70.6 F
Pakistan
Tuesday, October 6, 2026
HomeCrimeروس میں وائرس لیبارٹری حادثہ: نئی ممکنہ عالمی وبا ’نمونک پلیگ‘ کیا...

روس میں وائرس لیبارٹری حادثہ: نئی ممکنہ عالمی وبا ’نمونک پلیگ‘ کیا ہے اور کتنی خطرناک ہے؟

روس کے کطے سائیبیریا میں واقع ارکوتسک ریسرچ اینٹی پلیگ انسٹیٹیوٹ کی 28 سالہ لیبارٹری ریسرچر کی نمونیا کے باعث پراسرار موت کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جس کے بعد روس میں سیکیورٹی اور طبی اقدامات کے تحت متعدد افراد کو قرنطینہ کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ بیماریوں کے لیے قائم روسی نگران ادارے نے ریسرچر کی موت اور اس کے کام کے درمیان کسی براہِ راست تعلق کو فی الوقت مسترد کیا ہے، تاہم اس واقعے نے وبا کی اس نئی قسم سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا ہے جو نمونیا کا باعث بنتی ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ اور سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے صورتحال کی نگرانی شروع کر دی ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت نے پیر کے روز روسی حکام سے رابطہ قائم کیا تاکہ واقعے کے حقائق، جاری ٹیسٹنگ اور بین الاقوامی صحت عامہ پر اس کے ممکنہ اثرات کی تصدیق کی جا سکے۔ عالمی ادارہ صحت کے ترجمان نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ فی الوقت دستیاب غیر رسمی معلومات کی بنیاد پر عام آبادی کے لیے صحت عامہ کا خطرہ انتہائی کم معلوم ہوتا ہے، اور زیادہ معلومات ملنے پر رسک اسیسمنٹ کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ طبی سائنس کی دنیا میں نمونیا کی وبا، جسے انگریزی میں ’نمونک پلیگ‘ کہا جاتا ہے، یارسینیا پیسٹس نامی بیکٹیریا کی وجہ سے پھیپھڑوں میں ہونے والا ایک نایاب اور انتہائی مہلک انفیکشن ہے جس کو سائنس دان وباؤں کی تمام اقسام میں سب سے زیادہ خطرناک قرار دیتے ہیں۔ عمومی طور پر وبا کی دیگر اقسام بھی ہوتی ہیں جو جسم کے مختلف حصوں پر حملہ آور ہوتی ہیں۔ ان میں سب سے عام گلٹیوں والی وبا یعنی بیوبونک پلیگ ہے جو پسو کے کاٹنے یا جلد کی خراش کے ذریعے پھیلتی ہے اور لیمف نوڈز میں سوجن اور درد کا باعث بنتی ہے۔ اس کے علاوہ سیپٹیسیمک پلیگ خون میں انفیکشن پھیلاتی ہے جس سے اعضاء ناکارہ ہو سکتے ہیں، جبکہ فیرینجیل پلیگ متاثرہ گوشت کھانے کی وجہ سے حلق کو متاثر کرتی ہے۔ لیکن نمونیا کی وبا واحد ایسی قسم ہے جو ایک شخص سے دوسرے شخص میں سانس کے ذریعے، کھانسنے، چھینکنے یا متاثرہ جانوروں کے قطروں سے براہِ راست منتقل ہو سکتی ہے۔ اس بیماری کی علامات میں مریض کو انفیکشن کے چوبیس گھنٹوں کے اندر شدید بخار، کپکپی، سر درد، جسم میں درد، چکر آنا، شدید کمزوری، متلی اور اسہال کی شکایات شروع ہو جاتی ہیں اور بیکٹیریا پھیپھڑوں کو متاثر کر کے سانس لینے میں شدید دشواری پیدا کر دیتے ہیں۔ بروقت علاج نہ ملنے کی صورت میں یہ بیماری تقریباً سو فیصد مہلک ثابت ہوتی ہے۔ تاہم، اگر انفیکشن کے ابتدائی چوبیس گھنٹوں کے اندر مریض کو اینٹی بائیوٹکس دی جائیں تو اس کے بچنے کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے عام آبادی کے لیے اس وبا کی ویکسین کی سفارش تاحال نہیں کی ہے، بلکہ فی الحال یہ ویکسین صرف لیبارٹری کے اس عملے کے لیے تجویز کی گئی ہے جو مسلسل اس بیکٹیریا والے ماحول میں کام کرتے ہیں۔ انفیکشن کے ماہر ڈاکٹر ٹائلر ایوانز نے ماحولیاتی تبدیلیوں اور صحت عامہ کے ڈھانچے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں اور خاص طور پر صحت عامہ کے ڈھانچے پر توجہ کم ہونے کی وجہ سے اس وبا کے خطرات بڑھ رہے ہیں، لیکن اس کی بروقت تشخیص ممکن ہے اور اس کے خلاف اینٹی بائیوٹکس انتہائی مؤثر ہیں۔ پین اسٹیٹ ہیلتھ سینٹ جوزف میڈیکل سینٹر کے ماہرِ امراضِ متعدی ڈاکٹر رتول دلال نے اس کے عالمی انتشار کے امکانات کو کم قرار دیتے ہوئے کہا کہ نمونک پلیگ کا مریض بہت تیزی سے بیمار پڑتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے چلنے پھرنے یا سفر کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور یہی چیز اس کے پھیلاؤ کو روکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ دنیا ایک چھوٹا گاؤں بن چکی ہے اور ہمیں احتیاط کرنی چاہیے، لیکن کرونا وبا سے موازنہ کیا جائے تو اس وقت یہ اس سطح کا خطرہ نہیں ہے اور امید ہے کہ یہیں تک محدود رہے گا۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments