77.2 F
Pakistan
Sunday, September 27, 2026
HomeHealthریڑھ کی ہڈی کی کمزوری دماغی کمزوری کی علامت ہو سکتی ہے،...

ریڑھ کی ہڈی کی کمزوری دماغی کمزوری کی علامت ہو سکتی ہے، نئی تحقیق

ایک نئی طویل مدتی سائنسی تحقیق میں ریڑھ کی ہڈی کی ہڈیوں کی مضبوطی اور دماغی صحت کے درمیان ایک دلچسپ تعلق سامنے آیا ہے۔ محققین کے مطابق جن بزرگ افراد کی ریڑھ کی ہڈی میں ہڈیوں کی کثافت کم تھی، ان میں وقت کے ساتھ یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں نسبتاً تیزی سے کمی دیکھی گئی اور یہ خطرہ ان لوگوں میں مزید بڑھ جاتا ہے جو شوگر یعنی ذیابیطس کے مریض بھی ہوتے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق محققین نے 700 سے زائد عمر رسیدہ افراد کے سینے کے سی ٹی اسکین کا بغور جائزہ لیا۔ یہ تمام تصاویر ایک جدید مصنوعی ذہانت کے پروگرام کی مدد سے دیکھی گئیں تاکہ ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں ہڈیوں کی مضبوطی کا اندازہ لگایا جا سکے۔ اس کے بعد تقریباً 5 سال تک ان افراد کی یادداشت، سوچنے کی رفتار اور مجموعی ذہنی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، جبکہ ان کے دماغ میں ہونے والی ساختی تبدیلیوں کو بھی اسکین کے ذریعے دیکھا گیا۔ تحقیق کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ جن افراد کی ریڑھ کی ہڈی کی ہڈیوں میں کمزوری تھی، ان کی مجموعی دماغی صلاحیت میں ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے کمی واقع ہوئی جن کی ہڈیاں مضبوط تھیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ نتیجہ اس وقت بھی درست ثابت ہوا جب ماہرین نے لوگوں کی ورزش، دل کی صحت، عمر، جنس اور نسل جیسے دوسرے عوامل کا بھی حساب لگا لیا۔ دماغ کے اسکینز سے یہ بھی پتہ چلا کہ کمزور ہڈیوں کا تعلق دماغ کے اس حصے میں خرابیوں سے ہے جو یادداشت، توجہ اور اہم فیصلے کرنے کے عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ہڈیوں کی کثافت میں کمی کے ساتھ ہر سال ذہنی کارکردگی میں معمولی اضافی کمی دیکھی گئی۔ محققین نے دماغ کے اسکین کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ریڑھ کی ہڈی میں کم ہڈیوں کی کثافت دماغ کے ایک اہم حصے میں سفید مادے میں ہونے والی تبدیلیوں سے بھی منسلک تھی۔ دماغ میں موجود سفید مادہ مختلف حصوں کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تحقیق میں خاص طور پر کارپس کیلوسم نامی حصے میں چھوٹی تبدیلیوں کا تعلق کم ہڈیوں کی کثافت سے سامنے آیا۔ یہ حصہ دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطے میں مدد دیتا ہے اور یادداشت، توجہ اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت جیسے کاموں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ دماغ کے ایک اور حصے میں سفید مادے کے ریشوں کے معیار میں کمی بھی دیکھی گئی، جو انسان کی منصوبہ بندی اور دوسرے پیچیدہ ذہنی کاموں سے متعلق ہے۔ یہ دلچسپ بات بھی سامنے آئی کہ ہڈیوں کی کمزوری اور دماغی کمزوری کا آپس کا یہ تعلق ان لوگوں میں سب سے زیادہ واضح تھا جو ذیابیطس یعنی شوگر کے بھی مریض تھے۔ اس سے ماہرین کا یہ خیال ہے کہ یہ دونوں بیماریاں اندرونی طور پر ایک جیسی وجوہات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ محققین کا خیال ہے کہ ہڈیوں کی کمزوری اور دماغی عمر بڑھنے کے پیچھے بعض مشترکہ عوامل ہوسکتے ہیں۔ تاہم اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کمزور ہڈیاں براہ راست دماغی صلاحیت میں کمی کا سبب بنتی ہیں۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے محقق اور تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر شادپور دیمہری کے مطابق یہ تحقیق ہمیں ایک بڑا اشارہ دیتی ہے کہ ایک خاص وقت پر انسان کی ہڈیوں کی صحت اس بات سے جڑی ہوتی ہے کہ اس کا دماغ کیسے بوڑھا ہو رہا ہے۔ البتہ، ماہرین کا یہ بالکل ماننا نہیں ہے کہ کمزور ہڈیاں سیدھے طور پر دماغی کمزوری کی وجہ بنتی ہیں۔ اس کے برعکس، ان کا خیال ہے کہ ہڈیوں کی کمزوری دراصل انسان کی مجموعی صحت کا پتہ دیتی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ جسم میں سالوں سے جاری سوزش، کمزور خوراک، سست طرز زندگی یا جسمانی کمزوری چپکے چپکے ہڈیوں اور دماغ دونوں کو ایک ساتھ نقصان پہنچا رہی ہے۔ ڈاکٹر دیمہری نے تحقیق کے ایک اور اہم پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق جدید مصنوعی ذہانت کی مدد سے اب ایسے معمول کے طبی اسکین سے بھی صحت کے بارے میں اضافی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں جو اصل میں دماغ یا ہڈیوں کی اس مخصوص تحقیق کے لیے نہیں کیے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں ایک ہی اسکین سے جسم کے مختلف حصوں کی صحت کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کرنے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ محققین نے واضح کیا کہ یہ ابھی ایک تحقیقی مطالعہ ہے اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کمزور ہڈیاں دماغی صلاحیت میں کمی کی وجہ بنتی ہیں۔ تحقیق میں سامنے آنے والے اثرات بھی محدود تھے اور دماغ اور یادداشت کے ہر ٹیسٹ میں ایک جیسا تعلق نہیں دیکھا گیا۔ اس طریقے کو عام طبی استعمال میں لانے سے پہلے مختلف قسم کی اسکین مشینوں اور مختلف مریضوں کے گروپس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہوگی۔ فی الحال یہ تحقیق ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمارے جسم کے تمام حصے، بشمول ہڈیوں کے، ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments