امریکی ریاست الینوائے کی سدرن الینوائے یونیورسٹی کے سائنس دان پلاسٹک کے کچرے کو دوبارہ استعمال کرنے کا ایک نیا طریقہ آزما رہے ہیں۔ وہ ایک خاص قسم کے خمیر کی مدد سے پلاسٹک کو توڑ کر ایسے مادے میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے خوراک بنانے میں استعمال کیا جا سکے۔ اسی تجربے کے تحت سائنس دانوں نے پلاسٹک کے کچرے سے حاصل کیے گئے مادے کی مدد سے بسکٹ بھی تیار کیے ہیں۔ سدرن الینوائے یونیورسٹی کے سائنس دان پلاسٹک کے ٹکڑے براہِ راست خوراک میں شامل نہیں کر رہے، بلکہ محققین نے بیکر کے خمیر یعنی عام طور پر روٹی اور دیگر اشیائے خورونوش بنانے میں استعمال ہونے والی خمیر کی ایک حیاتیاتی طور پر تبدیل شدہ شکل تیار کی ہے۔ اس خمیر کا مقصد پلاسٹک کے کچرے کو چھوٹے اجزا میں توڑنا ہے تاکہ ان سے ایسے مواد حاصل کیے جا سکیں جنہیں خوراک کی تیاری میں استعمال کیا جا سکے۔ اس منصوبے کو اب ”یو بائٹس“ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نام ان “مائیکروبائٹس” سے لیا گیا ہے جو پلاسٹک کو توڑنے کے عمل میں کردار ادا کرتے ہیں۔ منصوبے کا آغاز بنیادی طور پر امریکی خلائی ادارے ناسا کے ”ڈیپ اسپیس فوڈ چیلنج“ کے تحت ہوا تھا۔ اس کا مقصد طویل خلائی سفر کے دوران پیدا ہونے والے کچرے کو ضائع کرنے کے بجائے اسے دوبارہ قابل استعمال بنانا اور ممکنہ طور پر خوراک میں تبدیل کرنا تھا۔ خلاء میں طویل عرصے تک رہنے والے انسانوں کے لیے خوراک اور فضلے کا انتظام ایک اہم مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ زمین سے مسلسل نئی خوراک اور سامان پہنچانا مشکل اور مہنگا ہو سکتا ہے، اس لیے سائنس دان ایسے نظام تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں دستیاب وسائل کو زیادہ سے زیادہ دوبارہ استعمال کیا جا سکے۔ تاہم، محققین کے خیال میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال صرف خلائی سفر تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اس کے ممکنہ زمینی استعمال پر بھی توجہ دی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا ایک طرف پلاسٹک کی آلودگی اور دوسری طرف غذائی قلت جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ سدرن الینوائے یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر لہِرو جیاکوڈی کے مطابق، منصوبے کے سامنے اب سب سے بڑا چیلنج ٹیکنالوجی تیار کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو اسے قبول کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایسی خوراک مستقبل میں مارکیٹ تک پہنچتی ہے تو صارفین کا اعتماد اور اسے کھانے پر آمادگی انتہائی اہم ہوگی۔ یونیورسٹی کی جانب سے 2024 میں جاری کی گئی معلومات میں جیاکوڈی نے کہا تھا کہ غذائی عدم تحفظ ایک عالمی اور سنگین مسئلہ ہے جو لاکھوں افراد کو متاثر کرتا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کی شدت میں اضافے کے ساتھ یہ مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ’یو بائٹس‘ جیسی ٹیکنالوجی پلاسٹک آلودگی اور بھوک کے مسائل سے بیک وقت نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے۔ محققین اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ صرف یہ ثابت کر دینا کافی نہیں کہ پلاسٹک کو کسی قابل استعمال مادے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ خوراک کا ذائقہ، خوشبو اور مجموعی معیار بھی صارفین کی قبولیت میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔ اسی لیے ٹیم اپنی ترکیب میں تبدیلیاں کر رہی ہے اور بیکر کا خمیر اور ونیلا جیسا ذائقہ شامل کرنے پر کام کر رہی ہے تاکہ تیار ہونے والی خوراک زیادہ قابلِ قبول محسوس ہو۔ اس منصوبے کے باوجود یہ واضح نہیں کہ عام صارف کے لیے ایسی خوراک کب تک دستیاب ہوگی یا اسے بڑے پیمانے پر کھانے کے لیے کس حد تک محفوظ اور موزوں ثابت کیا جا سکے گا۔ اس کے لیے مزید سائنسی تحقیق، حفاظتی جانچ اور غذائی معیار سے متعلق ضوابط کی ضرورت ہوگی۔ محققین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ عوام میں آگاہی پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر مستقبل میں پلاسٹک سے تیار کردہ خوراک کو معاشرے میں متعارف کرانا ہے تو تعلیمی اور آگاہی پروگراموں کے ذریعے لوگوں کو اس عمل اور اس کی ممکنہ افادیت کے بارے میں سمجھانا ہوگا۔ ”یو بائٹس“ ایک ایسے تصور کی نمائندگی کرتا ہے جس میں ایک ہی عمل کے ذریعے پلاسٹک کے کچرے اور خوراک کی کمی جیسے دو بڑے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم پلاسٹک سے خوراک تک کا یہ سفر ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے اور اسے عام کھانے کی میز تک پہنچنے سے پہلے کئی سائنسی، حفاظتی اور سماجی مراحل سے گزرنا ہوگا۔
سائنس دانوں نے پلاسٹک سے بسکٹ تیار کر لیا: کیا آپ کھانا پسند کریں گے؟
RELATED ARTICLES



