81.5 F
Pakistan
Friday, July 17, 2026
HomePoliticsدو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

عجوبوں کی دنیا میں ہمارا نمبر پہلا ہے۔مجال ہے کوئی ملک اس معاملے میں ہماری ہمسری کر سکے۔ میرے بڑے بھائی رائے محمد فاروق نے جب سے یہ خبر سنی ہے کہ اسلام آبادکے سوہان قبرستان کی دو سو قبروں کو دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہے کیونکہ ان قبروں کی جگہ پر ایک راستہ نکالنا ہے جو سوہان کو گلبرگ گرین سے ملائے گا وہ انگشت بدنداں ہیں وہ چونکہ کینیڈا کے شہری ہیں اور وینکور میں زندگی گزار چکے ہیں اِسلئے اُنہیں یہ بات عجوبہ نظر آ رہی ہے انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ وینکور میں ایک سڑک بنانا تھی، مگر اس سڑک پر پیپل کے دو بڑے درخت راستے میں آتے تھے وہاں جب یہ تجویز آئی کہ اِن درختوں کو کاٹ دیا جائے تو ایک طوفان برپا ہو گیا۔لوگوں کی حد درجہ مخالفت کے بعد ان درختوں کو وہیں رہنا دیا گیا اور راستہ بدل دیا۔اس کی وجہ سے دو کلو میٹر زیادہ سڑک بنانا پڑی، مگر بنائی گئی اور وہ درخت بچا لئے گئے۔ہمارے ہاں اول تو درختوں کے قتل ِ عام کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا، لاہور جیسے شہر میں بھی سنگدل افسر صاحبان کسی سڑک کو بنانے کیلئے گھنے اور پرانے درختوں کے گلے کاٹ دیتے ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے درخت ہی تو ہیں اور لگا دیں گے اور اُگا دیں گے۔صاحبو! یہ بات تو ہضم ہوتی رہی ہے مگر یہ سی ڈی اے کو کیا سوجھی کہ دو سو قبروں کو اکھاڑنے کا منصوبہ لے آیا۔ہمارے ایک پروفیسر دوست کہا کرتے تھے، انسانی جسم ایک کرائے کا مکان ہے جس میں روح قیام کرتی ہے روح کے جاتے ہی اس مکان کو دفنا دیا جاتا ہے کیونکہ یہ کسی اور کو کرائے پر نہیں دیا جا سکتا، اس کا آخری ٹھکانہ قبر ہوتی ہے جہاں سے اُسے یوم حشر اُٹھایا جائے گا۔ میں نے ایک دو ویڈیو دیکھی ہیں جن میں سی ڈی اے کے اہلکار قبروں کے کتبے اور تعویز اکھاڑ کر دوسری جگہ لے جا رہے ہیں کیا قبر صرف ایک سنگ و خشت کا جہاں ہوتی ہے؟ جس کا پتھر اکھاڑ کر جہاں چاہو لگا دو۔یہ کسی انسان کا مسکن ہوتی ہے اسلئے قبروں کی حرمت کا خیال رکھنے کی اسلام میں تلقین کی گئی ہے۔ یہ منصوبہ ساز بھی بہت ظالم ہیں جو ان کے من میں آ جائے کر گزرتے ہیں اُس وقت انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا ہاں آگے چل کر وہ اگر تاریخ کے ہیر پھیر میں آ جائیں تو تاریخ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ انہوں نے اچھا کام کیا یا بڑے ظلم کے مرتکب ہوئے۔اس حوالے سے حالیہ دِنوں میں دو مثالیں سامنے آ چکی ہیں۔وفاقی آئینی عدالت نے کراچی کے نسلا ٹاور اور اسلام آباد کے منال ریسٹورنٹ کو گرانے والے سپریم کورٹ کے دیئے گئے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا۔ اربوں روپے کا نقصان اِن فیصلوں کی وجہ سے ہوا۔ کراچی کے نسلا ٹاور میں سفید پوش لوگوں کے گھر اور فلیئٹس تھے جن سے انہیں محروم کر دیا گیا، فیصلہ کرنے والے اُس وقت کے جج نجانے کس ترنگ میں تھے وہ فیصلہ کر کے چلے گئے۔اب اُن کا فیصلہ کالعدم تو ہو گیا ہے مگر اُس نقصان کا ازالہ کیسے ہو گا جو ہو چکا ہے اتنے بڑے فیصلے کس آسانی سے کر دیئے جاتے ہیں،کچھ عرصہ پہلے سی ڈی اے نے بری امام کے علاقے میں کئی بستیاں بلڈوز کر دیں۔ مکینوں کا کہنا تھا چالیس سال سے وہاں رہ رہے تھے کئی ایک کے پاس کاغذات بھی تھے مگر جب فیصلہ کرنے والے خود سر ہو جائیں تو اُنہیں کون روک سکتا ہے۔ آج وہ سینکڑوں گھرانے نجانے کہاں در بدر پھر رہے ہیں۔ شیخوپورہ: جائیداد کے تنازع پر باپ کی فائرنگ سے بیٹا جاں بحق، بہو زخمی ہو گئی تاہم یہ سوہان قبرستان والا سی ڈی اے کا فیصلہ کچھ ہضم نہیں ہو رہا۔عام حالات میں کسی قبرستان کا حکم عدالت سے لیا جاتا ہے۔ قبر ایک دن کی ہو یا سو سال کی اُس کی حرمت کو ہر قیمت مدنظر رکھا جاتا ہے۔سی ڈی اے کے وہ کون افسر ہیں جنہوں نے سڑک بنانے کیلئے قبرستان کی زمین پر شب خون مارنے کا فیصلہ کیا۔ دو سو قبریں دوسری جگہ منتقل کی جائیں گی، کیا اس میں قانونی تقاضے پورے کئے جائیں گے، کیا قبروں کے ساتھ اُن میں دفن انسانوں کی باقیات کو بھی نئی قبروں میں منتقل کیا جائے گا؟اگر صرف کتبے اور پتھر منتقل کر کے قبروں کی زمین کو صاف کر دینا ہے تو پھر اِس سے بڑا ظلم کیا ہو سکتا ہے کہ آپ اُس جگہ کا نام و نشان مٹا دیں جہاں لوگوں نے اپنے پیاروں کو دفن کیا تھا اور اُن کے جسد ِ خاکی اب بھی اس زمین میں موجود ہوں گے۔میرے خیال میں وفاقی دارالحکومت کے بارے میں ایسے فیصلے کرتے ہوئے سی ڈی اے کے افسروں کو کلی اختیار نہیں دینا چاہئے بلکہ اس کیلئے پارلیمنٹ کو آگاہ کیا جائے، کمیٹی بنا کے اُس کی منظوری لی جائے۔یہ معاملہ تو ویسے بھی حساس نوعیت کا ہے۔ اس پر علمائے کرائم کی رائے بھی لی جانی چاہئے کہ قبروں کی منتقلی بارے اسلام کے کیا احکامات ہیں اور اس حوالے سے کن باتوں کو پیش ِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ پاکستان کی سوڈان میں جاری جنگی مظالم کی شدید مذمت، جنگی جرائم پر احتساب کا مطالبہ ایک شخص رو رو کر دہائی دے رہا تھا کہ میرے والدین اور دو بچوں کی قبریں سوہان قبرستان میں موجود ہیں یہ ہماری یادوں اور زندگی کا اثاثہ ہیں یہ جس جگہ ہیں اسی جگہ رہنا چاہئیں۔ اس زمین پر اُن مرنے والوں کا حق بھی اتنا ہی ہے جتنا زندہ لوگوں کا ہے۔ وہ کہہ رہا تھا ہم نے مر کے بھی چین نہ پایا تو سنا تھا، آج دیکھ بھی رہے ہیں۔ میانی صاحب کے قبرستان ہی کو لے لیں، اب اگر ایل ڈی اے کے کسی افسر کا دماغ گھومے اور ہ کہے اس قبرستان سے سڑک نکال کے لاہور میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کیا جا سکتا ہے تو اہل لاہور اُسے جوتے ماریں گے کیونکہ ٹریفک سے زیادہ ان قبرستانوں کی اہمیت ہے، جن میں ہمارے آباؤاجداد دفن ہیں اور ہماری دعاؤں کا مرکز اور یادوں کا خزینہ ہیں مگر سی ڈی اے والے نجانے کس پتھر دِل کے مالک ہیں انہیں لوگوں کے جذبات کی پروا ہی نہیں ہے،وہ قبروں کو ایسے منتقل کر رہے ہیں جیسے پیرا فورس والے سڑکوں سے سامان اٹھا کے ٹرک میں ڈالتے ہیں اس کی باتوں میں سچائی تھی، معاملہ صرف دو سو قبروں کا نہیں، دو سو بلکہ اُس سے بھی زیادہ گھرانوں کا ہے جن کی نیندیں اِس فیصلے سے اُڑ چکی ہیں۔ میرے خیال میں اس معاملے کو فوری طور پر روک کر وزیراعظم ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائیں جو اس امر کا جائزہ لے کہ اگر سوہان کو گلبرگ گرین سے ملانا مقصود ہے تو اس کیلئے اوور ہیڈ بریج یا کسی دوسرے راستے کا انتخاب نہیں کیا جا سکتا۔ قبرستانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُن کیلئے ایک بار زمین مختص ہو جائے تو اُس میں مداخلت نہیں کی جا سکتی بلکہ اُس کی حفاظت کی جاتی ہے۔ کیا سی ڈی اے کے افسروں کو معلوم نہیں یہاں سوہان قبرستان ہے۔ ایران کے خلاف حملوں کی تازہ لہر مکمل ہو گئی: سینٹکام ٭٭٭٭٭

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments