اسلام آباد کی فضائیں ان دنوں عجیب تضاد کا نوحہ سنا رہی ہیں۔ ایک طرف شاہراہ دستور پر واقع ’ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو‘ کی بلند و بالا عمارت ہے جس کے شیشے سورج کی روشنی میں اشرافیہ کے رعب و دبدبے کی گواہی دیتے ہیں اور دوسری طرف اسی شہر کے مضافات میں بکھرا وہ ملبہ جو کبھی غریب کی چھت ہوا کرتا تھا۔ یہ صرف زمین کے قبضے یا لیز کا جھگڑا نہیں، یہ اس دو عملی اور طبقاتی خلیج کی داستان ہے جس نے اس ملک کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ ایک وہ جہاں قانون موم کی ناک بن جاتا ہے اور دوسرا وہ جہاں قانون بلڈوزر بن کر غریب کی بستی روند ڈالتا ہے۔ یکم مئی کی صبح سے سوشل میڈیا کے در و دیوار ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے حق میں بلند ہونے والی آوازوں سے لرز رہے ہیں۔ ہر بڑا صحافی، ہر بااثر انفلوئنسر پریشان ہے کہ ہائے! ان عالی شان اپارٹمنٹس میں رہنے والے ججز، جرنیلوں، سیاست دانوں اور بزنس ٹائیکونز کا کیا ہوگا؟ شہری انتظامیہ یعنی کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے جب وہاں آپریشن شروع کیا تو انسانی ہمدردی کے چشمے ابل پڑے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کمال پھرتی دکھائی اور فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے آپریشن رکوا دیا۔ دلیل یہ دی گئی کہ وہاں ’خاندان اور بچے‘ رہتے ہیں، ان کا موقف سن کر فیصلہ کیا جائے گا۔ لیکن جنابِ وزیراعظم! ذرا رکیے اور بتائیے کہ کیا مسلم آباد، بری امام اور رمشا کالونی میں انسان نہیں بستے تھے؟ کیا وہاں کوئی خاندان اور بچہ نہیں رویا تھا؟ جب 46 سالہ نرگس بی بی کے کانوں میں بلڈوزر کی گرج پڑی تو وہ یہ صدمہ نہ سہہ سکی۔ وہ عورت جو اپنے خاندان کے لیے ناشتہ بنا رہی تھی، ایک پل میں مفلوج ہو کر ہسپتال کے آئی سی یو پہنچ گئی۔ اس کا بیٹا نعمان نثار آج اپنی ماں کی زندگی کی بھیک مانگ رہا ہے اور پیچھے اس کا مکان اور دکان مٹی کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ کیا نرگس بی بی کا صدمہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے مکینوں کے خدشات سے کم تھا؟ یہ کیسا انصاف ہے کہ جس ٹاور نے 2005 سے اب تک 84 فیصد رقم ادا نہیں کی، اس کی ڈھال ریاست بنتی ہے لیکن روبینہ سلیم اور یاسمین بی بی جیسی بیوائیں، جو لوگوں کے گھروں میں برتن دھو کر ایک، ایک روپیہ جوڑتی رہیں، اس کے لیے ریاست ’تجاوزات‘ کا تازیانہ لے کر پہنچ جاتی ہے۔ یاسمین نے اینٹ در اینٹ اپنا ایک کمرہ کھڑا کیا تھا لیکن آج وہ کھلے آسمان تلے بیٹھی یہ سوال کر رہی ہے کہ کیا اس ملک میں غریب کی کوئی وقعت ہے؟ یہ وہی لوگ ہیں جو ان بنگلوں میں جھاڑو دیتے ہیں، ان کی گاڑیاں دھوتے ہیں اور اس شہر کی رونقوں کو اپنے پسینے سے سینچتے ہیں۔ سی ڈی اے کا اپنا ایک موقف ہے۔ ڈائریکٹر میونسپل ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر انعم فاطمہ کہتی ہیں کہ یہ لوگ قابضین ہیں اور زمین سرکاری ہے۔ ان کے بقول 2002 میں ان لوگوں کو معاوضے اور متبادل پلاٹ دیے گئے تھے، لیکن ’نفاذ کی ناکامی‘ کی وجہ سے بستیاں دوبارہ آباد ہو گئیں۔ سی ڈی اے کا دعویٰ ہے کہ آپریشن سے پہلے نوٹس دیے گئے اور یہ کارروائی سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کی جا رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو مظفر حسین شاہ جیسے لوگ کیوں دربدر ہیں؟ وہ شخص جو مسلم آباد نامی بستی میں پیدا ہوا جس کے بڑوں نے اسلام آباد کی بنیادیں رکھی تھیں، آج وہی ’غیر قانونی‘ قرار دے دیا گیا۔ وہ ملبے سے اینٹیں چنتے ہوئے پوچھتا ہے کہ کیا شہر بنانے کا یہی صلہ ملنا تھا؟ اس کے بچے روات میں کسی رشتہ دار کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہیں مگر کب تک؟ کہتے ہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ اسلام آباد میں یہ محاورہ حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہا ہے۔ اگر آپ صاحبِ حیثیت ہیں تو آپ کے لیے پالیسیاں بھی بدلیں گی، کمیٹیاں بھی بنیں گی اور وزیراعظم خود آپریشن رکوا دیں گے۔ لیکن اگر آپ خرم مسیح ہیں، جسے ریاست نے رمشا میسح کیس کے دوران خود 2012 میں مہرآباد سے اٹھا کر ایچ نائن کی رمشا کالونی میں بٹھایا تھا تو آج وہی ریاست آپ کو تجاوزات کہہ کر بے دخل کر دے گی۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) خرم مسیح ٹھیک کہتا ہے کہ ’ہمارے پاس اب نیلے آسمان کے سوا کوئی چھت نہیں بچی۔‘ وزیراعظم صاحب کا آپریشن روکنے کا فیصلہ خوش آئند سہی لیکن اگر یہ صرف اشرافیہ کے مہنگے ٹاور تک محدود ہے تو یہ انصاف نہیں، استحصال ہے۔ اگر ریاست کو پالیسی واضح کرنی ہے تو وہ سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ نرگس بی بی کے مکان کے گرنے سے پہلے بھی کوئی کمیٹی بنتی۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان کچی بستیوں کے مکینوں کو بھی وہی رعایت ملتی جو شاہراہ دستور کے نادہندگان کو مل رہی ہے۔ اسلام آباد کی چمک دمک کے پیچھے چھپی یہ سسکیاں اب صدا بن رہی ہیں۔ یاد رکھیے، جب ریاست اپنے شہریوں کو طبقات میں بانٹ دیتی ہے تو پھر معاشرے میں توازن نہیں، بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ آج کا سوال صرف زمین کا نہیں بلکہ اس سماجی معاہدے کا ہے جو ریاست نے اپنے عوام کے ساتھ کر رکھا ہے۔ اگر غریب کی چار دیواری محفوظ نہیں، تو پھر کوئی ٹاور بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ اسلام آباد غریبوں کے لیے بنا ہی نہیں تھا۔ اسی لیے اس پر اس کی زمین زیادہ تنگ ہے۔ صحافتی اصول تقاضا کرتے ہیں کہ سچ بولا جائے اور سچ یہی ہے کہ اس شہر میں قانون غریب کے لیے مکڑی کا جالا ہے اور امیر کے لیے ’پھولوں کی سیج‘۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم کچی آبادیوں کے ملبے پر کھڑے ہو کر ان ایوانوں سے پوچھیں، کیا ہم سب ایک ہی ملک کے شہری ہیں یا یہاں دو پاکستان آباد ہیں؟ نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اسلام آباد تجاوزات شہباز شریف سی ڈی اے ریاست اپنے شہریوں کو طبقات میں بانٹ دے تو پھر معاشرے میں توازن نہیں، بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ آج کا سوال صرف زمین کا نہیں بلکہ اس سماجی معاہدے کا ہے جو ریاست نے اپنے عوام کے ساتھ کر رکھا ہے۔ نعمت خان اتوار, مئی 3, 2026 – 07: 00 Main image:
اس شہر میں قانون غریب کے لیے مکڑی کا جالا ہے اور امیر کے لیے ’پھولوں کی سیج‘۔ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو سے انخلا جبکہ مسلم کالونی کا ملبہ (انڈپینڈنٹ اردو)
بلاگ type: news related nodes: اسلام آباد سے بمبئی تک: کچی آبادیوں کے خواب کیسے ڈمپ کیے جاتے ہیں؟ اسلام آباد کی ’کچی آبادی‘ میں رہنے والی لڑکیوں کے کرکٹ مقابلے اسلام آباد کے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کو کیوں خالی کروایا جا رہا ہے؟ مسلم کالونی میں آپریشن: اسلام آباد میں شہری منصوبہ بندی اور ریاستی ذمہ داریوں پر سوالات SEO Title: دو اسلام آباد، دو پاکستان؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage



