72.4 F
Pakistan
Saturday, October 3, 2026
HomeEntertainmentسلوسٹر سٹالون کی ’راکی‘ تک پہنچنے کی حیران کن داستان

سلوسٹر سٹالون کی ’راکی‘ تک پہنچنے کی حیران کن داستان

بہت سے لوگوں نے سلوسٹر سٹالون سے کہا تھا کہ وہ کبھی ایک کامیاب اداکار نہیں بن سکیں گے۔ اپنی نئی خودنوشت دیاسٹیپس میں 80 سالہ فلمی اداکار نے انکار، ناکامیوں اور توہین آمیز رویوں کی ایک طویل داستان بیان کی ہے، جن کا سامنا انہیں 1980 کی دہائی کی بڑی شخصیات میں شامل ہونے سے پہلے کرنا پڑا۔ جیسا کہ یہ بات ہالی وڈ کی ایک مشہور داستان بن چکی ہے، سٹالون نے بالآخر سمجھ لیا کہ اگر وہ اپنی تصویر کو فلمی پوسٹر پر نمایاں دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے لیے کردار خود تخلیق کرنا ہوگا۔ اپنی کامیاب فلم ’راکی‘ کا سکرپٹ لکھنے کے بعد سٹالون نے سکرپٹ کے عوض ملنے والی کئی بڑی مالی پیشکشیں مسترد کر دیں تاکہ فلم میں فلاڈیلفیا کے باکسر کا مرکزی کردار کوئی دوسرا اداکار نہ کرے۔ اس کہانی پر رواں سال کے آخر میں پیٹر فیرلی کی موزوں نام والی بائیوپک فلم ’I Play Rocky‘ بنائی جائے گی۔ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں سٹالون نے دیاسٹیپس میں راکی کو بنوانے کے لیے اپنی جدوجہد کی یادیں قلم بند کی ہیں۔ کتاب کا اختتام اس وقت ہوتا ہے جب، اگر سپائلر سے کوئی مسئلہ نہ ہو، یہ کم وسائل والی فلم ہالی وڈ کے انداز میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے 1977 کے آسکرز میں بہترین فلم کا اعزاز جیت لیتی ہے۔ تاہم کتاب کو واقعی دلچسپ بنانے والی چیز سٹالون کی وہ طویل اور مشکل جدوجہد ہے، جس کے بعد وہ اس مقام تک پہنچے، جہاں انہوں نے راکی جیسا سکرپٹ لکھنے کا تصور بھی کیا۔ یہ ایک ایسی جدوجہد کی بے لاگ داستان ہے، جس میں سٹالون نے ایک بظاہر ناممکن خواب کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا۔ ذیل میں سٹالون کی زندگی کے پانچ اہم واقعات پیش کیے گئے ہیں جو انہوں نے کتاب میں قارئین کے ساتھ شیئر کیے: 1۔ انہوں نے سینٹرل پارک چڑیا گھر میں شیروں کے پنجرے صاف کیے راکی سے پہلے کے برسوں میں سٹالون نے نیویارک میں اخراجات پورے کرنے کے لیے ہر طرح کا عارضی کام کیا، جو انہیں مل سکا۔ یورپ میں کئی سال گزارنے کے بعد وہ 1969 میں اپنے آبائی شہر واپس آئے تاکہ لکھنے اور اداکاری کا خواب پورا کر سکیں، لیکن جلد ہی انہیں احساس ہوگیا کہ گزر بسر کے لیے انہیں کوئی ملازمت بھی کرنا ہوگی۔ ملازمت کی تلاش میں ایک ناکام دن کے دوران وہ سینٹرل پارک چڑیا گھر کے ایک سائن بورڈ کے پاس سے گزرے اور استقبالیہ پر ملازمت کے بارے میں پوچھا۔ انہیں فوراً یہ غیر پرکشش ملازمت مل گئی۔ امریکی فلمی اداکار سلویسٹر سٹالون 3 دسمبر 2002 کو مغربی جاپان کے شہر اوساکا میں یونیورسل سٹوڈیوز جاپان میں کرسمس ٹری پر باکسنگ کے بڑے دستانوں کا ایک جوڑا بطور سجاوٹ لگانے کے بعد جاپانی مداحوں کو ہاتھ ہلا کر خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ سٹالون کو کرسمس کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی فلمی تھیم پارک میں مدعو کیا گیا تھا (تورو یاماناکا / اے ایف پی) سٹالون یاد کرتے ہیں: ’پندرہ منٹ بعد میں ایک شیر کے پنجرے میں پائپ، ایک بیلچے اور ایک پھاوڑے کے ساتھ موجود تھا۔ ’اگر آپ کبھی شیر کے خالی کیے گئے پنجرے میں نہیں گئے تو میں آپ کو بتاتا ہوں کہ وہاں کی بو بہت تیز ہوتی ہے۔ کچھ ہی دیر میں شیر کے پیشاب میں موجود قدرتی امونیا کی بدبو سے میری آنکھوں سے پانی آنے لگا۔‘ انہوں نے لکھا کہ تقریباً ساڑھے تین ہفتوں تک وہ روزانہ صبح ساڑھے پانچ بجے سے سہ پہر ساڑھے تین بجے تک شیروں کے پنجرے صاف کرتے رہے۔ انہوں نے بنیادی طور پر بدبو کی وجہ سے یہ ملازمت چھوڑ دی، کیونکہ اس کی وجہ سے وہ اداکاری کی ایجنسیوں میں جانے سے بھی قاصر تھے۔ ’مجھے جانور پسند تھے، لیکن یہ پسند نہیں تھا کہ ہر روز کام سے گھر جاتے ہوئے میرے جسم سے ایسی بو آ رہی ہو، جیسے مجھے دنیا کا سب سے بڑا مثانے کا مسئلہ ہو۔‘ 2۔ سٹالون کے والد نے ’راکی‘ کی شوٹنگ کا آخری دن تقریباً خراب کر دیا سٹالون کے اپنے والدین کے ساتھ تعلقات زندگی بھر پیچیدہ رہے۔ اس کا اندازہ اس فیصلے سے بھی ہوتا ہے جب انہوں نے بچپن میں ہی انہیں سفر کرنے والے سیلز مینوں کے ایک بورڈنگ ہاؤس میں رہنے کے لیے بھیج دیا تھا۔ جب سٹالون 11 سال کے تھے تو ان کے والدین، فرینک اور جیکی میں طلاق ہوگئی۔ اگرچہ ابتدا میں وہ ان کے کیریئر کے حامی نہیں تھے، تاہم 1971 میں سٹالون کے والد نے اس وقت ان کی مدد کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جب وہ اپنی شناخت بنانے کے لیے ایک زومبی کاؤ بوائز پر مختصر فلم بنانا چاہتے تھے۔ یہ واقعہ کتاب کے یادگار ترین حصوں میں سے ایک کا باعث بنا، جب فلم کی آخری روز کی شوٹنگ میں اپولو کریڈ اور ’راکی‘ کے درمیان لڑائی ختم کرنے کے لیے گھنٹی بجانے کی ذمہ داری فرینک کو دی گئی۔ سٹالون اسے فلم کے ’آخری مکے‘ والا منظر قرار دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’میں نے اپنے والد کے ساتھ یہ منظر دس مرتبہ دہرایا تھا۔ میں نے انہیں بتایا تھا کہ جب میں اپولو کو رسّیوں کی طرف دھکیلوں اور اس پر مکے برسانا شروع کروں اور ایسا لگے کہ راکی شاید یہ مقابلہ جیت جائے گا، تو عین اسی وقت گھنٹی بجنی چاہیے تاکہ اپولو کو بچایا جا سکے۔‘ تاہم جب سٹالون نے اپولو کا کردار ادا کرنے والے کارل ویدرز کو پیچھے دھکیلتے ہوئے مسلسل مکے مارے تو گھنٹی نہیں بجی۔ اداکار سلویسٹر سٹالون 21 جون 2003 کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں واقع سٹیپلز سینٹر میں عالمی ہیوی ویٹ چیمپیئن لینوکس لیوس اور وٹالی کلِچکو کے درمیان مقابلہ دیکھ رہے ہیں (رابرٹ مورا / اے ایف پی) وہ یاد کرتے ہیں: ’صورت حال مضحکہ خیز ہوتی جا رہی تھی۔ میں دیکھ سکتا تھا کہ کارل مجھے اس طرح گھور رہے تھے جیسے کہہ رہے ہوں، آخر ہو کیا رہا ہے؟ ’میں بے دلی سے مکے مارتا رہا، یہاں تک کہ آخرکار جھنجھلا کر پلٹا اور اپنے والد کی طرف دیکھا۔ میں نے کہا: ’گھنٹی بجاؤ، گھنٹی بجاؤ!‘ انہوں نے زور سے ہتھوڑا مارا اور اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے۔ پھر رنگ کے کنارے سے چیخ کر بولے: ’مجھ پر مت چلاؤ!‘‘ سٹالون یاد کرتے ہیں کہ وہ اپنے والد کے سامنے لڑائی کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے تھے، جو بظاہر مٹھیاں بھینچے لڑائی کے لیے تیار تھے، تاہم سٹالون نے معذرت کی اور معاملہ ختم کر دیا۔ کچھ ہی دیر بعد فرینک سیٹ سے غائب ہو گئے۔ 3۔ انہوں نے رچرڈ گیئر کے دانت توڑنے کی دھمکی دی 1973 میں سٹالون کو ایک اہم موقع اس وقت ملا، جب انہیں رابرٹ ڈی نیرو اور رچرڈ گیئر کے ساتھ 1950 کی دہائی کے نوجوانوں پر بننے والی فلم ’دی لارڈز آف فلیٹ بش‘ میں کاسٹ کیا گیا۔ تاہم گیئر کے ساتھ منظر میں برجستہ اداکاری کرنے کو کہا گیا تو حالات خراب ہوگئے۔ سٹالون یاد کرتے ہیں: ’گیئر نے میری ٹی شرٹ پکڑ لی اور ان کے ناخن میری جلد میں دھنس گئے۔ میں نے انہیں پیچھے ہٹنے کو کہا، لیکن دوسرے ٹیک میں انہوں نے دوبارہ ایسا کیا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ’وہ یہ نہیں جانتے تھے، لیکن گیئر نے میرے اندر جذبات کا ایک طوفان برپا کرنا شروع کر دیا تھا۔‘ میں نے ہدایت کار سٹیفن ویرونا کی طرف رخ کیا اور پوچھا: ’کیا یہ ٹھیک ہوگا کہ میں یہاں اپنی طرف سے مکالمہ کہوں اور ویسا ردعمل دوں، جیسا حقیقی زندگی میں کوئی میرے ساتھ ایسا کرے تو میں دوں گا؟‘ جب ویرونا نے پوچھا کہ وہ کیا کریں گے تو سٹالون نے جواب دیا: ’کروں گا کیا؟ میں اس کے دانت توڑ دوں گا۔‘ فلم ساز نے سادہ سا جواب دیا: ’براہِ کرم ایسا نہ کرنا۔‘ بعد میں ایک اور واقعے میں گیئر نے مرغی کی چکنائی سٹالون کی ٹانگ پر گرا دی، جس کے بعد دونوں میں دوبارہ جھگڑا ہوا اور گیئر کو فلم سے نکال دیا گیا۔ ڈی نیرو بھی ایک دوسری فلم میں کام کرنے کے لیے اس پروڈکشن سے الگ ہوگئے، جس کے بعد ان دونوں کے کردار بالآخر پیری کنگ اور مستقبل کے ہیپی ڈیز کے معروف اداکار ہنری ونکلر نے ادا کیے۔ سلوسٹر سٹالون 28 ستمبر 2026 کو نیویارک سٹی میں سیریئس ایکس ایم سٹوڈیوز میں اینڈی کوہن کی میزبانی میں ہونے والے پروگرام ’فرنٹ رو ود سلوسٹر سٹالون‘ میں گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی) 4۔ مالی حالات اتنے خراب تھے کہ انہوں نے فلمی لباس میں شادی کی سٹالون کے انتہائی خراب مالی حالات کتاب میں مسلسل زیرِ بحث آنے والا موضوع ہیں۔ کتاب میں بیان کیے گئے کئی برسوں کے دوران وہ بظاہر کچے انڈوں اور کاٹیج چیز پر گزارا کرتے رہے۔ 1974 میں اپنی پہلی اہلیہ ساشا زیک سے شادی کے وقت بھی ان کے مالی حالات میں زیادہ بہتری نہیں آئی تھی۔ تاہم انہیں گینگسٹر فلم کیپون میں معاون کردار مل گیا تھا، اس لیے کم از کم ان کے پاس پہننے کے لیے ایک سوٹ موجود تھا۔ سٹالون یاد کرتے ہیں: ’ساشا شادی کا لباس خریدنا چاہتی تھیں، لیکن ہم اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ ہماری ساری رقم کرائے، راشن اور گاڑی کی مرمت پر خرچ ہو جاتی تھی۔ ’ہم بمشکل گزارا کر رہے تھے، اس لیے ساشا نے کرائے کے گھر کے ایک پرانے لینن کے پردے سے اپنا شادی کا لباس تیار کیا۔ ’جہاں تک میرا تعلق ہے، میرے پاس پہننے کے لیے کوئی رسمی لباس نہیں تھا، اس لیے میں نے کیپون کے ملبوسات کے شعبے سے 1920 کی دہائی کا ڈبل بریسٹڈ گینگسٹر سوٹ ادھار لیا، جس کے ساتھ جوتے اور دیگر تمام لوازمات بھی تھے۔‘ ’اپنے پیچھے کی جانب جمے ہوئے بالوں کے اس دور کے انداز کے ساتھ میں ایسا لگ رہا تھا جیسے ٹائم مشین سے باہر نکلا ہوں۔‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (بائیں) 6 دسمبر 2025 کو واشنگٹن، ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں اداکار سلویسٹر سٹالون (دائیں) کو 2025 کینیڈی سینٹر اعزازات کا میڈل پیش کر رہے ہیں (آرون شوارٹز / اے ایف پی) 5۔ ان کی والدہ نے آسکرز میں ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ جب سٹالون کی زندگی میں کامیابی کا سب سے بڑا لمحہ آیا، تب بھی ان کے والدین نے انہیں مایوس کرنے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیا۔ جب راکی کو غیر متوقع طور پر 10 اکیڈمی ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا تو سٹالون کو معلوم ہوا کہ ان کے والد نے خفیہ طور پر فلم کے پروڈیوسرز کو اپنا سکرپٹ بھیج دیا تھا۔ اس سکرپٹ کا نام کیا تھا؟ راکی 2۔ اسی دوران سٹالون نے اپنی والدہ جیکی کو آسکرز کی تقریب میں اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ انہوں نے جواب دیا: ’تم میری ہیئر ڈریسر ویویئن کو جانتے ہو نا؟ کیا میں اسے ساتھ لاسکتی ہوں؟‘ جب سٹالون نے بتایا کہ ان کے پاس صرف ایک نشست باقی ہے تو انہوں نے جواب دیا: ’پھر میں نہیں جا سکتی۔ میں یہ ٹی وی پر دیکھ لوں گی۔‘ سلوسٹر سٹالون کی کتاب ’دی سٹیپس‘ اب دستیاب ہے۔ فلم سلوِسٹر سٹالون خودنوشت بالی وڈ ایوارڈ اپنی خودنوشت میں سلوسٹر سٹالون نے مالی مشکلات، عجیب و غریب ملازمتوں اور فلم ’راکی‘ تک پہنچنے کے سفر کے دلچسپ واقعات بیان کیے۔ کیون ای جی پیری، کارسن ہولیڈے ہفتہ, اکتوبر 3, 2026 – 11:15 Main image: اداکار سلویسٹر سٹالون 21 نومبر 1996 کو نیویارک میں ’راکی‘ فلم میں اپنی تصاویر پر مشتمل نئے ڈاک ٹکٹوں کی دو نقول کے سامنے فوٹوگرافروں کے لیے پوز دے رہے ہیں (جون لیوی / اے ایف پی) فلم type: news related nodes: ماں بیٹے کی بنائی ’عجیب و غریب‘ فلم نے چین میں ریکارڈ توڑ دیے فلم ’ماہ پارہ‘: تاریخ کے آئینے میں عورت کا نیا عکس فلم کی تشہیر کا انوکھا انداز: نیٹ فلکس نے بل بورڈ میں گھر بنا دیا پاکستان میں جنوبی کوریا کی فلمیں مقبول کیوں ہو رہی ہیں؟ SEO Title: سلوسٹر سٹالون کی ’راکی‘ تک پہنچنے کی حیران کن داستان copyright: IndependentEnglish origin url: https://www.independent.co.uk/arts-entertainment/films/features/sylvester-stallone-memoir-main-takeaways-the-steps-b3056662.html Translator name: العاص show related homepage: Show on Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments