حمل کے دوران بعض خواتین کو باتیں بھولنے، چیزیں کہیں رکھ کر یاد نہ رہنے یا کسی کام پر توجہ دینے میں مشکل پیش آتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی خاتون کسی کمرے میں جائے اور وہاں پہنچ کر بھول جائے کہ وہ کس کام سے آئی تھی۔ کبھی چابیاں یا کوئی دوسری چیز رکھ کر یاد نہیں رہتا کہ کہاں رکھی تھی۔ اس کیفیت کو عام طور پر ’ممی برین‘، ’پریگنینسی برین‘ یا ’موم نیشیا‘ کہا جاتا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اب سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں اس کیفیت کی ممکنہ وجہ کے بارے میں اہم سراغ تلاش کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق حمل کے دوران جسم میں ایسٹروجن نامی ہارمون کی مقدار بہت بڑھ جاتی ہے اور اس کا اثر دماغ کے ان حصوں کے درمیان رابطے پر پڑ سکتا ہے جو یادداشت سے متعلق ہیں۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے ’سائنس بلیٹن‘ میں شائع ہوئی۔ سائنسدانوں نے پہلے چوہوں پر تجربات کیے۔ ان میں حمل کے دوران ہونے والی ایسٹروجن کی زیادہ مقدار جیسی صورتحال پیدا کی گئی۔ تجربات سے معلوم ہوا کہ ایسٹروجن کی زیادہ مقدار سے چوہوں کی یادداشت عارضی طور پر متاثر ہوئی۔ محققین نے اس دوران دماغ کے دو اہم حصوں پر توجہ دی۔ ایک ہائپوتھیلمس ہے جو جسم کے کئی اہم کاموں کو کنٹرول کرتا ہے، جبکہ دوسرا ہپوکیمپس ہے جو یادداشت بنانے اور معلومات کو یاد رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق حمل کے دوران ایسٹروجن کی مقدار خاص طور پر آخری تین ماہ میں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ زیادہ ایسٹروجن ہائپوتھیلمس میں موجود کچھ مخصوص خلیوں کو زیادہ فعال کرسکتا ہے۔ یہ خلیے ہپوکیمپس کی سرگرمی کو متاثر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں یادداشت کے کچھ کام کمزور پڑ سکتے ہیں۔ تجربات میں سائنسدانوں نے دماغ کے ہائپوتھیلمس اور ہپوکیمپس کے درمیان موجود اس رابطے کو بند کیا تو چوہوں کی یادداشت میں بہتری دیکھی گئی۔ اس کے برعکس جب اسی راستے کو مصنوعی طور پر فعال کیا گیا تو چوہوں کی یادداشت دوبارہ متاثر ہوئی، حتیٰ کہ اس وقت ایسٹروجن کی مقدار زیادہ نہیں تھی۔ محققین نے یہ بھی دیکھا کہ ہائپوتھیلمس کے مخصوص خلیوں میں ایسٹروجن کو پہچاننے والے ریسیپٹرز ختم کرنے سے چوہوں میں ایسٹروجن اور حمل سے منسلک یادداشت کی خرابی ختم ہوگئی۔ تاہم سائنسدانوں نے واضح کیا ہے کہ چوہوں پر ہونے والے تجربات کو براہ راست انسانوں پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے تحقیق میں خواتین کی یادداشت بھی جانچی گئی۔ اس مقصد کے لیے 70 خواتین کی یادداشت کے مختلف ٹیسٹ کیے گئے۔ ان میں حاملہ اور غیر حاملہ خواتین شامل تھیں۔ خواتین کی مختصر مدت، طویل مدت اور کام کے دوران معلومات یاد رکھنے کی صلاحیت دیکھی گئی۔ نتائج میں معلوم ہوا کہ حمل کے آخری مرحلے میں یادداشت کے کچھ مخصوص ٹیسٹوں میں خواتین کی کارکردگی کم ہوئی۔ خون میں ایسٹروجن کی زیادہ مقدار اور یادداشت کے کمزور نتائج کے درمیان بھی تعلق دیکھا گیا۔ ۔ تحقیق کے ایک اہم محقق ڈاکٹر ژینگ سن کے مطابق یہ کیفیت خطرناک یا ایسی بیماری نہیں جو عام طور پر خواتین کو معذور کردے، لیکن اس کا روزمرہ زندگی اور خود اعتمادی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کسی کمرے میں جاکر مقصد بھول جانا، چیز غلط جگہ رکھ دینا، بات کرتے ہوئے اچانک سلسلہ ٹوٹ جانا یا ملاقاتوں کے لیے بار بار یاد دہانی لگانا اس کی عام مثالیں ہیں۔ ایک اور محقق ڈاکٹر یانلن ہی نے کہا کہ حمل خواتین کو ’کم ذہین‘ نہیں بناتا۔ ان کے مطابق حمل کے دوران ذہنی صلاحیت کے کچھ مخصوص کام متاثر ہوسکتے ہیں، جبکہ یہ مجموعی ذہانت میں کمی نہیں ہوتی۔ محققین کے مطابق تقریباً 80 فیصد حاملہ خواتین ایسی ذہنی تبدیلیاں محسوس کرنے کی بات کرتی ہیں، تاہم یہ تعداد زیادہ تر خواتین کے ذاتی تجربات پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خاتون میں طبی ٹیسٹ کے ذریعے یادداشت کی خرابی ثابت ہوئی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ حمل کے دوران ہونے والی یہ تبدیلیاں عموماً عارضی ہوتی ہیں۔ تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد ملی ہے کہ حمل کے دوران بڑھنے والا ایسٹروجن دماغ کے ایک مخصوص راستے پر اثر ڈال کر یادداشت کے بعض کاموں کو متاثر کرسکتا ہے۔ تاہم انسانوں میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہی دماغی راستہ براہ راست یادداشت کی خرابی کا سبب بنتا ہے۔ خواتین میں ہونے والی تحقیق نے صرف ایسٹروجن کی زیادہ مقدار اور یادداشت میں تبدیلی کے درمیان تعلق دکھایا ہے، اس لیے اس معاملے کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔



