جب میں اس دنیا میں تھا تو میں نے بے چین ہو کر ایک بار کہا تھا، موت کا ایک دن معین ہے نیند کیوں رات بھر نہیں آتی آج موت کی نیند پھر اچٹ گئی۔ کیا نیند، کیا موت، دونوں میں کسی کا اعتبار نہیں، جب زندہ تھے تو زندگی کا رونا تھا اور
جب میں اس دنیا میں تھا تو میں نے بے چین ہو کر ایک بار کہا تھا، موت کا ایک دن معین ہے نیند کیوں رات بھر نہیں آتی آج موت کی نیند پھر اچٹ گئی۔ کیا نیند، کیا موت، دونوں میں کسی کا اعتبار نہیں، جب زندہ تھے تو زندگی کا رونا تھا اور