76.6 F
Pakistan
Tuesday, April 28, 2026
HomePoliticsسفارتی کاری میں پاکستان کی اونچی اڑان اور عوام کا برا حال

سفارتی کاری میں پاکستان کی اونچی اڑان اور عوام کا برا حال

پورا خطہ جب اسرائیل کی وجہ سے آگ کی لپیٹ میں آگیا تھا تو پاکستان نے ثالثی کی ذمہ دار نبھانے کا فیصلہ کیا۔ جنگ بندی ہوئی جس سے خطے میں امن جزوی طور پر بحال ہوا۔ پاکستانی عوام بہت خوش تھے کیونکہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔ پاکستان کی طرف سے مذاکرات کے دورسے دور کے لیے تیاری مکمل تھی تاہم مہمانوں کی طرف سے تاخیر ہوئی۔ مہمانوں کے استقبال کے لیے سڑکوں کی صفائی ہوئی، نئے پھول پودے لگائے گئے۔ مختلف مقامات کو دھو کر صاف کیا گیا۔ نئے بل بورڈ لگائے گئے۔ دیواروں، فٹ پاتھ پر نیا پینٹ کیا گیا۔ شہر کی دلکشی مزید بڑھ گئی۔ دوسری جانب مذاکرات کے آغاز سے ہی شہر میں مختلف علاقوں کو سیل کر دیا گیا تھا۔ ناکہ بندی، نئی چیک پوسٹیں، وی آئی پی روٹس اور ورک فارم ہوم کا حکم جاری کیا گیا۔ تین چار دن تو شہری ان پابندیوں کو ہنسی خوشی برداشت کرتے رہے لیکن بعد میں ان کو شدید پریشانی ہونے لگی۔ ریڈ زون میں صرف پانچ ستارہ ہوٹل یا وزیر اعظم ہاوس نہیں بلکہ وہاں سپریم کورٹ، وفاقی آئینی عدالت، ہائی کورٹ، مختلف اہم سرکاری دفاتر اور سفارت خانے بھی ہیں۔ جن لوگوں کے ویزہ لگنے تھے یا جن لوگوں کے مقدمات تھے وہ رل کر رہ گئے۔ انتظامیہ بروقت حکم نامہ جاری نہیں کرتی تھی بلکہ رات گئے سرکلر آتا جب عوام سو گئے ہوتے تھے۔ کتنے ہی سکول کالج دفاتر راستے بند ہونے کے باوجود چھٹی نہیں دے رہے تھے۔ نوکری، تعلیمی کیرئیر بچائیں یا انتظامیہ کا حکم مانیں۔ سب انتظامیہ کے ساتھ تعاون کو تیار ہیں لیکن کوئی پالیسی تو بنائیں۔ سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلا دی جاتی تھی اور رہی سہی کسر بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے لگائے گئے سمارٹ لاک ڈوان نے پوری کر دی تھی۔ ایک دن آٹھ بجے کے بعد کچھ پرنٹس درکار تھے۔ گھر کا پرنٹر چل نہیں رہا تو پورے مرکز میں کوئی دکان کھلی نہیں تھی۔ اس ہی طرح بہت سے نوکری پیشہ لوگ جب چھ بجے کام سے فارغ ہوتے ہیں تو کپڑے خریدنے، دیگر شاپنگ، گروسری کرنے کے وقت بازار بند ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) کتنے ہی لوگ ماہر امراض جلد، دندان سازوں اور سیلون باربرز کے پاس شام کو جاتے ہیں لیکن وہ بھی 8 بجے بند۔ اب کام کس طرح کروائیں یہ سمجھ سے باہر ہے؟ بندش کی وجہ سے اسلام آباد میں دودھ، سبزیوں، پھلوں اور اناج کی قلت کی خبریں بھی آنے لگی تھیں۔ اس کے ساتھ ادویات کہ بھی قلت ہوگئی۔ انتظامیہ اور حکومت کو یہ بات سمجھنا چاہیے کہ کچھ لوگوں نے گھر سے نکلنا ہی ہوتا ہے جن میں ڈاکٹرز، صحافی، امدادی کارکن، بینکوں، فارمیسی، صفائی، بجلی گیس اور کمیونیکیشن کا عملہ، بیکری یا گروسری سٹور رن کرنے والے شامل ہوتے ہیں۔ کچھ بھی ہو رہا ہو کبھی بھی روڈز کو بند نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح ہسپتال جانے والے راستے بند نہیں ہونے چاہییں۔ شہر اقتدار کے بارے میں ایتک اور تسویشناک خبر اسلام آباد میں مارگلہ کے دامن میں پرانی بستیوں کو گرایا کر ایک نئے پوش ایریا کو آباد کرنے رہی ہے۔ میرے نزدیک تو اسلام آباد پہلے ہی کافی تعداد میں درختوں سے محروم ہوچکا ہے اور گرمی کی شدت بڑھ گئی ہے۔ اگر آپ نے بار بار عالمی مہمانوں کی میزبانی کرنی ہے تو شہر سے باہر جہاں جنگل نہ ہوا وہ زمین خرید کر ائیرپورٹ، پانچ ستارہ ہوٹل، سٹیڈیم، ہسپتال اور کنوینشن سینٹر بنا دیں۔ اس کو فل ریڈ زون بنا دیں اور وہاں صرف متعلقہ لوگ ہی جاسکیں۔ اس طرح دو شہروں کو بند کیے بنا آپ بڑی بڑی سفارتی سرگرمیاں کرسکتے ہیں۔ ہم کروڑوں پر مشتمل ملک ہیں اور ملک بند کرکے نظام نہیں چل سکتا۔ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے پیٹرول بہت زیادہ لگ رہا ہے۔ غریب آدمی کا متبادل راستہ ڈھونڈنے میں مزید خرچہ ہو جاتا ہے۔ تاجر کہہ رہے ہیں کہ ہم تھوڑی دیر کے لیے دوکان کھولیں پولیس بند کرنے آجاتی ہے۔ اس مسئلہ کا انتظامیہ اور حکومت کو مستقل حل نکالنا ہوگا۔ ہم سب کی خواہش ہے پاکستان اس ہی طرح دنیا میں عزتیں سمیٹے، عالمی سیاست کا مرکز بنے اور اس کی معیشت قرضوں سے آزاد ہو جائے۔ پر عوام کو بھی ریلیف ملنا چاہیے وہ اس وقت مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے، سخت گرمی میں وہ وی آئی پی روٹس میں گھنٹوں پھنسے رہتے ہیں، مہنگی بجلی پیٹرول خرید رہے ہیں۔ بار بار لائٹ جارہی ہے کوئی پرسان حال نہیں۔ سفارت کاری کے ساتھ ساتھ گورننس کو بھی اچھا کریں۔ نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اسلام آباد مذاکرات بندش اگر آپ نے بار بار عالمی مہمانوں کی میزبانی کرنی ہے تو شہر سے باہر ائیرپورٹ، پانچ ستارہ ہوٹل، سٹیڈیم، ہسپتال اور کنوینشن سینٹر بنا دیں۔ اس کو فل ریڈ زون بنا دیں۔ اس طرح دو شہروں کو بند کیے بنا آپ بڑی بڑی سفارتی سرگرمیاں کرسکتے ہیں۔ جویریہ صدیق منگل, اپریل 28, 2026 – 06: 30 Main image:

23 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں امریکہ–ایران مذاکرات کے سلسلے میں سکیورٹی اہلکار ایک سڑک پر تعینات ہیں (اے ایف پی)

بلاگ type: news related nodes: جنگ بندی کی ڈیڈلائن قریب: اسلام آباد میں سفارت کاری کا امتحان اسلام آباد مذاکرات کے سائے میں ’کریکٹر سرٹیفکیٹ‘ اسلام آباد مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل SEO Title: سفارتی کاری میں پاکستان کی اونچی اڑان اور عوام کا برا حال copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments