88 F
Pakistan
Wednesday, July 1, 2026
HomeEntertainmentزبان اور دل بادشاہت کو تسلیم نہیں کرتے،مستقبل قریب میں تخت و...

زبان اور دل بادشاہت کو تسلیم نہیں کرتے،مستقبل قریب میں تخت و تاج کا تصور مٹ جائے گا،نمرود نے میری مٹی پر مصنوعی جنت بنا کر خدائی کا دعویٰ کیا

مصنف: صادق حسینقسط: 7آپ کی قوم بت پرست تھی۔ آپ کے والد بت گر، بت فروش اور بُت پرست تھے۔ خدا نے آپ کو نبوت عطا فرمائی۔ آپ نے توحید کی دعوت دی۔ ایک دن آپ نے شہر کے بت خانے کے سارے بت توڑ ڈالے۔ بادشاہ نمرود برانگیختہ ہو گیا۔ میں نے ہمیشہ بادشاہوں کو ناپسند کیا ہے۔ پہلے زمانے میں رعایا، بادشاہوں کو زبان سے مانتی اور دِل سے نفرت کرتی تھی۔ اب زبان اور دل دونوں بادشاہت کو تسلیم نہیں کرتے۔ مستقبل قریب میں تخت و تاج کا تصور حرفِ باطل کی طرح مٹ جائے گا۔کوش بن حام کا بیٹا نمرود بابل کابادشاہ تھا۔ وہ خدائی کا دعویدار تھا۔ میری مٹی پر ایک مصنوعی جنت بنا کر خدائی کا دعویٰ کیا۔ اُس کا گھمنڈ تباہ ہو کر میرے قدم میں آ پڑا۔ اسی بادشاہ نے حکم دیا تھا کہ بت شکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دیا جائے۔ نمرود کے فرمان کو عملی جامہ پہنانے کے لئے میرے جسم کے ایک مختصر حصے پر آگ جلائی گئی۔ اُس وقت میرا جی چاہ رہا تھا کہ آگ کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دوں۔ میں شرمندہ ہوں کہ میں ایسا نہ کر سکی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلتے الاؤ میں ڈالا گیا تو خدا کے حکم سے آگ ٹھنڈی ہو گئی۔ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا۔ میرے جسم کا وہ حصہ جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ آج بھی حیرت میں ڈوبا ہوا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام ہجرت کر کے فلسطین چلے گئے۔ آپ نے اپنے دین کی تبلیغ کے لئے 2 مقامات منتخب کئے فلسطین اور مکہ۔ آپ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مدد سے مکہ میں کعبہ ازسر نو تعمیر کیا۔سبحان اللہ! کتنی بڑی سعادت تھی میرے لئے۔ خدا کے 2نبی، میرے جسم کے حصوں کو اپنے مبارک ہاتھوں سے ایک عظیم مصرف میں لا رہے تھے۔ میری مٹی 2 نبیوں کی قربت پا کر جاوداں ہو گئی۔جب میں حضرت اسماعیلؑ کا نام لیتی ہوں تو میرے جسم کے2 مقامات اب بھی دھک دھک کرنے لگتے ہیں۔ایک وہ مقام جو دیوار کعبہ سے 23گز کے فاصلے پر ہے۔جب حضرت اسماعیلؑ بچے ہی تھے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں اورحضرت بی بی ہاجرہؑ کو مکہ میں ایک ویران جگہ پر چھوڑ گئے۔ مشکیزے کا پانی ختم ہو گیا۔ حضرت ہاجرہؑ بچے کو اس مقام پر چھوڑ کر پانی کی تلاش میں نکلیں۔ صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سعی کرتی رہیں، پانی کہیں نظر نہ آیا۔ اُدھر حضرت اسماعیل علیہ السلام پیاس کی شدت سے ایڑیاں رگڑنے لگے۔ اُس وقت میرے جسم کا وہ مقام دھڑکنے لگا۔ میرے اندر پانی کے سوتے بے قرار ہو گئے۔ دفعتاً ایک چشمہ اُبل پڑا۔ حضرت ہاجرہؑ نے دیکھا تو کہا ”زم-زم“ ٹھہر جا۔ ٹھہر جا۔ اُس چشمے کا نام زم زم پڑ گیا۔دوسرا مقام ہے مروہ کی پہاڑی جہاں پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لئے منہ کے بل لٹایا تھا۔ اُس وقت مجھے 2 نبیوں کی سانس کی خوشبو آ رہی تھی۔ میں نے اُن 2مبارک چہروں کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ مروہ کی تڑپتی ہوئی پہاڑی آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی کہ میرے خدا کی طرف سے آواز آئی ”ابراہیم تو نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا۔ ہم احسان کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں اور ہم نے اس کے لئے ذبح عظیم کا فدیہ دیا۔“خدا کی طرف سے ایک مینڈھا آیا جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کیا۔اس وقعہ سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا تھا ”میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟“حضرت اسماعیلؑ نے فرمایا تھا ”آپ مجھے ثابت قدم پائیں گے۔“(جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اسلام آبائی کورٹ نے ازدواجی اثاثوں سے متعلق فیصلہ اسلامی احکامات سے متصادم قرار دے دیا

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments