63.6 F
Pakistan
Friday, October 23, 2026
HomePolitics’سمی میری وار‘: کیا اسلام آباد کی سملی اس پنجابی گیت کی...

’سمی میری وار‘: کیا اسلام آباد کی سملی اس پنجابی گیت کی ہیروئن ہے؟

’چھلڑے چھلڑے وال‘ انڈیا میں مقبول ہوا تو یہاں یہ بحث چھڑ گئی کہ یہ سرائیکی گانا ہے یا پنجابی؟ اسی طرح نئی انڈین نسل میں ایک اور پنجابی گانا ’سمی میری وار‘ بھی مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ اسے شفا اللہ روکھڑی نے گایا تھا لیکن جب اس گانے کو کوک سٹوڈیو میں قرۃ العین بلوچ اور عمیر جسوال نے گایا تو یہ اتنا مقبول ہوا کہ آج تک پنجاب میں کوئی شادی ایسی نہیں ہوتی، جس میں اس گانے پر رقص نہیں کیا جاتا۔ یہ سمی کون تھی؟ کیا یہ پنجاب کی لوک داستانوں میں جنم لینے والا کوئی فرضی کردار ہے یا پھر اس کے ساتھ محبت کی کوئی حقیقی داستان بھی جڑی ہوئی ہے؟ گیت وہی زمانوں کی گرد باد سے محفوظ ہو کر زندہ رہتے ہیں، جن کے ساتھ کوئی ایسی کہانیاں جڑی ہوتی ہیں، جس میں محبت بھی ہوتی ہے اور المیہ بھی۔ ایسے گیتوں کے بول بھی بدلتے لہجوں کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، ان کی دھنیں بھی نئے سازوں میں ڈھلتی رہتی ہیں لیکن ان سے وابستہ کردار کہیں نہ کہیں اپنی شناخت محفوظ رکھتے ہیں۔ سمی کے ساتھ بھی دو کہانیاں وابستہ ہیں جن میں سے ایک بہت معروف ہے جو سمی کو راجستھان کے ساتھ جوڑتی ہے۔ دوسری اسے اسلام آباد کے ایک قدیم گاؤں کی سملی دیوی کے ساتھ منسلک کر دیتی ہے۔ انیسویں صدی کے پنجابی شاعر کریم بخش نے ’ڈھول سمی‘ کے نام سے ایک منظوم داستان بھی رقم کی ہے۔ تاہم اس میں ڈھول بغداد کا بادشاہ ہے اور سمی دمشق کی شہزادی، اس لیے سمی کو کم از کم اس قصے سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ راجستھان کی سمی لڑکی نہیں بلکہ درخت بیان کیا جاتا ہے کہ راجستھان کی ریاست مارواڑ جس کا دارالحکومت جودھپور تھا، وہاں اٹھارویں صدی کے وسط میں ایک حکمران مہاراجہ ابھے سنگھ راٹھور گزرا ہے۔ اسے اپنے محل کی تعمیر کے لیے لکڑی کی ضرورت تھی جسے سمی بھی کہا جاتا تھا۔ اس کے سپاہیوں کا دستہ لکڑی کاٹنے کے لیے بشنوئی قبیلے کے گاؤں پہنچا جہاں اس درخت کو مقدس درجہ حاصل تھا۔ بشنوئی فرقہ دراصل گورو جم بھیشور جی سے منسوب ہے جو راجستھان میں 1451 میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی تعلیمات جن نو نمایاں اصولوں پر مبنی ہیں، ان میں دوسرا یہ ہے کہ سرسبز درختوں کو نہ کاٹا جائے، اس لیے جب مہاراجہ کے سپاہی درخت کاٹنے لگے تو ان کے سامنے ایک عورت جس کا نام امرتا دیوی بشنوئی تھا، سمی کے درخت سے لپٹ گئی اور اس نے یہ بول ادا کیے: ’سر سانٹے رُکھ رہے تو بھی سستو جان‘ (اگر درخت بچ جائے اور سر کٹ جائے تو بھی سودا سستا ہے) بتایا جاتا ہے کہ مہاراجہ کے سپاہیوں نے امرتا دیوی کو درخت سمیت کاٹ دیا۔ ادھر ماں کی لازوال قربانی کو دیکھتے ہوئے اس کی تین بیٹیاں بھی یہ بول ادا کرتے ہوئے درختوں سے لپٹ گئیں ’سمی میری وار، میں واری آں نی سمیئے‘ (اے سمی! یہ میری باری ہے، میں تجھ پر قربان)۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ گاؤں کے لوگ جوق در جوق درختوں سے لپٹتے گئے اور ایک ایک کر کے اپنی جانیں دیتے گئے۔ کہتے ہیں کہ جب تک راجہ کو خبر ملی تب تک 363 مرد، عورتیں اور بچے درختوں کے ساتھ اپنی جانیں قربان کر چکے تھے۔ یہ واقعہ 11 ستمبر 1730 کو کھجڑلی گاؤں میں پیش آیا تھا۔ جس کی یاد میں انڈیا میں آج بھی اس دن کو ’قومی جنگلات کے یوم شہدا‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ تاہم امریکی محقق گب شریفلرGibb Schreffler جو کہ پامونا کالج کیلی فورنیا میں موسیقی کے استاد ہیں، اپنے ایک مقالے میں اس نظریے کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’آج جس چیز کو ’سمی‘ کے نام کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے وہ ممکن ہے اس کے اصل ثقافتی ورثے سے بہت کم مشابہت رکھتی ہو، جس کے احیا کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔‘ کیا پوٹھوہار کی سملی دیوی ہی سمی تھی؟ بدھ مت کی مقدس کتاب پالی ٹیکا میں لکھا ہے کہ 480 ق م میں گوتم بدھ کے دو چیلوں نے ٹیکسلا میں ناٹک دیکھا۔ سوانگ کی یہ روایت پوٹھوہار میں ماضی قریب تک رہی ہے جسے آج کے سٹیج ڈرامے سے مشابہ قرار دیا جا سکتا ہے، جس میں کہانی کے ساتھ گانا اور رقص بھی ہوتا تھا۔ پوٹھوہار میں کلاسیکی موسیقی کی روایت بھی زمانہ قدیم سے چلی آ رہی ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) رشید نثار اپنی کتاب ’وادیٔ پوٹھوہار‘ میں لکھتے ہیں کہ ’سمی پوٹھوہارکا اجتماعی رقص ہے۔ جسے قبائلی رقص بھی کہا جاتا ہے جسے پوٹھوہار نے قبائلی رومال کے ساتھ کھڑتال کا اضافہ کر کے اس کے آہنگ اور ہئیت کو نئی زندگی دی ہے۔‘ ایک روایت کے مطابق کشان عہد میں راولپنڈی اور اس کے ملحقہ پہاڑی علاقوں کا حکمران راجہ سارگن گزرا ہے، جس کا عہد تیسری صدی کے وسط کا ہے۔ اس کا پایۂ تخت راولپنڈی کے علاقے مورگاہ میں بیان کیا جاتا ہے۔ اسی راجہ کی ایک بیٹی سملی تھی جو دریائے سواں، جسے اس زمانے میں شوشماں کہا جاتا تھا، وہاں سیر کو جاتی تھی۔ قریب ہی اس کی نانی کوری کا گاؤں تھا۔ ایک روز وہ دریا کے کنارے اپنی سہیلیوں کے ساتھ موجود تھی کہ ایک شہزادہ وہاں شکار کھیلتا ہوا آ نکلا۔ دونوں کے درمیان یہیں دریا کنارے ہونے والی اتفاقیہ ملاقات ایک ایسی محبت میں تبدیل ہوئی جس کی کہانی صدیوں کے باوجود آج بھی زندہ ہے۔ جب شہزادے نے سملی کے باپ کے پاس رشتہ بھیجا تو اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ شہزادہ ان کے ہم پلہ نہیں اور ایک چھوٹی ریاست سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ انکار سملی پر بھاری گزرا اور اس نے ایک اونچی چٹان پر چڑھ کر دریا میں چھلانگ لگا دی۔ اس کے باپ نے اس کی یاد میں راولپنڈی میں عین اس جگہ سٹوپا بنوایا جہاں آج ٹوپی رکھ پارک ہے۔ اسی نسبت سے یہ علاقہ ٹوپ سے ٹوپی رکھ کہلاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی سہیلیوں نے اس کی یاد میں ایک گیت گایا جو ’سملی میری وار، میں واری نی سملیے‘ سے ہوتا ہوا سمی میری وار بن گیا۔ سمی کی لسانی ساخت کیا ظاہر کرتی ہے؟ عمومی طور پر پنجاب کے لوک گیت محبوب کی جدائی کی کیفیات میں ہی تشکیل پاتے ہیں جس سے یہ مفروضہ ویسے ہی کمزور ہو جاتا ہے کہ سمی کی نسبت کسی درخت سے ہو سکتی ہے۔ اس گیت کی لسانی ساخت ایک الگ تحقیقاتی سوال اٹھاتی ہے۔ لفظ ’وار‘ کی لسانی شناخت بھی اسے راجستھان کی نسبت مغربی پنجاب سے جوڑتی ہے اور پھر یہ بھی بات حیرت انگیز ہے کہ اگر یہ گیت راجستھان کی ریاست مارواڑ سے ہے تو پھر یہ انڈین پنجاب اور انڈیا میں کیوں موجود نہیں ہے اور اسے میانوالی اور پوٹھوہار میں ہی کیوں گایا جاتا رہا ہے؟ ’سمی میری وار‘ کو راجستھان کے کھجرلی واقعے سے منسلک کرنے کی روایت میں کتنا وزن ہے اور اس کا اسلام آباد کے گاؤں سملی سے تعلق کتنا حقیقی ہے؟ اس کا جواب ہمیں Journal of Applied Linguistics and TESOL کے ایک تحقیقی مقالے میں ملتا ہے جسے ڈاکٹر غلام یٰسین، ڈاکٹر سیدہ شاہین زیدی اور ڈاکٹر عثمانیہ سلطانہ نے مشترکہ طور پر لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ بشنوئی فرقے کے لوگ آج بھی راجستھان، گجرات، ہریانہ، پنجاب اور دہلی میں پائے جاتے ہیں۔ جس درخت کے لیے قربانی دی گئی اسے سنسکرت اور گجراتی میں ’سمی‘، سندھ میں ’کنڈی‘، پنجاب میں ’جنڈ‘ اور عربی میں ’غاف‘ کہتے ہیں۔ پوٹھوہار میں بھی یہ درخت بکثرت ملتا ہے اور راولپنڈی ڈویژن کے ضلع اٹک کی ایک تحصیل کا نام بھی اسی درخت کی نسبت سے ’جنڈ‘ ہے۔ ’جو گیت سمی کے نام سے معروف ہوا اس کی لسانی ساخت اور اس کا پیغام راجستھان کی کہانی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ گیت بنیادی طور پر پنجابی ہے لیکن اس میں سرائیکی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ ماہرین اس گیت کو کثیر لسانی عوامل یعنی اسما، افعال اور تراکیب کا حامل قرار دیتے ہیں، جو صدیوں سے مغربی پنجاب میں گایا جا رہا ہے، جہاں شادی بیاہ کے موقعے پر دلہن کی سہیلیاں اسے درمیان بٹھا کر اس کے ارد گرد دائرہ بنا کر رقص کرتے ہوئے یہ گیت گاتی ہیں۔ ’سمی میری وار‘ کا تعلق کسی داستان سے ہے بھی یا نہیں، یا پھر یہ گیت یوں ہی صدیوں سے گایا جاتا ہے؟ اس کا کوئی حتمی جواب نہیں ہے لیکن سمی کی نسبت سے پنجاب میں محبت کی کوئی داستان ہے تو وہ اسلام آباد کے گاؤں سملی میں ہی پروان چڑھی اور یہیں دفن ہو گئی۔ اسلام آباد درخت راولپنڈی لوک گیت پنجابی ’سمی میری وار‘ کا تعلق کسی داستان سے ہے بھی یا نہیں، یا پھر یہ گیت یوں ہی صدیوں سے گایا جاتا ہے؟ اس کا کوئی حتمی جواب نہیں ہے۔ سجاد اظہر جمعہ, اکتوبر 23, 2026 – 09: 15 Main image: تاریخ type: news related nodes: جب اسلام آباد سملی دیوی کے نام سے تھا! اسلام آباد میں نئے کرکٹ سٹیڈیم کے بارے میں اتنی پراسراریت کیوں؟ ٹیکسلا کی لوک کہانیاں جو دو ہزار سال بعد بھی زندہ ہیں کابل شاہراہ پر بکھری بھارتی چینی اور لوک کہانیاں SEO Title: ’سمی میری وار‘: کیا اسلام آباد کی سملی اس پنجابی گیت کی ہیروئن ہے؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments