74.7 F
Pakistan
Saturday, May 2, 2026
HomeBreaking News”سنگدل ماں اور....؟“

”سنگدل ماں اور….؟“

آج چوپال میں سکوت طاری تھا۔۔ چپ سائیں اخبار کے مطالعے میں مصروف تھے۔ ان کی نظریں کسی خاص خبر پر جمی ہوئی تھی اس وجہ سے وہ محو مطالعہ تھے۔خبر پڑھتے جاتے اور ساتھ ہی افسوس ۔۔۔ افسوس کہتے جاتے۔۔۔۔ نتھو او پھتو سے بالآخر چپ نہ رہاگیا۔۔۔ دونوںنے ہمت کرکے پوچھ ہی لیا۔۔۔ سائیں جی مسئلہ کیا ہے؟ اور کونسی ایسی خبر ہے جس نے آپ کو اتنا پریشان کردیا کہ آپ افسوس افسوس کہے جارہے ہیں۔۔۔ اس پر چپ سائیںنے کہاکہ حق ہو۔۔۔ چوپال کے دوستو! ۔۔۔۔سوال یہ ہے کہ کیا ایک ماں اتنی سنگدل ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے اولاد کوہی مار دے۔۔۔ سب چپ سائیں کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔بولے۔۔ سائیں جی۔۔ ماں تو ماں ہوتی ہے۔۔۔وہ تو اللہ کی رحمت کا دوسرا نام اور دوسرا رخ ہوتی ہے۔۔ حالات کچھ بھی ہوجائیں۔۔ ایسا کیسا ہوسکتے ہیں؟۔اس پر چپ سائیں بولے۔۔ بھائیو ایسا ہوا ہے۔۔ لاہور کے ایک علاقے میں ایک ماں نے پہلے اپنے بچوں کا قتل کیا پھر۔۔۔ایک عجب ڈرامہ ہوا اور پھر۔۔۔خیر تفتیش تو قانون کا کام ہے لیکن ہم آج ماں اور اس سنگدلی پر بات کریں گے جو انتہائی عجیب بات ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جو انسانی جذبات اور سماجی تصورات کے ٹکرا¶ سے پیدا ہوتا ہے۔ عام طور پر ماں کو ممتا، قربانی اور بے پناہ محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہاں، ایک ماں بھی سنگدل ہو سکتی ہے؟ لیکن کن حالات میں۔اس پیچیدہ حقیقت کو سمجھنے کے لیے چند پہلو¶ں پر غور کرنا ضروری ہے۔بعض اوقات جسے ہم ”سنگدلی” سمجھتے ہیں، وہ دراصل کسی گہری نفسیاتی بیماری کا نتیجہ ہوتی ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد شدید ڈپریشن کی وجہ سے بعض مائیں اپنے بچے سے لگا¶ محسوس نہیں کر پاتیں۔ماہرین نفسیات کے مطابق کچھ ذہنی کیفیات ایسی ہوتی ہیں جن میں انسان ہمدردی کے جذبے سے محروم ہو جاتا ہے۔شدید غربت، معاشرتی دبا¶، یا زندگی کے تلخ تجربات انسان کے اندر کے نرم جذبات کو ختم کر دیتے ہیں۔ جب ایک عورت خود برسوں تک تشدد یا بے حسی کا شکار رہی ہو، تو کبھی کبھی وہ لاشعوری طور پر وہی رویہ اپنے بچوں کے ساتھ بھی اپناتی ہے۔انسانی فطرت میں خود غرضی بھی شامل ہے۔ بعض صورتوں میں، اپنی انا، ذاتی مفاد یا کسی دوسرے رشتے کی خاطر ایک ماں اپنے بچے کی تکلیف سے نظریں چرا لیتی ہے، جسے دنیا سنگدلی کا نام دیتی ہے۔ معاشرے میں ”ماں کے قدموں تلے جنت” کا جو تصور ہے، وہ اس کے مرتبے اور ذمہ داری کی وجہ سے ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہر وہ عورت جو بچے کو جنم دے، وہ لازمی طور پر اعلیٰ اخلاق اور نرم دلی کی حامل بھی ہو۔ماں بھی ایک انسان ہے، اور انسان فرشتہ نہیں ہوتا۔ جہاں کروڑوں مائیں اپنے بچوں پر جان نچھاور کرتی ہیں، وہاں چند ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جہاں انسانی کمزوریوں یا حالات نے ممتا پر سنگدلی کو غالب کر دیا۔جب ہم ماں کے کردار پر مزید گہرائی سے بات کرتے ہیں، تو ہمیں دو متوازی پہلو¶ں کو دیکھنا پڑتا ہے۔ ایک وہ مثالی اور فطری کردار جو معاشرے کی بنیاد ہے، اور دوسرا وہ انسانی اور نفسیاتی پہلو جہاں ایک عورت اپنی ہمت ہار دیتی ہے۔ماں کا کردار صرف بچے کو جنم دینے تک محدود نہیں ہے۔ حمل کے دوران اور پیدائش کے بعد ماں کے جسم میں آکسی ٹوسن نامی ہارمون پیدا ہوتا ہے جسے ”محبت کا ہارمون” کہا جاتا ہے۔ یہ ہارمون ماں اور بچے کے درمیان ایک ایسا غیر مرئی بندھن بنا دیتا ہے جو ماں کو بچے کی حفاظت کے لیے اپنی جان تک لڑا دینے پر اکساتا ہے۔قدرت نے ماں کے اندر ”ایثار” کا جذبہ رکھا ہے تاکہ انسانی نسل کی بقا ممکن ہو سکے۔بچہ دنیا کو ماں کی آنکھ سے دیکھتا ہے۔ دوستو! ۔۔۔ماہرین نفسیات کے مطابق زندگی کے پہلے چند سال میں ماں کا پیار بچے کے اندر یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ یہ دنیا ایک محفوظ جگہ ہے۔ اگر یہاں ماں ناکام ہو جائے، تو بچہ عمر بھر ”بے یقینی” کا شکار رہتا ہے۔ماں صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے بچے کو ہمدردی، سچائی اور صبر سکھاتی ہے۔معاشرہ اکثر ماں کو ایک ”دیوی” یا ”فرشتہ” بنا کر پیش کرتا ہے جو کبھی تھکتی نہیں، جسے غصہ نہیں آتا اور جس کی اپنی کوئی خواہش نہیں ہوتی۔ یہیں سے مسائل جنم لیتے ہیں۔صاحبو! ۔۔۔ اکثر مائیں اپنی ذات کو بھول کر صرف ”ماں” بن جاتی ہیں۔ جب ان کی اپنی جذباتی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں، تو وہ اندر سے خالی ہو جاتی ہیں۔اگر ایک ماں ذہنی طور پر بیمار ہو یا اسے شوہر اور سسرال کی طرف سے تشدد کا سامنا ہو، تو اس کا ”ممتا والا کردار” مجروح ہونے لگتا ہے۔ وہ ممتا جو سایہ ہونی چاہیے تھی، حالات کی چکی میں پس کر ”سنگدلی” میں بدل سکتی ہے۔ بعض مائیں لاشعوری طور پر اپنی بیٹیوں یا بیٹوں کو اپنا حریف سمجھنے لگتی ہیں، خاص کر اگر ان کی اپنی زندگی ناکام رہی ہو۔دوستو! ۔۔ماں کے کردار کو سمجھنے کے لیے اسے ”انسان” کے طور پر دیکھنا ضروری ہے،اسے بھی غصہ آ سکتا ہے، وہ بھی غلطی کر سکتی ہے اور وہ بھی ہمدردی کی محتاج ہے۔تاہم اس حقیقت سے انکارممکن نہیں ہے کہ بچے کی پرورش میں باپ اور معاشرے کا برابر کا حصہ ہے۔ جب ماں کو اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے، تو اس کا کردار بوجھ بن جاتا ہے۔میرے چوپال کے دوستو! ماں کا احترام واجب ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے غلط رویوں یا ذہنی بیماری کو ”مقدس”سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے۔ماں کا کردار کائنات کا سب سے طاقتور اور خوبصورت کردار ہے، لیکن یہ ایک انتہائی نازک ذمہ داری بھی ہے۔ اگر اسے صحیح ماحول اور محبت نہ ملے، تو یہی طاقتور رشتہ تباہی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ماں کو ٹوٹنے سے بچانا دراصل ایک پوری نسل کو بچانا ہے۔تاہم صاحبو! ۔۔۔ پولیس تو تحقیق کے بعد ہی نتیجے پر پہنچے گی لیکن اس واقعہ کا قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ ماں کے ہاتھوں بچوں کے قتل جیسے ہولناک واقعے کا سن کر ذہن ساکت ہو جاتا ہے، لیکن جب ہم ”کیا اور کیسے” کے پہلو کو گہرائی سے دیکھتے ہیں، تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ فعل اکثر اچانک نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے ایک طویل ذہنی اور اعصابی ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے۔۔۔رہے نام اللہ کا! ۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments