مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 134 ”کرونا“کی پہلی خبر کرونا کی ابتدائی خبریں نشر ہوتے ہی اگلے روز ”گلگت بلتستان“ کے ایک 90 سالہ بزرگ کی کرونا کے سبب رِحلت کی خبر پاکستان ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی۔ خادم ع۔ غ۔ جانباز اپنا ”90th Birthday“ پہلی نومبر 2019ء کو بڑی دھوم دھام سے منا کر قدرے پُر جوش تھا۔ وہ اگلے روز ”دھیما دھیما“ سا انگلیوں پر گنتے پایا گیا کہ کُل پاکستان میں کتنے 90 سال سے زائد عمر والے بزرگان ہیں جو اب اِس موذی مرض کے تختۂ مشق بننے والے ہیں۔ یہ اِس لیے بھی کہ اِس مرض نے اپنا وار اُوپر سے شروع کردیا ہے۔ جمع تفریق کرتے اُسے یہ بھی خیال آیا کہ پگلے یہ امریکہ یا آسٹریلیا تو نہیں جہاں لوگ عام طور پر لمبی عمریں پاتے ہیں یہاں تو جمع تفریق کرتے پتہ چلا کہ بس یہ تو سیڑھی کا آخری پایہ ہی سمجھ۔رات کو بستر پر لیٹے نا جانے کیوں غیر ارادی طور پر کبھی ٹانگوں کو کبھی بازؤوں کو ٹٹولتا، دباتا رہا کہ دیکھوں یہ مرض رات بسری کرنے دیتا ہے یا ابھی دبوچ لے گا۔ پھر نیند نے جو غلبہ پایا تو صبح ہی آنکھ کھلی۔ اگلی صبح نہاتے دھوتے معمول سے کچھ زیادہ ہی وقت صرف کیا۔ جیسے کوئی مسافر رختِ سفر باندھ رہا ہو۔ ناشتے کے بعد اہل خانہ سے وہ باتیں بھی شیئر کیں جو ہمیشہ اپنے ہی تک زندگی بھر محدود رکھّیں۔ 12بجے ٹیلیویژن جو ”اَون“ کیا ایک اناؤنسر بڑے ہی دھیمے سے لہجے میں یہ ختر نشر کرتے پائے گئے کہ کل جو ایک ”گلگت بلتستان“ کے 90 سالہ بزرگ کی کرونا کے سبب رِحلت کی خبر نشر کی گئی تھی وہ غلط نکلی، وہ بزرگ تو کسی اور بیماری کا شکار ہو کر راہ ئ ملکِ عدم ہوئے جس کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں۔ یہ سنتے ہی میں ایک سپرنگ کی مانند اُچھلا اور اہل خانہ کو ڈانٹتا چلا گیا کہ چائے کا وقت گنوا دیا، جلدی چائے بنا کر لاؤ اور ہاں ساتھ فریج سے مٹھائی کا ڈبہ بھی میز پر ہو کہ خالی پیٹ چائے کا مزہ ہی کیا۔ اور پھر میری زبان پر یہ شعر مترنّم تھا۔ ؎زندگی زندہ دِلی کا نام ہے مُردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں لاہور کا پوش علاقہ اور میرے ہمسائے 1990ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد لاہور کی سب سے اچھی ”پوش آبادی“ میں گھر بنا کر رہائش اختیار کرلی۔ اُس وقت اِس گلی میں ابھی چند گھر ہی بنے تھے۔ دس پندرہ سال کا عرصہ لگا جب اِس گلی کے دو رویہ گھر اور ایک پارک بنی۔ جب تھوڑی سی گلی میں رونق ہوئی تو گلی کی نمبرداری میں نے سنبھال لی اور ایک پرائیویٹ چوکیدار گلی کی نگرانی کے لیے رکھ لیا۔ گلی کے لو گ اپنے حصّے کا چندہ چوکیدار کو دیتے رہے۔ لیکن یہ سلسلہ جلد ہی دم توڑ گیا۔ نیرنگئی زمانہ دیکھئے کہ گلی محلّوں سے آنے والے لوگ صبح دوپہر شام ایک دوسرے کے دُکھ بانٹتے اجنبی اجنبی سے نظر آنے لگے۔ قصّہ کوتاہ صرف شادی، مرگ تک میل ملاپ رہ گیا۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ٹیکسلا میں قاری نے مدرسے کے طالب علم کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
رات کو بستر پر لیٹے نا جانے کیوں کبھی ٹانگوں کو کبھی بازؤوں کو ٹٹولتا، دباتا رہا،ناشتے کے بعد اہل خانہ سے وہ باتیں بھی شیئر کیں جو ہمیشہ اپنے تک محدود رکھیں
RELATED ARTICLES



