کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب آپ شدید پریشانی یا ذہنی تناؤ میں ہوتے ہیں تو آپ کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگتے ہیں، کبھی معدے میں تیزابیت، کبھی پیٹ پھولنے اور کبھی بار بار واش روم جانے کی شکایت ہونے لگتی ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں ہے بلکہ ذہنی دباؤ اور نظامِ ہاضمہ کے درمیان ایک گہرا اور دوطرفہ تعلق پایا جاتا ہے۔ پریشانی اور اضطراب کا اثر صرف دماغ پر ہی نہیں بلکہ براہِ راست انسان کے پیٹ پر بھی پڑتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق دائمی ذہنی دباؤ، جذباتی تناؤ اور نامکمل نیند کے شکار افراد کو اکثر پیٹ کی خرابی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کیفیت کی علامات میں پیٹ پھولنا، تیزابیت، مروڑ، قبض اور اسہال شامل ہیں۔ ماہرین صحت کے نزدیک دماغ اور معدہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور مسلسل ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ذہنی دباؤ کے دوران جسم ایک طرح کی ’’فائٹ یا فلائٹ‘‘ کیفیت میں چلا جاتا ہے، جس میں انسان زیادہ چوکس اور متحرک ہوجاتا ہے۔ اس دوران نظامِ ہاضمہ کی معمول کی حرکت متاثر ہوسکتی ہے۔ جب انسان کو ذہنی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے تو جسم ایسی حالت میں چلا جاتا ہے جہاں ہاضمے کی رفتار یا تو بہت تیز ہو جاتی ہے جس سے اسہال کی شکایت ہوتی ہے، یا پھر نظامِ ہاضمہ سست ہو جاتا ہے جو قبض کا سبب بنتا ہے۔ یہ تعلق صرف ایک طرفہ نہیں ہے۔ یعنی ذہنی دباؤ معدے کو متاثر کرتا ہے تو مسلسل معدے کی خرابی بھی انسان میں بے چینی اور پریشانی بڑھا سکتی ہے۔ ذہنی دباؤ انسان کی حساسیت کو بھی بڑھا دیتا ہے جس کی وجہ سے پیٹ کی معمولی حرکات بھی تکلیف، دباؤ یا درد محسوس ہونے لگتی ہیں۔ یہ رابطہ دونوں طرف سے کام کرتا ہے، یعنی اگر کسی کو طویل عرصے تک پیٹ کے مسائل رہیں تو اس سے ذہنی دباؤ اور بے چینی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، بالخصوص اریٹیبل باؤل سنڈروم کے مریضوں میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم ضروری نہیں کہ ذہنی دباؤ ہی اس بیماری کی بنیادی وجہ ہو۔ مسلسل ذہنی دباؤ کا اثر انسان کی روزمرہ عادتوں پر بھی پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں بعض لوگ کھانے کے اوقات کا خیال نہیں رکھتے، زیادہ کافی پیتے ہیں، تیز مرچ مصالحے یا پراسیسڈ کھانے زیادہ استعمال کرتے ہیں، جلدی جلدی کھانا کھاتے ہیں یا دوپہر کا کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔ جو معدے کی تکلیف کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ یاد رہے کہ ہر قسم کی معدے کی تکلیف کو ذہنی دباؤ سے جوڑنا درست نہیں۔ اگر علامات بار بار ہوں یا طویل عرصے تک برقرار رہیں تو ڈاکٹر سے معائنہ کرانا ضروری ہے۔ خاص طور پر بغیر کسی واضح وجہ کے وزن کم ہونا، پاخانے میں خون آنا، بار بار قے ہونا، نگلنے میں مشکل، پیٹ میں شدید درد، خون کی کمی یا رفع حاجت کے معمول میں نمایاں تبدیلی جیسی علامات کو صرف ذہنی دباؤ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ذہنی دباؤ کو کم کرنا معدے کی صحت بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ کھانے کے اوقات مقرر رکھنا، مناسب نیند لینا، متوازن غذا استعمال کرنا اور باقاعدگی سے جسمانی سرگرمی کرنا ہاضمے کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ روزانہ چہل قدمی، سانس کی مشقیں، یوگا، کچھ وقت قدرتی ماحول میں گزارنا اور اپنے لیے پرسکون وقت نکالنا بھی ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ مجموعی طور پر دماغ اور معدے کے درمیان تعلق کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن مسلسل یا غیر معمولی علامات کی صورت میں طبی مشورہ لینا زیادہ اہم ہے۔



