53.8 F
Pakistan
Thursday, November 5, 2026
HomeBreaking Newsسازشی معاشرہ

سازشی معاشرہ

جنگل کا اپنا ایک دستور ہے۔ وہاں طاقت ور جانور کمزور جانوروں پر غالب آ سکتا ہے، کوئی شکاری کسی دوسرے جانور کو اپنا شکار بنا سکتا ہے، کوئی طاقت ور اپنی طاقت کے بل پر دوسروں کو خوف زدہ کر سکتا ہے، مگر جنگل کے جانوروں میں ایک بڑی کمی ہے کہ وہ انسانوں کی طرح سازشیں نہیں کر سکتے۔ وہ کسی کے خلاف جھوٹی کہانیاں نہیں گھڑتے، کسی کی عزت اچھالنے کے لیے محفلیں نہیں سجاتے، کسی کی کامیابی سے جل کر اس کے راستے میں کانٹے نہیں بچھاتے اور نہ ہی کسی کو گرانے کے لیے بظاہر دوستی اور باطن میں دشمنی کا کھیل کھیلتے ہیں۔ ان کی دنیا میں مقابلہ کھلا ہوتا ہے، دشمنی سامنے ہوتی ہے اور حملہ بھی چھپ کر نہیں بلکہ فطرت کے اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔ جنگل میں شیر شیر ہے، بھیڑیا بھیڑیا ہے، لومڑی لومڑی ہے۔ کسی جانور کو اپنی شناخت چھپانے کے لیے انسانی معاشرت کی طرح کردار ادا کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انسان کا المیہ یہ ہے کہ وہ ہر موقع پر اپنا چہرہ بدلنے کا ہنر سیکھ چکا ہے۔ کسی کے سامنے عاجزی کا پیکر، کسی کے سامنے مخلص دوست، کسی کے سامنے اصول پسند انسان اور کسی کے سامنے مظلوم بن جاتا ہے۔ اس کے کردار کی سب سے بڑی پیچیدگی یہی ہے کہ اس کی ظاہری شخصیت اور باطنی حقیقت میں بعض اوقات زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ہماری معاشرت میں سازش ایک ایسا خاموش ہتھیار بن چکی ہے جسے استعمال کرنے والا اکثر خود کو سب سے زیادہ معصوم اور مظلوم ظاہر کرتا ہے۔ دفاتر ہوں، تعلیمی ادارے ہوں، ادبی حلقے ہوں، سیاسی جماعتیں ہوں یا خاندانی معاملات، ہر جگہ ایسے کردار مل جاتے ہیں جو اپنی صلاحیتوں کے بل پر آگے بڑھنے کے بجائے دوسروں کی ٹانگ کھینچنے میں اپنی توانائیاں صرف کرتے ہیں۔ کسی کی ترقی انہیں اپنی توہین محسوس ہوتی ہے۔ کسی کی شہرت ان کے لیے ناقابل برداشت ہو جاتی ہے۔ کسی کی عزت انہیں اپنی بے توقیری دکھائی دیتی ہے۔ چنانچہ وہ اس شخص کے خلاف ایسی فضا بناتے ہیں جس میں سچائی سے زیادہ افواہ، قابلیت سے زیادہ تعلقات اور کردار سے زیادہ پروپیگنڈے کی اہمیت ہو جاتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سازشی ذہن رکھنے والا شخص کبھی خود کو سازشی تسلیم نہیں کرتا۔ وہ ہمیشہ اپنے عمل کے لیے کوئی نہ کوئی اخلاقی جواز تلاش کر لیتا ہے۔ اسے دوسروں کی اصلاح کی فکر ہوتی ہے، ادارے کی بہتری کا درد ہوتا ہے، معاشرے کے مستقبل کی تشویش ہوتی ہے، مگر اس کی تمام تر فکری سرگرمیوں کا مرکز ایک ہی شخص یا ایک ہی گروہ کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کے عیب تلاش کرنے میں اتنا مصروف رہتا ہے کہ اسے اپنے کردار کی خامیاں دکھائی ہی نہیں دیتیں۔سیاست میں تو یہ فن باقاعدہ ایک فنِ حکمرانی کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ یہاں مخالف کو شکست دینے کے لیے دلیل سے زیادہ الزام، کارکردگی سے زیادہ کردار کشی اور عوامی خدمت سے زیادہ ذاتی مفادات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف بیانات، الزامات، جوابی الزامات اور نت نئی کہانیاں گھڑنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ عوام مسائل کے حل کی امید لگائے بیٹھے رہتے ہیں اور صاحبانِ اقتدار و اختیار ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف رہتے ہیں۔ یوں سیاست خدمتِ خلق کے بجائے بعض لوگوں کے لیے ذاتی انتقام اور اقتدار کی جنگ بن جاتی ہے۔ ادبی دنیا بھی اس انسانی کمزوری سے محفوظ نہیں۔ یہاں لفظوں کے تقدس کی بات کرنے والے بعض اوقات اپنے رویوں میں اتنے غیر ادبی ہو جاتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ محبت، رواداری، برداشت، انسان دوستی اور اخلاقیات پر مضامین لکھنے والے بعض لوگ اپنے ہم عصر کی کامیابی برداشت نہیں کر پاتے۔ کسی کو پذیرائی مل جائے تو اس کے ادبی مقام پر سوال اٹھنے لگتے ہیں۔ کسی کی کتاب شائع ہو جائے تو اس کی خامیاں تلاش کرنے کے لیے باقاعدہ مہم شروع ہو جاتی ہے۔ کسی کو کسی ادارے سے اعزاز مل جائے تو اس کی اہلیت کے پیمانے بدل جاتے ہیں۔ گویا ادب کے نام پر بھی انا، حسد اور گروہ بندی کی ایک الگ دنیا آباد ہے۔یہ رویہ صرف اداروں یا ادبی حلقوں تک محدود نہیں، ہمارے گھروں اور رشتوں میں بھی سرایت کر چکا ہے۔ بعض اوقات ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے لیے اجنبی نہیں بلکہ حریف بن جاتے ہیں۔ بھائی بھائی کی کامیابی سے ناخوش، رشتہ دار دوسرے رشتہ دار کی خوش حالی سے پریشان اور دوست دوست کی ترقی سے خائف دکھائی دیتا ہے۔ کسی کے گھر خوشی آ جائے تو کچھ چہروں پر مسکراہٹ کے بجائے تشویش نمودار ہو جاتی ہے۔ کسی کے ہاں آسودگی آ جائے تو اس کی محنت اور جدوجہد کے بجائے اس کے وسائل پر سوال اٹھنے لگتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ انسان نے اپنی عقل، زبان اور شعور کو ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے بجائے مشکلات پیدا کرنے کا ذریعہ کیوں بنا لیا ہے؟ ہم دوسروں کی کامیابی کو اپنی ناکامی کیوں سمجھتے ہیں؟ کسی کی عزت میں اضافہ ہماری عزت میں کمی کیسے بن جاتا ہے؟ کسی کے آگے بڑھنے سے ہمارے راستے کیسے بند ہو جاتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ سازش اکثر اس شخص کا ہتھیار بنتی ہے جو مقابلے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ جس کے پاس اپنی قابلیت منوانے کے لیے کوئی مضبوط دلیل نہیں ہوتی، وہ دوسرے کی قابلیت مشکوک بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ جس کے پاس اپنا قد بلند کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا، وہ دوسروں کو چھوٹا دکھانے میں اپنی کامیابی تلاش کرتا ہے۔حالانکہ زندگی کا حسن ایک دوسرے کو گرانے میں نہیں، ایک دوسرے کو اٹھانے میں ہے۔ انسان کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ کتنے لوگوں کو شکست دے سکتا ہے بلکہ اس میں ہے کہ وہ کتنے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کر سکتا ہے۔ کسی کی عزت محفوظ رکھنا، کسی کی غیر موجودگی میں اس کا دفاع کرنا، کسی کی کامیابی پر دل سے خوش ہونا اور کسی کی مشکل میں اس کے کام آنا ہی انسانیت کی حقیقی پہچان ہے۔ جنگل کے جانوروں کو انسانوں کی طرح سازشیں کرنے کا ہنر نہیں آتا، لیکن انسان کو یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی اصل پہچان اس کی ذہانت نہیں بلکہ اس کا کردار ہے۔ عقل اگر اخلاق سے محروم ہو جائے تو وہ فریب کا وسیلہ بن جاتی ہے، زبان اگر سچائی سے خالی ہو جائے تو وہ زخم لگانے کا ہتھیار بن جاتی ہے اور طاقت اگر انصاف سے الگ ہو جائے تو ظلم کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔کاش! انسان جنگل کے جانوروں سے کم از کم اتنا ہی سبق سیکھ لے کہ دشمنی کرنی ہے تو سامنے سے کرے، مقابلہ کرنا ہے تو قابلیت سے کرے اور اختلاف رکھنا ہے تو دلیل سے کرے۔ کسی کی پیٹھ پیچھے گڑھے کھودنے، جھوٹے قصے گھڑنے اور سازشوں کے جال بننے سے پہلے اپنے گریبان میں ضرور جھانکے۔ ورنہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جنگل کے جانوروں میں واقعی ایک کمی ہے کہ وہ انسانوں کی طرح سازشیں نہیں کر سکتے، مگر انسان میں بھی ایک بڑی کمی پیدا ہو گئی ہے کہ وہ انسانوں کی طرح انسان نہیں رہنا چاہتا!

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments