86.7 F
Pakistan
Wednesday, July 29, 2026
HomeHealthدو تین اچھی باتوں سے بھی مریض ٹھیک ہوسکتا ہے

دو تین اچھی باتوں سے بھی مریض ٹھیک ہوسکتا ہے

ہم اپنی جسمانی صحت کے اتنے فکر مند ہیں کہ سوئی چبھنے پر بھی ہم فوری طور پر ڈاکٹر یا قریبی ہیلتھ کیئر سینٹر کا رخ کرتے ہیں لیکن ذہنی صحت کے بارے میں خود کو اس لیے لاعلم رکھتے ہیں کہ معاشرہ کیا کہے گا، لیکن اس مرض کا علاج لاکھوں روپے کی ادویات اور ٹیسٹ کی بجائے باتوں سے ہوسکتا ہے۔ ذہنی صحت ایک ایسا مسئلہ ہے جیسے اگر کوئی طالب علم اپنے سمسٹر کی فیس بروقت ادا نہ کرے تو مقررہ تاریخ گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر دن اس پر لیٹ فیس میں اضافہ ہوتا جائے گا اور آخرکار اسے کئی گنا زیادہ فیس ادا کرنا پڑے گی۔ اسی طرح اگر ہم اپنی ذہنی صحت کے مسائل کی بروقت تشخیص نہیں کروائیں گے تو ان کے علاج میں بھی اتنی ہی زیادہ دیر اور پیسہ لگے گا۔ ایک ریسرچ کے مطابق اس وقت پاکستان میں تقریباً اڑھائی کروڑ افراد مخلتف ذہنی مسائل جیسے کہ سٹریس یا ذہنی دباؤ، انزائٹی اور ڈپریشن کے شکار ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ذہنی صحت کے لیے بجٹ صرف 2. 4 ارب روپے مختص ہے۔ جس طرح انسان کے لیے جسمانی طور پر صحت مند رہنا ضروری ہے، اسی طرح ذہنی صحت بھی ایک حقیقت ہے۔ مگر ہم معاشرتی رویوں کی وجہ سے اسے نظر انداز کر کے خود کو بڑی سے بڑی جسمانی اور ذہنی بیماریوں کی جانب دھکیل دیتے ہیں۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کو اصل میں ذہنی صحت کے مسائل ہوتے ہیں، مگر وہ جسمانی بیماری سمجھ کر مختلف ڈاکٹروں کے چکر لگاتا رہتا ہے اور خود کو مزید تھکا دیتا ہے۔ دوسری طرف وہ سائیکاٹرسٹ کے پاس جا کر اپنے مرض کی تشخیص کروانے کو معیوب سمجھتا ہے۔ اگر وہ بروقت اس سماجی بندش کو نظر انداز کر کے اپنی صحت کے لیے فکر مند ہو جائے تو بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اگر ابتدائی طور پر وہ کسی سائیکاٹرسٹ کے پاس نہیں جا سکتا تو اپنے کسی قریبی دوست سے اپنا مسئلہ شیئر کرے، پھر کسی سائیکالوجسٹ سے رجوع کرے اور ان کی مدد حاصل کرے، مگر بدقسمتی سے ہم ان تمام باتوں کو باعثِ شرمندگی سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ ہی ہماری بہت بڑی غلطی ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک نوجوان، جو خود بھی ایسے مسائل کا شکار رہا، اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ وہ ایک متحرک سماجی کارکن ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب اسے محسوس ہوا کہ وہ پہلے جیسا صحت مند محسوس نہیں کر رہا، اس کے موڈ میں تبدیلیاں آنے لگیں، لوگوں سے ملنے کا دل نہیں کرتا تھا اور وہ اپنے لیے ایک کمفرٹ زون بنانے لگا۔ وہ کہتا ہے کہ چونکہ وہ اس موضوع کو سمجھتا تھا اور جانتا تھا کہ ذہنی صحت کتنی ضروری ہے اور دنیا بھر میں لوگ اپنی ذہنی صحت کے لیے کتنے فکر مند ہوتے ہیں، اس لیے جب بھی کہیں ذہنی صحت کے موضوع پر بات ہوتی تو اسے عجیب سا محسوس ہوتا اور وہ وہاں سے اٹھ جاتا۔ ہر بات کو اپنے اوپر محسوس کرتا تھا، مگر پھر اسے احساس ہوا کہ ایسا نہیں ہے۔ ’مجھے بھی یہ ڈر تھا کہ اگر میں یہ بات ظاہر کروں تو معاشرہ اور میرے دوست کیا کہیں گے، مگر پھر میری ہمت اس لیے بڑھ گئی کیونکہ میرے کچھ دوست معالج تھے اور ذہنی صحت کے بارے میں مجھے پہلے سے کچھ نہ کچھ آگاہی بھی تھی۔ اس کے علاوہ ایک سائیکاٹرسٹ میرا قریبی دوست بھی ہے، جس سے میری بے تکلفی تھی۔‘ وہ مزید کہتے ہیں: ’مجھے یقین تھا کہ وہ میرا راز محفوظ رکھے گا۔ ویسے بھی تمام معالج اس حوالے سے مریض کے حقوق اور پرائیویسی کا خیال رکھتے ہیں۔ جب میں نے اس کے سامنے اپنا مسئلہ بیان کیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے، اس مرحلے پر ہم دوا نہیں دیتے۔ آپ کچھ ورزش کریں اور اپنی غذا میں چند تبدیلیاں لائیں۔ ویسے عام طور پر ڈاکٹروں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ہر مسئلے پر دوا دیتے ہیں، مگر ایسا نہیں ہے۔‘ اصل مسئلہ ہماری سوچ اور ذہنیت کا ہے۔ اگر ہم یہ سوچنا چھوڑ دیں کہ معاشرہ کیا سوچے گا، تو اسی دن سے ہم اپنی ذہنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے ورزش شروع کی اور ہر وقت خود کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ یہ مسئلہ صرف میرے ساتھ نہیں، بلکہ بہت سے لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں۔ غلطی ان لوگوں کی ہے جو اسے نظر انداز کرتے ہیں جبکہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے اس کا بروقت علم ہو گیا اور میں اس کی اہمیت سمجھ گیا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) لوگ جس طرح ذہنی صحت کو غلط رنگ دیتے تھے، اب میرے ذہن میں اس حوالے سے کوئی منفی سوچ نہیں رہی بلکہ میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ جس طرح ہم جسمانی صحت کے لیے فکر کرتے ہیں، اگر صرف دس فیصد بھی ذہنی صحت کے بارے میں سوچیں تو ہمارے بہت سے جسمانی مسائل بھی ختم ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے بولان میڈیکل کالج کے وائس پرنسپل اور سینیئر سائیکاٹرسٹ پروفیسر ڈاکٹر الیاس بلوچ کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں ذہنی دباؤ (Stress) ایک خاموش مگر انتہائی خطرناک مسئلہ بن چکا ہے، جو صرف انسان کی ذہنی صحت ہی نہیں بلکہ جسمانی صحت کو بھی شدید متاثر کرسکتا ہے جس کو ہم اکثر نظرانداز کرتے ہیں۔ ڈاکٹر الیاس بلوچ کے مطابق بہت سے افراد معدے کی خرابی، تیزابیت، بدہضمی، پیٹ میں درد، اپھارہ اور آنتوں کی تکالیف کی شکایت کے ساتھ ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں، لیکن متعدد مریضوں میں تمام طبی معائنے اور ٹیسٹ نارمل آتے ہیں اور معدے یا آنتوں میں کوئی واضح بیماری موجود نہیں ہوتی۔ ایسے مریضوں کی علامات کی بنیادی وجہ اکثر دائمی ذہنی دباؤ (Chronic Stress) ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جدید طبی سائنس کے مطابق دماغ اور نظامِ ہاضمہ کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے، جسے گٹ برین ایکسس (Gut-Brain Axis) کہا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار رہتا ہے تو دماغ اور آنتوں کے درمیان موجود یہ رابطہ متاثر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں معدے اور آنتوں کے افعال میں خرابی پیدا ہو سکتی ہے اور آئی بی ایس (Irritable Bowel Syndrome) سمیت متعدد مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ ڈاکٹر بلوچ کے مطابق ذہنی دباؤ کے دوران جسم میں کورٹیسول سمیت مختلف سٹریس ہارمونز خارج ہوتے ہیں، جو نظامِ ہاضمہ، دل، مدافعتی نظام اور جسم کے دیگر اہم اعضا پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بعض مریض بار بار معدے کی دوائیں استعمال کرنے کے باوجود مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہو پاتے کیونکہ ان کی اصل بیماری معدہ نہیں بلکہ ذہنی دباؤ ہوتا ہے جس کو وہ نظرانداز کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے مریض اکثر اپنی بیماری کی اصل وجہ جانے بغیر مختلف ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیں اور بار بار اینڈوسکوپی، الٹراساؤنڈ، خون کے ٹیسٹ اور دیگر مہنگے تشخیصی معائنے کرواتے رہتے ہیں۔ بیشتر صورتوں میں ان تمام رپورٹس میں کوئی بڑی جسمانی بیماری سامنے نہیں آتی، جس کے باعث نہ صرف مریض کا وقت اور پیسہ ضائع ہوتا ہے بلکہ صحت کے محدود وسائل پر بھی غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے۔ لاکھوں روپے کے ٹیسٹ کی بجائے اگر مریض ذہنی صحت اور اُس سے جُڑے مسائل کو تسلیم کریں تو پانچ سو روپے کی دوا سے بھی اس کا علاج ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر زور دیتے ہیں کہ اگر ایسے مریضوں میں ابتدائی مرحلے پر ذہنی دباؤ کی درست تشخیص کر لی جائے اور انہیں مناسب کونسلنگ، دو تین اچھی باتیں بتانا، ذہنی معاونت، صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا، مناسب نیند، باقاعدہ ورزش اور ضرورت پڑنے پر ادویات فراہم کی جائیں تو نہ صرف مریض کی علامات میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے بلکہ غیر ضروری ٹیسٹوں، اخراجات اور بار بار ہسپتالوں کے چکر لگانے سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی دباؤ کو معمولی مسئلہ سمجھنے کی بجائے ہمیں یہ قبول کرنا ہوگا کہ اسے ایک سنجیدہ طبی مسئلہ تصور کرنا چاہیے کیونکہ اگر اسے بروقت نظر انداز کیا جائے تو یہ دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، معدے اور آنتوں کی بیماریوں، بے خوابی، اضطراب اور ڈپریشن سمیت کئی دائمی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ جسمانی علامات کے ساتھ ساتھ اپنی ذہنی صحت کا بھی خیال رکھیں اور مسلسل ذہنی دباؤ کی صورت میں بروقت طبی مشورہ حاصل کریں تاکہ بیماری کی اصل وجہ کا علاج ممکن ہو سکے۔ اس بارے میں تربت سے تعلق رکھنے والی مینٹل ہیلتھ کے حوالے سے آگہی پیدا کرنے والی کلینیکل سائیکولوجسٹ اور ’روانِ سحر‘ کی بانی آصفہ فقیر کا کہنا ہے کہ ’مینٹل ہیلتھ ہمارے جذبات، احساسات اور روزمرہ زندگی کے ہر عمل اور ردِعمل کا نام ہے۔ یہ ہماری سوشل، ایموشنل اور سائیکالوجیکل ویل بینگ پر مشتمل ہوتی ہے۔ سائیکالوجیکل پہلو یہ ہے کہ ہم کسی مسئلے کا سامنا کس طرح کرتے ہیں اور اس پر کس طرح ردِعمل دیتے ہیں، جبکہ سوشل پہلو یہ ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں معاشرے کے ساتھ کس طرح تعامل کرتے ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر ہماری ذہنی صحت تشکیل دیتے ہیں۔ ’اگر کسی کو ذہنی صحت کا مسئلہ لاحق ہو تو ابتدائی طور پر وہ اس کی علامات کو نہیں پہچانتا۔ وہ انہیں موسمی تبدیلی، تھکن یا وقتی دباؤ کا نام دے کر نظر انداز کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر روزمرہ کے کاموں میں عدم دلچسپی، لوگوں سے الگ تھلگ رہنا، ہر وقت تنہائی پسند کرنا اور سماجی سرگرمیوں سے دوری اختیار کرنا یا پہلے جیسے اپنے کاموں میں کم دلچسپی ظاہر کرنا اس کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔ آصفہ کہتی ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ان مسائل کو اب بھی سٹیگما (Stigma) سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص مینٹل ہیلتھ پریکٹشنر کے پاس جائے یا اپنے کسی قریبی دوست سے شیئر کرے تو اسے پاگل کا لیبل لگایا جاتا ہے، اسی لیبلنگ اور ڈر کی وجہ کہ ’معاشرہ کیا سوچے گا‘ لوگوں کو اپنے معالج کے پاس جانے سے روکتا ہے۔ دوسری جانب اس پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں ذہنی صحت کے حوالے سے مناسب آگاہی موجود نہیں۔ ایک پڑھے لکھے پروفیسر یا آفیسر کو اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ ذہنی صحت، اینزائٹی اور ڈپریشن کی ابتدائی علامات کیا ہوتی ہیں اور اسے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا بیٹا یا بیٹی ان مسائل کا سامنا کر رہا یا رہی ہے، مگر وہ بھی معاشرے کے اسی دھبے کی وجہ سے اس مسئلے کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اگر پڑھے لکھے افراد بھی اسے نظر انداز کریں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ناخواندہ افراد جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ ذہنی مسائل کا کس حد تک شکار ہوتے ہوں گے۔ ذہنی دباؤ ذہنی صحت اصل مسئلہ ہماری سوچ اور ذہنیت کا ہے۔ اگر ہم یہ سوچنا چھوڑ دیں کہ معاشرہ کیا سوچے گا، تو اسی دن سے ہم اپنی ذہنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ گہرام اسلم بلوچ بدھ, جولائی 29, 2026 – 07: 00 Main image:

اگر پڑھے لکھے افراد بھی ذہنی صحت کو نظر انداز کریں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ناخواندہ افراد ذہنی مسائل کا کس حد تک شکار ہوتے ہوں گے (اینواتو)

صحت type: news related nodes: لاہور یونیورسٹیوں میں خودکشی کی کوششیں، ذہنی صحت پر بحث ہفتے میں 4 دن کام ذہنی صحت کے لیے بہتر: محققین متفق CES 2025: اس سال اے آئی اور ذہنی صحت مرکزِ توجہ بچوں کی ذہنی صحت کے مسائل، والدین کا کرب؟ SEO Title: دو تین اچھی باتوں سے بھی مریض ٹھیک ہوسکتا ہے copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments