81 F
Pakistan
Friday, June 19, 2026
HomeEntertainmentرات ابھی ڈھلی نہیں ہوگی کہ جیپ ڈیرے میں آکررکی، وہ بے...

رات ابھی ڈھلی نہیں ہوگی کہ جیپ ڈیرے میں آکررکی، وہ بے ہوش تھی اور اُکھڑی اُکھڑی سانسیں لے رہی تھی،جاؤ اسے چھوڑ کر فوراًواپس آؤ

مصنف: مہر غلام فرید کاٹھیا قسط: 52”نہیں بیٹا۔ تم یہ بتاؤ کہ عنایتا کہاں ہے۔ مجھے اس سے کوئی کام ہے۔“نذرو نے بتایا”وہ تو صبح سویرے نیلی چلا گیا اور کہیں رات کو یا کل صبح ہی واپس آئیگا۔“بکھو یہ معلوم کرکے کہ عنایتا جا چکا ہے واپس ڈیرے پر آگیا جہاں بھنگو اور ایک دوسرا ملازم بھی موجود تھے مگر چوہدری انیس ابھی تک نہیں پہنچا تھا۔ تھوڑی دیر میں انیس بھی پہنچ گیا۔ بکھو نے آگے بڑھ کر جیپ کا دروازہ کھولا۔ چوہدری انیس ابھی جیپ میں ہی تھا جب بکھونے ”ٹھیک ہے“کی رپورٹ دی۔رات ابھی ڈھلی نہیں ہوگی کہ جیپ ڈیرے میں آکررکی۔ لائٹیں بجھیں تو چوہدری انیس کمرے سے باہر نکلا۔ اس نے اندھیرے میں اندازہ کرلیا کہ وہ کامیاب لوٹے ہیں۔ چوہدری نے انہیں اس کے کمرے میں لانے کا اشارہ کیا اور خود بھی واپس کمرے میں آگیا۔لالٹین کی روشنی میں صغری میلی میلی سی لگ رہی تھی۔ وہ بے ہوش تھی اور اُکھڑی اُکھڑی سانسیں لے رہی تھی۔ بھنگو اور بکھو نے اُسے چارپائی پر ڈالا اور خود کمرے سے باہر نکل گئے۔چوہدری انیس نے بستر پر بے ہوش پڑی صغری پر ایک نظر خطاکار دوڑائی۔ صغری کی آنی جانی سانسوں سے بدن کے زیروزبر متحرک تھے وہ کچھ دیر تک صغری کے نشیب و فراز پر غور کرتا رہا۔ پھر اچانک چوہدری انیس نے لالٹین کی مدہم لو بھی بند کردی اور پھر کمرے میں مکمل اندھیرا چھا گیا۔رات کا پچھلا پہر ہوگا جب چوہدری انیس کمرے سے باہر آیا۔ بکھو اور بھنگو کو آہستہ سے بلایا جو پاس ہی کے کمرے میں موجود تھے۔ وہ دونوں باہر نکلے اور ٹارچ کی روشنی میں چوہدری انیس کو دیکھا تو دونوں ملازموں کی جان نکل گئی۔ بھنگو بھاگتا ہوا واپس اپنے کمرے میں گیا اور بندوق اٹھا لایا۔بکھو نے پوچھا۔”چوہدری صاحب کیا ہوا آپ کو،آپ تو پسینے میں شرابور ہیں۔ آپ کی اپنی سانسیں اُکھڑ ی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہیں۔“چوہدری انیس گھبراہٹ کے عالم میں دونوں پر برس پڑااور حکم دیا۔”صغری کو فوراً واپس لے جاؤ اور دیکھو نہ تمہیں کوئی دیکھے اور نہ تم جیپ کی لائٹیں جلاؤ۔ بہت احتیاط سے جاؤ اور اسے واپس چھوڑ کر فوراًواپس آؤ۔“دونوں ملازم اندر کمرے میں گئے تو صغری انہیں بدستور بے ہوش ملی۔ جب بکھواُسے اٹھانے لگا تو اُسے لگا جیسے صغری کا جسم ٹھنڈا ہو چکا ہے اس نے بھنگو سے کہا۔”یار اس کی نبض ٹٹولو۔“اور بھنگو نے نبض پر ہاتھ رکھا۔ پھر فوراً منہ پر ہاتھ رکھ کر سانسیں محسوس کرنے کی کوشش کی۔ مگر وہاں مکمل سکوت تھا چنانچہ اب دونوں ملازموں کو اپنے مالک کی گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ کی حقیقت کا احساس ہوا۔ابھی اذانیں نہیں آئی تھیں کہ دونوں ملازم اپنے فرض سے فارغ ہوکر واپس ڈیرے پر پہنچے جہاں چوہدری انیس سراسیمگی کے عالم میں ادھر اُدھر تیز تیز قدموں سے گھوم رہا تھا۔ اُنہیں دیکھتے ہی بول اُٹھا۔”کسی نے دیکھا تونہیں۔“اور دونوں نے بتایا۔”سب ٹھیک ہے“اور بولے۔”چوہدری صاحب اب کیا ہوگا۔“چوہدری انیس نے انہیں آہستگی سے ڈانٹا اور کہا ”چپ رہواور جب ہمیں کسی نے دیکھا ہی نہیں تو ہمیں کیا معلوم؟“بکھو اور بھنگو آہستگی سے بولے۔”جو حکم سرکار“اور اُسی دن سہ پہر کے وقت جب صغری کا جنازہ پڑھایا جا رہا تھا تو چوہدری انیس اور اس کے دونوں ملازم جنازے میں پہلی صف میں امام کے عین پیچھے موجود تھے۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ حقیقت کا ادراک کریں اور ایران معاہدے کو قبول کریں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی اسرائیل کو تنبیہ

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments