں کہ امپورٹڈ سلیپر بسیں فٹنس کے معیارات پر پورا اترتی ہیں اس لیے انہیں بند نہیں کیا گیا ہے۔‘ سوشل میڈیا پر تشویش کا اظہار کرنے والے بعض صارفین نے مہنگے ہوائی سفر اور ٹرینوں کی تاخیر کے باعث اس سہولت کو آرام دہ اور سستی سہولت بھی قرار دیا۔ بعض صارفین سلیپر بس کے ٹکٹ بک ہونے یا پہلے سے بک کیے گئے ٹکٹ منسوخ ہونے سے متعلق شکایات کرتے بھی نظر آئے۔ چند افراد نے ٹکٹ بکنگ پورٹلز کی موبائل ایپس پر نوٹیفکیشن موصول ہونے کا بھی دعویٰ کیا جس میں مبینہ طور پر مسافروں کو مطلع کیا گیا ہے کہ ’موٹروے پولیس کے کریک ڈاؤن کی وجہ سے سلیپر بسیں جی ٹی روڈ کا استعمال کر رہی ہیں لہٰذا مسافر طویل سفر کے لیے بکنگ سے گریز کریں یا تاخیر کے لیے تیار رہیں۔‘ واضح رہے کہ سلیپر بسوں پر پابندی کے حوالے سے وفاقی یا صوبائی وزارتِ مواصلات کا کوئی باقاعدہ اعلان یا نوٹیفکیشن سامنے نہیں آسکا ہے، فی الحال یہ معاملہ سوشل میڈیا پر ہی زیرِ گردش ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی جانب سے مقامی طور پر تبدیلی کے بعد سفر کرنے والی سلیپر بسوں کے خلاف کارروائی کے لیے نئے نوٹیفیکیشن کے بجائے مروجہ وہیکل فٹنس اور ہائی وے سیفٹی قوانین کو بنیاد بنایا ہے اور صرف ان ہی بسوں کو موٹروے پر سفر کرنے سے روکا جارہا ہے۔



